• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انتخابی اصلاحات، منظور قوانین واپس نہیں لیے جاسکتے، حکومت

اسلام آباد ( نمائندہ جنگ، ایجنسیاں) مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان اور وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا ہے کہ دو ایام میں قومی اسمبلی میں پاس ہونے والے قوانین واپس نہیں لیے جاسکتے، تمام رولز اور پراسیس کو مکمل کرنے کے بعد یہ قوانین ایوان بالا بھیج دیئے گئے ہیں۔

اپوزیشن کو صرف این آر او بل میں دلچسپی ہے، جو نہیں ملنے والا، مثیاق جمہوریت میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی سینیٹ کے الیکشن اوپن بیلٹ سے کرانے پر اتفاق کرتے ہیں لیکن 10سالوں کے دوران اس پر عملدرآمد نہیں کیا، سپریم کورٹ کے الیکشن اصلاحات اور بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کیلئے چار فیصلے ہیں،حکومت نے اس پر عمل کیا ہے، الیکٹرانک ووٹنگ مشین تیاری کے آخری مراحل میں ہیں۔ 

وہ جمعہ کو ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا کہ انتخابی اصلاحات پر بل پاس ہوا ہے اس پر اپوزیشن کا رویہ افسوسناک رہا، کسی بھی ملک کی مضبوط جمہوریت کی بنیاد صاف اور شفاف انتخابات پر ہوتی ہے۔ 

انہوں نے کہاکہ 2013کے الیکشن میں پیپلز پارٹی، جے یو ائی سمیت تمام پارٹیوں کا اعتراضات تھے، پی ٹی آئی نے بھی اس پر بھرپور آواز بلند کی۔ انہوں نے کہا کہ 2019،2020سے پڑے ہوئے بل کو پراسیس کے ذریعے پاس کرائے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ حکومت نے سینئر سیاستدانوں، اسپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن سے رابطہ کیا لیکن اپوزیشن کا رویہ عدم تعاون تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پارلیمنٹ کے فورم کا درس دینے والے آج اداروں میں جانے کو ترجیح دے رہے ہیں،صاف اور شفاف انتخابات ضروری ہیں۔

اوورسیزپاکستانیوں نے پہلے 11ماہ میں 45سو ارب پاکستان بھیجا ہے،اوورسیز کے حوالے سے اپوزیشن کا عمل غیر مناسب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ کے وزراء نے اپنے ادوار میں اقامے لے کے رکھے تھے انھیں اووسیز پاکستانیوں پر اعتراض سے قبل اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔

مشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ پچھلے دو، تین دن میں ایسی ڈویلپمنٹ ہوئی ہے جن کے بارے میں عمران خان اور حکومت کا موقف قوم کے سامنے رکھنا بہت ضروری ہے، پاکستان کی تاریخ میں ایک ریکارڈ بنا،ایک دن میں 12بل اور دوسرے دن 21قانون پاس کیے۔

خواتین کیساتھ ظلم کیخلاف، بیرون ملک پاکستانیوں جو اصل محسن ہے سے متعلق بل بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کسی نے نہیں سوچا کہ انھیں ووٹ کا حق اور اقتدار میں ساتھ ملایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں سپیکر، ڈپٹی سپیکر، پارلیمانی کمیٹیوں کا بائیکاٹ اپوزیشن نے کیا، یہ تاریخ میں پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے۔

حکومت نے رولزکے مطابق کمیٹیوں سے آنے والے بل اور رولز معطل کر کے ووٹنگ ہوئی اور قانون پاس ہوئے، اپوزیشن نے تین مرتبہ کورم کی نشاندہی کی اور اپوزیشن کے کہنے پر دوبارہ ووٹنگ کرائی گئی،الیکٹرانک ووٹنگ مشین کیلئے حکومت سنجیدہ،اسٹیٹس کو اس کو روکنا چاہتا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ جتنی بھی قانون سازی ہوئی ہے وہ آئین کے مطابق ہے، رولز کے مطابق پریذائیڈنگ افسر کے فیصلے درست ہیں،یہ بل واپس نہیں لئے جاسکتے۔ 

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پریس ریلیز کے ذریعے انتخابی اصلاحات پر اعتراضات ظاہر کیے ہیں، کیا یہ اچھا ہوتا حکومت سے بات کرتے، بات نہ بنے تو پھر عوام یا میڈیا میں جاتے، بات چیت کادروازہ کبھی بند نہیں کرتے، اس پریس ریلیزکے بعد بھی دروازہ کھلا ہے، موقف سن سکتے ہیں،بنیادی حقوق کیخلاف قانون کو چیلنج کیا جاسکتا ہے،قانون سازی کا مینڈیٹ صرف پارلیمنٹ کو ہی حاصل ہے۔

اہم خبریں سے مزید