• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خیبرپختونخوا بجٹ، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، پنشن میں 10 فیصد اضافہ، چھوٹے کاشتکاروں کا ٹیکس ختم

پشاور( گلزار محمد خان )خیبر پختونخوا حکومت نے آئندہ مالی سال 2021-22کیلئے 11 کھرب 18ارب30کروڑ روپے کا متوازن بجٹ پیش کردیا ہے جس میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئے371ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، صوبہ کے بندوبستی اضلاع میں ترقیاتی کاموں پر270ارب70کروڑ جبکہ قبائلی اضلاع کی تعمیر و ترقی پر100 ارب 30کروڑ روپے خرچ ہوں گے،کم از کم اجرت 21 ہزار، بیوائوں کی پنشن میں 100 فیصد اضافہ، تمام پیشوں پر پروفیشنل ٹیکس ختم ، چھوٹی گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس ایک روپیہ مقرر ، آئندہ مالی سال کے دوران اخراجات کا کل تخمینہ بھی 11کھرب 18ارب3کروڑ روپے لگایا گیا ہے، بجٹ میں صوبہ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں10فیصد اضافہ کیا گیا ہے ،تمام سرکاری ملازمین کیلئے 10فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس، سرکاری رہائش سے مستفید نہ ہونے والے سرکاری ملازمین کے ہاؤس رینٹ میں کم از کم7فیصد اضافہ، خصوصی الاؤنس نہ لینے والے تمام ملازمین کیلئے فنکشنل یا سیکٹورل الاؤنس میں20فیصد اضافہ جبکہ بیواؤں کیلئے پنشن میں100فیصد اضافہ کیا گیا ہے، سرکاری ملازمین کیلئے میڈیکل انشورنس پلان متعارف کیا جائیگا، مزدور کی کم از کم اجرت21ہزار روپے مقرر کی گئی ہے، بجٹ میں گندم پر سبسڈی کیلئے10ارب اور غریب طبقہ کو فوڈ باسکٹ کی فراہمی کیلئے10ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، صوبہ کے20ہزار آئمہ مساجد اور خطیبوں کو ماہانہ وظائف کیلئے2ارب60کروڑ روپے، چھوٹے اور متوسط درجے کے صنعت کاروں ، خواتین، اقلیتوں، نوجوانوں اور کورونا سے متاثرہ تاجروں کی معاشی بحالی کیلئے 10ارب روپے کے قرضے فراہم کئے جائیں گے، عوام کو صحت کارڈ کے ذریعے مفت علاج کی فراہمی کیلئے23ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔
پشاور سے مزید