• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پی ایس ایل چھ میں چار فرنچائزڈ بشمول اسلام آباد یونائیٹڈ، ملتان سلطانز، پشاور زلمی اور کراچی کنگز نے کولیفائرز اور الیمینیٹرز تک رسائی حاصل کرلی۔ ہفتےتک کھیلے گئے لیگ میچز کے اختتام پر مسلسل چار شکستوں کا سامنا کرنے والی ٹیم لاہور قلندرز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرپلے آف مرحلے سے باہر ہو گئی ،کراچی کنگز کے بابراعظم نے 12 چھکوں، 50 چوکوں اور 6 نصف سینچریوں کی مدد سے 10 میچ کھیل کر 501 رنز بنائے اور سب سے زیادہ رنز بنانے والوں میں سرفہرست ہیںجبکہ 9 چھکوں، 54 چوکوں اور4 نصف سینچریوں کی مدد سے 470 بناکر ملتان سلطانز کے محمد رضوان دوسرے نمبر پر ہیں۔ سرفراز احمد تیسرے نمبر پر ہیں۔ 

ایونٹ میں دو سنچری اور48نصف سنچریاں بنی ہیں، سنچری شرجیل خان اور عثمان خواجہ نے بنائی ہیں۔بابراعظم 6 نصف سینچریوں کے ساتھ سرفہرست ہیںجبکہ محمد رضوان نے 4، سرفراز احمد اور صہیب مقصود نے تین تین اورروی بوپارہ، محمد نبی،کولن منرو،شان مصعود، فخرزمان،کامران اکمل،محمد حفیظ،شرجیل خان، شعیب ملک نے دو دومرتبہ نصف سینچری اسکور کی ہیں۔ اسی طرح کرس گیل،حضرت اللہ زازئی،اسٹرلنگ،ڈےاے ملر،کلارک،کیڈمور،عثمان خواجہ، نجیب اللہ زدران،وینس،ایچڈیوڈ،عثمان خان،افتخاراحمد، آصف علی،بین ڈنک،حیدرعلی اور ردر فورڈ ایک ایک نصف سینچری بنائی ہے۔ لیگ میں 381 چھکے لگ چکے ہیں ۔

سب سے زیادہ 23 چھکے شرجیل خان نے لگائے ہیں اور 19 ردرفورڈ نے داغے ہیں۔878 چوکوں کی فہرست میں سب سے زیادہ 54 چوکے محمد رضوان اور 50 چوکے بابراعظم نے لگائے ہیں۔سیزن چھ کے لئے کھیلے گئے لیگ میچوں میں اسلام یونائیٹڈ کی ٹیم 10میں سے 8میچ جیت کر16 پوائنٹس کے ساتھ ٹاپ پر ہے۔لیگ میں1132 اوورز میں مجموعی طور پر 9869رنزبنے ہیں۔ سب سے بڑا اسکور 26ویں میچ میں اسلام آباد نے زلمی کے خلاف صرف 2 وکٹوں پر 247رنز بنائے اور 248رنز کے حدف تعاقب میں زلمی نے 6 وکٹوں کے عوض 232 رنز بنائے۔پی ایس ایل کی تاریخ کا یہ سب سے بڑا حدف تھا اور دوسری اننگز کا بھی یہ سب سے بڑا اسکور رہا۔ مجموعی طور پر 359 کھلاڑی آ ئوٹ ہوئے، صفر پر50 مرتبہ 41کھلاڑی پویلین واپس گئے جس میں موذا ربانی، پاریرا، زاہد محمود، ڈیلپورٹ،عمار وسیم، امام الحق، حیدرعلی،شعیب ملک اور سہیل اختر دو دومرتبہ صفر پر آئوٹ ہوئے۔لیگ میںکوئی بولر ہیٹ ٹرک نہ بناسکا لیکن راشد خان نے ایک اننگز میں 5 وکٹیں لینے کا اعزاز حاصل کیا ۔

سب سے زیادہ 20 وکٹ رائٹ آرم فاسٹ میڈیم بولر شاہ نواز دھانی نے حاصل کی ہیں، انہوں نے 9 میچ کھیل کر 33.2 اوورز میں273 رنز دئیے اور دو مرتبہ ایک اننگز میں 4 وکٹ لینے کا اعزاز حاصل کیا جبکہ ان کی بہترین بولنگ 5 رنز کے عوض 4 وکٹ ہے۔ شاہین شاہ آفریدی 16 اور وہاب ریاض 14 وکٹیں حاصل کرکے بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔ کراچی کنگز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے مابین کھیلے گئے میچ میں کراچی کنگز کے رائٹ آرم فاسٹ میڈیم ڈینئل کرسچن کے تیسرے اور اننگز کے آخری ( بیسویں)اوور میں32 رنز بنے جو پی ایس ایل میں ایک اوور میں سب سے زیادہ رنز دینے کا ریکارڈ ہے۔

فیلڈنگ کے دوران سب سے زیادہ 8 کیچ آئوٹ افتخار احمدنے کئے ، انہوں نے ایک میچ میں تین کیچ بھی پکڑے۔ اسی طرح وکٹ کیپنگ میں محمد رضوان نے 15 شکار کئے جس میں 14 کیچ اور ایک اسٹمپ شامل ہے، انہوں نے ایک میچ میں تین کیچ اور ایک اسٹمپ کر کے چار کھلاڑیوں کو وکٹ کے پیچھے آئوٹ کیا جو ان کی بہترین وکٹ کیپنگ ہے۔ 

سو رنز سے زائد پارٹنرشپ میںبابراعظم اور شرجیل خان کی پہلی وکٹ کی شراکت میں176 رنز، کولن منرو اورافتخاراحمد کی تیسری وکٹ کی شراکت میں 150 رنز، عثمان خواجہ اور کولن منرو کی پہلی وکٹ کی شراکت میں 137 رنز، کامران اکمل اور ڈی اے ملر کی تیسری وکٹ کی شراکت میں 125رنز، افتخار احمد اور آصف علی کی چھٹی وکٹ کی شراکت میں 123 رنز، فخرزمان اور بین ڈنک کی چوتھی وکٹ کی شراکت میں119رنز، بابراعظم اور محمد نبی کی چوتھی وکٹ کی شراکت میں118 رنز، بابراعظم اور نجیب اللہ زدران کی چوتھی وکٹ کی شراکت میں 117 رنز، محمد رضوان اور صہیب مقصود کی دوسری وکٹ کی شراکت میں 116 رنز، فخرزمان اور محمد حفیظ کی دوسری وکٹ کی شراکت میں115رنز،محمدرضوان اور صہیب مقصود کی تیسری وکٹ کی شراکت میں 110 رنز، سرفرازاحمد اور اعظم خان کی چوتھی وکٹ کی شراکت میں 105رنز،عثمان خواجہ اور بی اے کنگ کی تیسری وکٹ کی شراکت میں 102 رنز جبکہ کرس گیل اور سرفرازاحمد کی تیسری وکٹ کی شراکت میں 101 رنز بنے۔شاہنواز دھانی، شاہین شاہ آفریدی اور راشد خان دو دو مرتبہ مین آف دی میچ ایوارڈ حاصل کرچکے ہیں۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید