• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قومی اتحاد کیلئے طبقاتی تقسیم سے بالاتر ہو کر اقدامات کرنا ہونگے ،پیرمنورجماعتی

لندن (آصف محمود براہٹلوی / ابرار مغل) قومی اتحاد کیلئے لسانی اور طبقاتی تقسیم سے بالاتر ہو کر اقدامات کیے جائیں،، ان خیالات کا اظہار امیر ملت جانشین علی پور حضرت پیر سید منور حسین شاہ جماعتی نے میڈیا اور علما کرام سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر سید رشید شاہ جماعتی، سید نعمان شاہ، حاجی اعظم، بلال استاد، ذاہد خٹک، ناصر راجہ، عابد کاظمی، بشارت چوہدری، آصف مغل، عمران خالد، رب نواز چغتائی، شعیب خاور، ایس ایم عرفان، طاہر تیمور شہزاد سمیت دیگر اہل قلم حضرات موجود تھے۔منور شاہ جماعتی کا مذید کہنا تھا مقتدر طبقہ آج تک پاکستانیوں کو نہ تو بحیثیت پاکستانی قوم بنا سکا اور نہ ہی بحیثیت مسلمان متحد کر سکا، اقتدار کی خاطر ہر حکمران نے پاکستانیوں کو علاقائی، نسلی، لسانی اور گروہی بنیادوں پر تقسیم کر کے ذات پات کے نعرے لگوائے، قوم کو بیوقوف بنا کر اپنے مفادات کا تحفظ کیا، نتیجتاً آج عوام کی حالت یہ ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے گروہوں اور ٹولیوں میں بٹ چکے ہیں، عوام کو عدم تحفظ، قتل و غارت گری، ڈاکے، مہنگائی، بیروزگاری، ناقص تعلیم ملی، انہیں صحت کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ملیں۔ بھوک و افلاس، تنگدستی، فرقہ پرستی اور سب سے بڑھ کر مہنگا اور نہ ملنے والا انصاف جیسا نظام دیا، ایسی حالت میں پاکستانی قوم بے بسی اور لاچاری کی تصویر بن چکی ہے، بے حسی کی تہہ میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، جن کا کوئی پرسان حال نہیں، اس عوام پر جتنا بھی ظلم کیا جائے مگر کوئی بھی صدائے احتجاج بلند کرنے کو تیار نہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے گھروں میں بھی خوشحالی آئے، آپ کی تنگدستی دور ہو، آپ کو ہر قسم کا انصاف ملے، صحت کی مفت سہولتیں ملیں، آپ کے بچوں کو بھی مفت تعلیم ملے، آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا جائے جو اشرافیہ یا مقتدر طبقہ کے ساتھ ہوتا ہے تو ہمیں اسلام، نظریہ پاکستان اور پاکستان کے ساتھ مخلص ہونا ہو گا اور موجودہ نظام کی بساط لپیٹ کر اس سے جان چھڑانی ہو گی۔ اسلام ہمیں اتحاد، یگانگت اور بھائی چارے کی تعلیم دیتا ہے، پاکستان ایک معجزہ اور اللہ تعالیٰ کا خصوصی انعام ہے جو برصغیر کے مسلمانوں کو قائداعظم محمدعلی جناح رحمة اللہ علیہ کی قیادت میں اتحاد، ایمان اور تنظیم کا مظاہرہ کرنے پر عطا کیا گیا، آج ہمیں اتحاد و ایمان اور تنظیم کے عملی مظاہرے کی پھر سے ضرورت ہے تاکہ پاکستان اور اہالیان پاکستان کی جڑیں کاٹنے والے مفاد پرستوں کو لگام ڈال کر ان کا احتساب کیا جا سکے اور اپنے گھروں کی حفاظت کی جا سکے۔ پیر منور شاہ جماعتی کا مذید کہنا تھا میں نے وسیع تر اتحاد کے لیے پاکستان کے ایک سو پچاس اساتذہ کو بذریعہ خطوط دعوت دی کہ مسائل کا حل اتحاد میں مضمر ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستانی قوم متحد ہو اور ملکی وسائل پاکستانی قوم کی فلاح و بہبود کےلئے ذات بات، صوبائی، لسانی اور طبقاتی تقسیم سے بالاتر ہو کر صرف کئے جائیں، انصاف کی مفت اور جلد فراہمی، مفت تعلیم کا نظام، سستی بجلی، گیس اور مفت پانی، بلامعاوضہ صحت کی سہولیات کی فراہمی، ٹیکس فری نظام، ہنگامی بنیادوں پر پورے ملک سے بیروزگاری کا خاتمہ اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ ہو سکے تاکہ پاکستان سے کرپشن کا خاتمہ ہو، کیونکہ پاکستان میں سب سے بڑا ناسور کرپشن ہے، ان اہداف کا حصول اتحاد، تنظیم، یقین محکم اور بھائی چارے کی بدولت ممکن ہے اور وقت کی ضرورت ہے کہ قوم متحد ہو کر میدان میں آئے اور اس نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔ آخر میں پیر سید منور حسین شاہ جماعتی کی والدہ کے ایصال ثواب کے کیے اجتماعی فاتحہ خوانی کی گئی۔
یورپ سے سے مزید