• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

40 برسوں میں 50 پونڈ کے نوٹ کی قوت خرید میں تین چوتھائی کمی

لندن (پی اے) مالیاتی ماہر کے مطابق 50 پونڈ کا بنک نوٹ گزشتہ 40 برسوں کے دوران اپنی قوت خرید 38 پونڈ کھو چکا ہے۔ میٹرس کے نیچے چھوڑے گئے 50 پونڈ مالیت کے بنک نوٹ کی قوت خرید میں 1981 کے بعد سے 38.46 پونڈ کی کمی واقع ہوئی ہے۔ ہارگریوز لانس ڈائون کی پرسنل فنانس اینالسٹ سارہ کولز کا کہنا ہے کہ 1725 میں متعارف کروائے گئے 50 پونڈ کے نوٹ کو 1945 میں واپس لے لیا گیا تھا اور 1981 میں دوبارہ متعارف کروایا گیا تھا۔ بنک آف انگلینڈ کے 50 پونڈ مالیت کے نئے ایلن ٹرننگ نوٹ کی بدھ کو جنرل سرکولیشن سے قبل گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پرانے 50 پونڈ کے نوٹ کی قوت خرید آج کے تقریباً 217 پونڈ کے برابر تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پرانا 50 پونڈ کا نوٹ اب ویسی قدر نہیں رکھتا جو پہلے وقت میں تھی جب وہ مارچ 1981 میں پہلی بار متعارف کروایا گیا تھا۔ اگر اس کے بعد سے آپ نے اس کو میٹرس کے نیچے رکھا ہوا ہے تو اب اس کی قوت خرید تین چوتھائی سے زیادہ کم ہو چکی ہے اور اگر آپ نے اس کو کام یعنی سرمایہ کاری میں لگا رکھا ہے تو اس کی قدر بڑھ کر 2300 پونڈ ہو سکتی ہے۔ مس کولز کا کہنا ہے کہ اس کے برعکس اگر آپ نے اس مدت کے دوران 50 پونڈ کے نوٹ کو اوسطاً 2 فیصد ادائیگی والے سیونگ اکائونٹ میں ڈال دیا ہے تو اس سےصرف 100 پونڈ ملے ہوں گے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بچت میں ایمرجنسی کیشن رکھنا انمول ہے لیکن طویل مدت کیلئے زیادہ کیش رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ افراط زر کی وجہ سے آپ خرچ کرنے کی قوت سے محروم ہوجائیں گے۔
یورپ سے سے مزید