• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام میں یتیموں کی پرورش اور نگہداشت کا تصور

ڈاکٹر آسی خرم جہا نگیری

اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے، اس میں معاشرے کے ہر فرد کے حقوق کا خیال رکھا گیا ہے۔ اللہ پاک نے کسی کو بے یار ومددگار نہیں چھوڑا۔ہر ایک کے لیے ایسے اسباب وذرائع مہیا کردیے ہیں کہ وہ آسانی کے ساتھ اللہ کی زمین پر رہ کر اپنی زندگی کے دن گزار سکے۔ یتیم ونادار اور لاوارث بچوں کے بھی معاشرتی حقوق ہیں۔ ان کی مکمل کفالت ان کے حقوق کی پاس داری ہے اور اس سے منہ موڑ لینا ان کے حقوق کی پامالی ہے۔

یتیم کے حقوق پر اسلام نے بہت زور دیا ہے۔ اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن حکیم میں 23 مختلف مواقع پر یتیم کا ذکر کیا گیا ہے جن میں یتیموں کے ساتھ حسن سلوک، اُن کے اموال کی حفاظت اور اُن کی نگہداشت کرنے کی تلقین کی گئی ہے، اور اُن پر ظلم و زیادتی کرنے والے، ان کے حقوق و مال غصب کرنے والے کے لیے وعید بیان کی گئی ہے۔

جس کے زیر سایہ کوئی یتیم ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اس یتیم کی اچھی پرورش کرے ، اَحادیث میں یتیم کی پرورش اوراس سے حسن سلوک کے بے شمار فضائل بیان کئے گئے ہیں ، ان میں سے چند درجِ ذیل ہیں۔رسولِ اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: ’’میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے، پھراپنی شہادت والی اور در میان والی انگلی سے اشارہ فرمایا اور انہیں کشادہ کیا۔ (صحیح بخاری)

حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے، امامُ الانبیاءﷺنے ارشاد فرمایا: ’’جس نے مسلمانوں کے کسی یتیم بچے کے کھانے پینے کی ذمے داری لی، اللہ تعالیٰ اُسے جنت میں داخل فرمائے گا ۔(جامع ترمذی)

رسول اکرم ﷺنے تو یتیم کی کفالت کرنے کو جنت میں اپنے ساتھ ہونے کی بشارت سے نوازا ہے کہ وہ جنت میں آپﷺ کے ساتھ ہو گا ۔حضرت سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہيں کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا : میں اوریتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے اور آپﷺ نے اپنی انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کے درمیان تھوڑا سافاصلہ کرکے اشارہ کیا ۔( صحیح بخاری )

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا خواہ وہ یتیم اس کا رشتے دار ہو یا غیر، جنت میں اس طرح ہوں گے، جیسے یہ دو انگلیاں۔(صحیح مسلم) امام مالکؒ نے اس حوالے سے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی سے اشارہ کرکے بتایا۔

بچہ اپنی ہر ضرورت کے لیے ماں باپ کا محتاج ہوتا ہے۔ اگر وہ ماں باپ کے سہارے سے محروم ہو جائے تو پھر اس سے زیادہ بے بس و بے کس شاید ہی اور کوئی ہو۔یتیم ہونا انسان کا نقص نہیں ،بلکہ منشائے خداوندی ہے کہ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اُس نے اپنے محبوب ترین بندے سید المرسلین ﷺ کو حالتِ یتیمی میں پیدا فرمایا کہ آپ ﷺ کے والد ماجد آپﷺ کی ولادت با سعادت سے بھی پہلے وصال فرما چکے تھے۔ 

پھر چھ سال کی عمر میں ہی آپ ﷺکی والدہ ماجدہ بھی انتقال فرما گئیں۔ اللّہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کی اس کیفیت کا ذکر قرآن حکیم میں یوں کیا ہے :’’(اے حبیبﷺ!) کیا اُس نے آپ کو یتیم نہیں پایا، پھر اُس نے (آپ کو معزز و مکرم) ٹھکانہ دیا‘‘پھر اس دُرِّ یتیمﷺ نے یتامیٰ کی محبت، ان کے ساتھ شفقت و حسنِ سلوک اور اِحسان برتنے کی نہایت اعلی مثالیں قائم کیں۔آپﷺ نے یتیموں کی کفالت کرنے والے کو جنت کی خوش خبری دی اور اُن کے حقوق پامال کرنے والے کو درد ناک عذاب کی وعید سنائی۔

حضرت ابو ہریرہؓروایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’مسلمانوں میں سب سے اچھا گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ نیک سلوک ہو اور بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کے ساتھ برا سلوک ہو۔‘‘(سنن ابن ماجہ)

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺنے فرمایا :’’قسم ہے اُس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! اﷲ تعالیٰ روزِ قیامت اُس شخص کو عذاب نہیں دے گا جس نے یتیم پر شفقت کی،اس سے نرمی سے گفتگو کی،اور معاشرے کے محتاجوں و کمزوروں پر رحم کیا، اور جس نے اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہونے والی عطا کی وجہ سے اپنے پڑوسی پر ظلم نہ کیا۔ پھر فرمایا : اے اُمتِ محمدی! قسم ہے اُس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! اﷲ تعالیٰ روزِ قیامت اُس شخص کی طرف سے صدقہ قبول نہیں کرے گا جس نے غیروں پر صدقہ کیا، حالانکہ اُس کے اپنے رشتے دار اُس صدقہ کے محتاج تھے۔ قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! اﷲ تبارک و تعالیٰ روزِ قیامت اُس شخص کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرمائے گا۔‘‘(طبرانی)

حضرت عمرو بن شعیبؓ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں: ’’جسے کسی یتیم کے مال کا ولی بنایا گیا تو اُسے چاہیے کہ وہ اُس مال سے تجارت کرے اور اُسے یوںہی پڑا نہ رہنے دے، مبادا زکوٰۃ ادا کرتے کرتے وہ مال ختم ہوجائے۔‘‘(بیہقی،سنن الکبریٰ)

یہ تمام احادیث گرچہ یتیم کی کفالت کے سلسلے میں ترغیب وفضائل کی ہیں، تاہم ان سے یہ بات ضرور سمجھ میں آتی ہے کہ اس طرح کے نادار، لاوارث اور یتیم بچوں کی کفالت مسلمانو ں کے ذمے ہے۔حسب سہولت علاقے اور محلے کے افراد پر یہ ذمہ داری عائد ہوگی۔ 

ان بچوں کو یوں ہی ضائع ہونے نہیں دیا جائے گا۔ اگر کچھ لوگ اس ذمہ داری کو بہ طور کفایہ نبھا لیتے ہیں، تو سب بری الذمہ ہوجائیں گے ،ورنہ سب کے سب گناہ گار ہوں گے۔