• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ کے نئے سفری قوانین، دہری شہریت کے حامل نوجوانوں کے لیے مشکلات

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

برطانیہ کے نئے سفری قوانین کے تحت دہری شہریت کے حامل نوجوانوں کے لیے مشکلات پیدا ہوگئیں۔

برطانیہ کے نئے سرحدی قوانین نے ایک نیا بحران کھڑا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد برطانوی نوجوان بیرونِ ملک پھنس گئے ہیں اور اپنے وطن واپس آنے سے قاصر ہیں۔ 

دہری شہریت رکھنے والوں کے لیے اچانک سخت کیے گئے قوانین نے ناصرف طلبہ بلکہ خاندانوں کو بھی شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔

برطانوی اخبار کا کہنا ہے کہ دہری شہریت کے حامل شہریوں کو برطانوی پاسپورٹ دکھانا لازمی ہے، ڈنمارک، اسپین اور ممبئی سمیت مختلف ممالک میں شہریوں کو پروازوں سے روک دیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں کئی کیسز سامنے آئے ہیں جہاں نوجوان صرف اس وجہ سے برطانیہ واپس نہیں آ سکے کیونکہ ان کے پاس برطانوی پاسپورٹ موجود نہیں تھا۔

 ایک 16 سالہ طالبہ کو ڈنمارک سے برطانیہ جانے والی پرواز میں سوار ہونے سے روک دیا گیا، جس کے باعث وہ 2 ہفتوں سے اسکول نہیں جا سکی۔ 

اسی طرح آکسفورڈ شائر سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ طالبہ میڈرڈ میں پھنس گئی کیونکہ وہ نئے قوانین کے مطابق برطانوی پاسپورٹ حاصل نہیں کر سکی تھی۔

ایک اور افسوسناک واقعہ ممبئی میں پیش آیا جہاں ایک 18 سالہ برطانوی ڈینش لڑکی کو صرف پاسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے جہاز میں سوار ہونے سے روک دیا گیا۔ 

وہ ایئرپورٹ پر اکیلی رہ گئی، نہ ویزا تھا اور نہ رہائش کا کوئی بندوبست، جس کے باعث اسے شدید خوف اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

یہی نہیں کئی خاندانوں کے خواب بھی ٹوٹ گئے، یارکشائر کی ایک خاتون اپنے بیٹے اور پوتے پوتیوں سے ملنے کے لیے بے تاب تھیں، مگر پاسپورٹ مسائل کے باعث ان کا طویل عرصے سے طے شدہ سفر منسوخ ہو گیا۔ 

بیرونِ ملک مقیم برطانوی شہری بھی شدید غصے کا اظہار کر رہے ہیں، خاص طور پر وہ والدین جن کے نومولود بچوں کے پاس برطانوی پاسپورٹ نہیں اور وہ مہینوں تک وطن واپس نہیں آ سکتے۔

متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان قوانین کے بارے میں مناسب آگاہی فراہم نہیں کی اور اچانک تبدیلی نے ہزاروں لوگوں کو مشکل میں ڈال دیا۔ 

ناقدین نے اسے انتظامی ناکامی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر نرمی (grace period) دے تاکہ متاثرہ افراد اپنے دستاویزات مکمل کر سکیں۔

دوسری جانب، حکام کا مؤقف ہے کہ قوانین کی پیشگی اطلاع دی گئی تھی، تاہم بڑھتی ہوئی شکایات اور انسانی مسائل کے باعث یہ پالیسی شدید تنقید کی زد میں ہے۔

واضح رہے کہ برطانیہ کے سفیر کے لیے پیشگی اجازت نامہ لازمی قرار دے دیا گیا تھا۔

برطانوی پاسپورٹ کے بغیر ملک میں داخلے کے لیے الیکٹرانک ٹریول آتھرائزیشن کروانا ہوگی، امریکا، کینیڈا اور فرانس سمیت 85 ممالک کے شہریوں کو بھی ای ویزا لینا ہوگا۔ 

برطانوی حکومت نے نئی ای ٹی اے اسکیم 25 فروری سے نافذ کی ہے، برطانیہ میں دہری شہریت رکھنے والے افراد جن کے پاس برطانوی پاسپورٹ نہیں ہے، انہیں نئے قوانین کے تحت ملک میں داخلے سے روکا جا سکتا ہے۔

نئے قوانین کے مطابق برطانیہ آنے والے ایسے زائرین جن کے پاس برطانوی پاسپورٹ نہیں ہے، انہیں ملک میں داخل ہونے کے لیے ویزا، الیکٹرانک ٹریول آتھرائزیشن (ETA)، یا سرٹیفکیٹ آف اینٹائٹلمنٹ (حقِ استحقاق کی دستاویز) کی ضرورت ہوگی۔

برطانیہ و یورپ سے مزید