• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تفہیم المسائل

سوال: ہم نے اس سال بھینسے کی قربانی کی ،بھینسے کی پیدائش ( دوسال قبل) 12ذوالحجہ 1439ھ دوپہر دو بجے ہوئی اور12ذوالحجہ 1441ھ صبح دس بجے قربان کردیا ۔ اب کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ قربانی کے وقت اس کی عمر تین گھنٹے کم تھی ،سال مکمل ہونے کے لیے گھنٹے اور منٹ کا بھی اعتبار کیا جائے گا ۔جس دن جانور کی پیدائش ہوئی اُس دن کو شمار نہیں کیاجائے گا ،کیا یہ قربانی جائز ہوگئی؟(قاری رحمت اللہ ،خطیب جامع مسجد کھوئی رَٹّہ ،آزادکشمیر )

جواب: قربانی کے جانور گائے ،بیل اور بھینس :دو سال ، بکرا ،بکری دنبہ وغیرہ کی عمر ایک سال (البتہ دنبہ ،بھیڑ چھ ماہ کے فربہ اور صحت مندہوں دیکھنے میں سال بھر کے لگتے ہوں تو اُن کی قربانی جائز ہے )اور اونٹ ،اونٹنی پانچ سال کی ہوں ،تو اُن کی قربانی جائز ہے ۔حدیثِ پاک میں ہے:

ترجمہ:’’صرف مُسِنّہ (ایک سال کی بکری ، دوسال کی گائے اور پانچ سال کا اونٹ )کی قربانی کرو ،ہاں اگر تم کو دشوار ہو توچھ سات ماہ کا دنبہ یا مینڈھا ذبح کردو ، (صحیح مسلم:1963)‘‘۔

آپ نے سوال میں درج کیا کہ :’’ بھینسے کی پیدائش ( دوسال قبل)  12 ذوالحجہ 1439ھ دوپہر دو بجے ہوئی‘‘ ، اس اعتبار سے 11ذوالحجہ 1440ھ میں اسے ایک سال مکمل ہوا اور 11ذوالحجہ1441ھ کو دوسرا سال مکمل ہوجائے گا ،لہٰذا اس گائے کی قربانی 11ذوالحجہ1441ھ کو بھی جائز ہوتی اور12ذوالحجہ1441ھ کو بطریقِ اَولیٰ جائز ہوگی ،کیونکہ 11ذوالحجہ کے غروب آفتاب کے بعد نیا قمری سال شروع ہوجائے گا ۔ اس اعتبار سے مذکورہ جانور کی عمر دوسال سے ایک دن زائد تھی ،کسی شک وشبہ کے بغیر قربانی جائز اور درست ہوگئی ، لوگوں کے مفروضوں میں نہ الجھیں ۔اس کی ایک اور آسان مثال یوں ہے کہ شمسی اعتبارسے سال کا آغاز یکم جنوری اور اختتام 31دسمبر کوہوتا ہے ،اسی طرح قمری سال کا آغاز یکم محرم اور اختتام 29یا30ذوالحجہ کو ہوتا ہے ۔فرض کریں کہ اگر کوئی سانحہ یکم جنوری کو وقوع پذیر ہوا ہوتو 31دسمبر کو اسے سال مکمل ہوگا اور یکم جنوری کو دوسرے سال کا آغاز ہوگا ۔اسی طرح ہفتے کے سات دن ہوتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق بچے کا عقیقہ ساتویں دن کرنا افضل ہے ، اگر کسی بچے کی پیدائش جمعۃ المبارک کے دن ہوئی ہو تو اس کا ساتواں دن جمعرات ہوگا اور جمعرات کو عقیقہ کرنا افضل اور مسنون شمار ہوگا ۔

تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:ترجمہ:’’پانچ سال کے اونٹ کے بچے کو ، دوسال کے گائے اور بھینس کے بچے کو اور ایک سال کے بکری اور بھیڑ کے بچے کو ’’اَلثَّنِیّ‘‘کہا جاتا ہے‘‘۔اس کی شرح میں علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں:ترجمہ:’’اور گائے کا دو سال کا بچہ اور اونٹ کا چار سال کا بچہ ’’جَذَعْ‘‘کہلاتا ہے، بحوالہ ’’بَدَائِعُ الصَّنَائِع‘‘۔

علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں:’’میں نے قربانی کے جانوروں کی عمروں کے مسئلے کو ان دو اشعار میں منظوم کیا ہے:

ترجمہ:’’بکری کے ایک سال والا اوراونٹ کے پانچ سال والا اور گائے کے دو سال والے بچے کو ’’ثَنِیٌّ‘‘ کہاجاتا ہے اور گائے کے ایک سال والے اور بکری کے چھ ماہ والے اور اونٹ کے چار سال والے بچے کو ’’جَذَع‘‘ کہاجاتا ہے‘‘۔

علامہ علاء الدین حصکفی مزید لکھتے ہیں:ترجمہ:’’اوراگر بھیڑ کا چھ ماہ کابچہ اتنی جسامت کا ہوکہ اگر اُسے سال بھر والی بھیڑوں کے ریوڑ میں شامل کردیا جائے تودور سے دیکھنے میں تمیزممکن نہ ہو،تو بھیڑ کے ایسے چھ ماہ کے بچے کی قربانی جائز ہے‘‘،اس کی شرح میں علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں:’’علامہ علاء الدین حصکفی کی عبارت میں:’’اِنْ کَانَ‘‘سے ’’مِنْ بُعْدٍ‘‘ تک کا مطلب یہ ہے کہ چھوٹے بدن والے بھیڑ کے ششماہی بچے کی قربانی جائز نہیں ہے سوا اس کے کہ وہ ایک سال پورا کر کے دوسرے سال میں داخل ہوجائے،(ردالمحتار علیٰ الدرالمختار، ج:9،ص:390)‘‘۔

(…جاری ہے…)

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

tafheem@janggroup.com.pk