• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر:خواجہ محمد سلیمان۔۔۔۔ برمنگھم
آزاد کشمیر میں الیکشن مہم زوروں پر ہے، ہر امیدوار اور پارٹی اسی کوشش میں لگی ہوئی ہے کہ عوام اس کو ووٹ دیں تاکہ ان کو اقتدار ملے، جمہوریت میں الیکشن ہی کے ذریعے حکومتیں تبدیل ہوتی ہیں، اگر حکومت میں کوئی کمزوری ہے تو اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے تاکہ نئے لوگ آئیں اور وہ بہتر طریقے سے معاملات چلائیں ،جہاں تک آزاد کشمیر میں الیکشن کا تعلق ہے، اس کی صورت حال مختلف ہے یہ آزادی کا بیس کیمپ ہے 1948میں اس خطہ کو مہاراجہ کے خلاف جہاد کرکے آزاد کرا لیا گیا تھا، پھر بھارت نے ایک چال چلی جس کی وجہ سے ریاست کے بہت بڑے حصہ پر اس نے جابرانہ قبضہ کیا ہوا ہے اور وہاں کے رہنے والے اس کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں، اب ہونا تو یہ چاہئے کہ یہاں کے رہنے والے کشمیری اپنے سارے وسائل تحریک آزادی کشمیر پر خرچ کرتے وہ پاکستان پر دبائو ڈالتے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر کشمیریوں کی نمائندگی کرتے ہوئے اس مسئلہ کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی کوشش کرے، لیکن ایسا نہیں ہوا یہاں سے الحاق پاکستان کا نعرہ لگا کر اقتدار حاصل کیا گیا، پھر پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے یہاں پر ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں، جن کا مقصد کشمیر کی آزادی نہیں بلکہ اقتدار ہے، اب اس صورت حال نے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو کافی مایوس کیا ہے، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہاں کی لیڈرشپ کو صرف مظفر آباد کی کرسی عزیز ہے، کشمیر کی آزدی سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں، پیپلز پارٹی کی حکومت بھی ہم نے دیکھی ہے، اسی طرح مسلم لیگ نواز کی بھی کارکردگی دیکھ لی ہے، اب تحریک انصاف کی شائد باری ہے وہ کیا کریں گے ،پاکستان میں عمران خان کی انصاف پارٹی نے نعرہ لگایا تھا کہ ہم کرپشن ختم کریں گے لیکن ہوا یہ کہ جتنے کرپٹ تھے وہ سب اقتدار میں آکر شامل ہوگئے، ملک کے حالات بہتر ہونے کے بجائے دن بدن خراب ہورہے ہیں، فارن پالیسی تقریروں کی حد تک رہ گئی ہے، بھارت کشمیر کو ہضم کر رہا ہے اور یہ کشمیریوں کو دلاسے دے رہے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں، اب بھی وقت ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام ان لوگوں کو ووٹ دیں جو آزادی کشمیر کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں، جن لوگوں کو ہم آزما چکے ہیں ان کو بار بار ووٹ دینے سے یہی ہوگا جو پاکستان اور آزاد کشمیر میں ہو رہاہے۔
یورپ سے سے مزید