• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈاکٹر نصرت جبیں

ایسویسی ایٹ پروفیسر،

مائیکروبائیولوجی ،یونیورسٹی آف کراچی

پچھلی کئی دہائیوں سے سائنس دانوں نے مالیکیولر بائیولوجی (سالمائی حیاتیات) کے میدان میں بے پناہ کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان ہی کامیابیوں میں سائنس کی ایک بڑی کامیابی جینیاتی سائنس کے میدان میں جینوم ایڈیٹنگ (Genome Editing) یعنی جینیائی ترمیم بذریعہ جنیائی اوزار (Genetic Tools) کی ٹیکنالوجی ہے۔ جینوم ایڈیٹنگ دراصل جینیٹک انجینئرنگ (Genetic Engineering) کی ایسی شاخ ہے جوکہ مختلف قسم کے جینیاتی اوزار کو استعمال کرکے سائنس دانوں کو کسی بھی جاندار کے جینیاتی مواد یعنی ڈی این اے (DNA) کے اندر تبدیلی کرنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی جانداروں کے جینوم یعنی جینیاتی مادّے میں موجود خراب حصے جسے سائنس کی اصطلاح میں میوٹیٹڈ (Motated) کہا جاتا ہے ،اس کو ختم کرنے تبدیل کرنے یا نئے کارآمد حصے کو شامل کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ سائنس دانوں نے اب تک جینیاتی ترمیم کے کئی طریقے دریافت کئے ہیں۔ جن میں ZFNs، TALENs (ٹیلنز) اور CRISPR (کرسپر) سرفہرست ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کی بناء پر دراصل 1953ء میں جیمز واٹسن (James Watson) اور فرینسز کرک (Fracis Crick)نامی سائنس دانوں کی ڈی این اے یعنی جانداروں کے جینیاتی مادّے کی دہری سیڑھی نما (Double Helix) ساخت کی دریافت ہے۔ ڈی این اےکی اس ساختی معلومات ہی سے دراصل جدید مالیکیولر بائیولوجی کا آغاز ہوا اور یوںڈی این اےکی ساختی تحقیق مختلف جانداروں کی جینیاتی تحقیق کے لئے نہ صرف ایک ابتدائی سنگ میل ثابت ہوئی بلکہ مالیکیولر بائیولوجی کی دنیا بھر میں ہونے والی بے شمار دریافتوں میں ریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت رکھتی ہے۔

1958ء میں Kormnberg (کارن برگ) نامی سائنس دان نے نہ صرف ڈی این اےمیں موجود اس کے اہم اجزاء جنہیں نیوکلیوٹائیڈ (Nuclcotide) کہا جاتا ہے،اس کو لیبارٹری میں تیار کرلیاہے بلکہ ان اجزاء سے لیبارٹری ہی میںڈی این اےکی ایک بیکٹیریا سے حاصل کردہ انزائم ’’ڈی این اے پولی میریز (DNA Polymerase) کی مدد سے ڈی این اےیعنی اس میں موجود جین (gene) کی کاپی بھی تیار کرلی۔ اور یوں یہ تحقیق حیاتیاتی سائنس کے میدان کی ایک اور اہم ترین دریافت تھی، جس نے ان تمام سائنس دانوں کو سائنسی دنیا کے سب سے بڑے نوبل انعام کا حق دار بنایا۔

1962ء میں سائنس دانوں کے ایک گروہ نے ایک سمندری حیات ’’جیلی فش‘‘ میں موجود "Green Floureseut" نامی ایک سبز رنگ کی چمک دار رپروٹین کو مالیکیولر بائیولوجی کی تحقیقات میں ایک اور اوزار کے طور پر استعمال کرکے مالیکیولر ٹیکنالوجی کو ایک اہم دریافت سے متعارف کروایا۔ اس سبز پروٹین کو دراصل مخصوص مطالعاتی جین یا پروٹین کے ساتھ جوڑ کر خلیہ (سیل) میں داخل کیا جاتا ہے اور پھر نتیجے میں بننے والی مخصوص پروٹین کی مخصوص جگہ پر حرکات و سکنات اور خلیہ میں اس کے کردار کو اس سبز چمکدار پروٹین کی روشنی کے ذریعے جانچا جاتا ہے۔

1967ء میں سائنس دانوں نے ایک اور اہم انزائم ’’ڈی این اے لائی گیز‘‘ (DNA Ligase) جو کہ جانداروں میں موجود ڈی این اےیعنی ان کی جینیاتی مواد کی مرمت اور ڈی این اےکی سیل کے اندر نقل بننے کے عمل (DNAReplication) کے دوران انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں، کو دریافت کرکے مالیکیولر بائیولوجی کو ایک اور انتہائی اہم اور نئے جینیاتی اوزار سے متعارف کروایا۔

اسی دوران 1968ء میں ورنر آربر (Werner Arber) نامی سائنس دان نے مشاہدہ کیا کہ بیکٹیریا خود کو اپنے اوپر حملہ کرنے والے وائرس جنہیں بیکٹیریوفیج (Bacteriophage) کہا جاتا ہے کو اپنے پاس موجود ایک انزائم جسے ریسٹریکشن انزائم (Restriction Enzyme) کا نام دیا گیا ۔اسے حملہ آور وائرس کے جینیاتی مادّے کو ٹکڑوں میں کاٹ کر ہلاک کردیتے ہیں اور یوں خود کو وائرس کے حملے سے محفوظ کرلیتے ہیں۔ اس Restriction Enzyme کو سالمائی قینچی (Molecular Scissor) بھی کہا جاتا ہے۔ 

دلچسپ بات یہ ہے کہ بیکٹیریا خود اپنے جینیاتی مادّے کو اس سالمائی قینچی سے محفوظ رکھنے کے لئے ایک اور انزائم کا استعمال کرتا ہے اور خود اپنے جینیاتی مادّے کے ٹکڑے ہونے سے محفوظ رہتا ہے۔ اور یوں بیکٹیریا اس Restriction Enzymeکو اپنے مدافعتی نظام (Defence system) کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ Restriction Enzyme کی دریافت جینیاتی تحقیق کرنے والے سائنس دانوں کے لئے ایک انتہائی اہم اوزار ثابت ہوا۔ ستر کی دہائی سے لے کر اب تک سائنس دانوں نے سیکڑوں قسم کے Restriction Enzyme مختلف قسم کے بیکٹیریا سے نہ صرف حاصل کئے بلکہ ان انزائم پر مسلسل تحقیق سے مالیکیولر بائیولوجی کے میدان میں جینیاتی ترمیم یعنی جین ایڈیٹنگ جیسی جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد بھی رکھ دی۔

ستر ہی کی دہائی میں پال برگ (Paul Berg) نامی سائنس دان نے مالیکیولر بائیولوجی کے ان اوزاروں کو استعمال کرکے پہلی بار دو مختلف وائرس کے ڈی این اےکو کاٹ کر ان کے ٹکڑوں کو آپس میں جوڑ دیا اور یوں ری کومبنیٹ ڈی این اے ٹیکنالوجی Recombinant DNA Tecnologyکی بنیاد پڑی۔ پال برگ کو 1980ء میں ان کی اس تحقیق پر نوبل انعام سے نوازا گیا۔

1971ء میں ہی نیتھنز (Nathenz) نامی سائنس دان نے Restriction Enzyme  کا استعمال کرکے جانداروں میں موجود ڈی این اے کی "Mapping" یعنی جینیاتی مادّے میں موجود مختلف جینز (genes) کی ترتیت (Sequence) جاننے کے مطالعے کو آسان اور ممکن بنادیا ۔اس تحقیق نے سائنس دانوں کے لئے جینیاتی مادّے کے تفصیلی مطالعے اور مفید و مثبت تبدیلی کرنے کے لئے نئی راہیں کھول دیں۔

اس طرح جینیاتی اوزار کی مختلف اقسام دریافت ہوئیں ۔جن میں مختلف انزائم اور پروٹین شامل ہیں نئے جینیاتی انجینئرنگ کے نئے باب کا آغاز کیا۔

اور یوں اسی (80) کی دہائی میں جینیاتی انجینئرنگ کے ذریعے سائنس دانوں نے بہت سارے جینیاتی تجربات کرکے حقیقی دنیا میں نہ صرف طرح طرح کی مصنوعات متعارف کروائیں جن میں کئی اقسام کی دوائیں، ہارمونز مثلاً انسولین، مختلف قسم کی ویکسین بلکہ کئی قسم کی جینیاتی بیماریوں کی تشخیص اور علاج شامل ہیں۔ 

یہی نہیں بلکہ Recombinant DNA Technology کے ذریعے زارعت کے شعبے میں مختلف انواع و اقسام کے پھلوں اور سبزیوں میں ان کی غذائیت، حجم اور ذائقہ کو بڑھایا بلکہ فصلوں اور باغوں پر حملہ آور ہونے والے حشرات و دیگر جراثیموں سے بچائو کے طریقے بھی دریافت کئے۔ 1981ء میں سائنس دانوں نے پہلا ٹرانسجینک "Transgenic" جانور متعارف کروایا ،جس میں جینیاتی انجینئرنگ کے ذریعے ایک جانور کے جینیاتی مادّے کو دوسرے جانور کے جینیاتی مادّے میں شامل کرکے اس جانور میں نئی خصوصیات کامیابی سے داخل کی گئیں۔ اس تجربے میں سائنس دانوں نے خرگوش کی کچھ جینز لے کر چوہوں کے جینیاتی مادّے یعنی جینوم میں داخل کردیا اور یوں جینیاتی انجینئرنگ کے میدان میں سائنس دانوں نے ایک بڑا معرکہ سر کرلیا۔

1983ء میں کیری میولز Kary Mulins نامی سائنسدان نے مالیکیولر بائیولوجی کے میدان میں polymerase chain reaction (pcr)نامی تیکنیک کو ایجاد کرکے سائنس دانوں کے لیےجانداروں کے جینیاتی مادّے کے مطالعے کو انتہائی آسان، سستا اور کم وقت میں ممکن بنادیا۔ PCR کی تیکنیک میں دراصل جینیاتی مادّے کی ایک کاپی سے انتہائی کم وقت اور چند مشینری کا استعمال کرتے ہوئے ہزاروں اور لاکھوں کاپیاں بنائی جاسکتی ہیں۔ عصر حاضر میں PcRہی کے ذریعے سے مختلف بیماریوں کے جرثوموں کی پہچان کرکے بیماری کی درست تشخص کی جاتی ہے، اس کی ایک مثال کورونا وائرس ہے ۔ PcRکی تیکنیک کا استعمال فرانزک سائنس میں بھی کیا جاتا ہے۔

1985ء میں سائنس دانوں نے مالیکیولر بائیولوجی کے میدان میں ایک اور اہم دریافت کی ،جس میں انہوں نے جانداروں کے جینیاتی مادّے ڈی این اے سے جڑنے والی ایک ایسی خاص ساخت کی پروٹین دریافت کی، جس کو زنک فنگر ڈومین "Zinc Finger Domain"، (ZNF) کا نام دیا گیا۔ ZNF دراصل کسی بھی پروٹین کی ساخت کا وہ حصہ ہے جوکہ خصوصی طور سے جانداروں کے ڈی این اے سے جڑ کر کسی خاص لمحے میں ضرورت کے مطابق خلیہ میں خاص پروٹین بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔اور پھر سائنس دانوں نے ZNF کی اس خاصیت اور صلاحیت کا استعمال جینیاتی مطالعے کوآسان بنانے کے لئے کیا۔ 

اس مقصد کے لئے سائنس دانوں نے ZNF رکھنے والی پروٹین کو ایک بیکٹیریا سے حاصل کردہ خاص قسم کے Restriction Enzyme فوک آئی "FOKI" سے جوڑ کر ڈی این اے میں موجود مخصوص جگہ یا ہدف کی پہچان کرکے اس کو کاٹنے والی جینیاتی قینچی (Genetic Scissor) تیار کرلی۔ یہ جنیاتی قینچی جسے (Zink Finger Domain Nuclases) ZNFs کا نام دیا گیا، جانداروں کے جینیاتی مادّے میں کسی بھی خاص مقام پر جینیاتی ترمیم کے عمل کو ممکن بناتا ہے۔ اس جینیاتی قینچی کو کئی قسم کی بیماریوں مثلاً کینسر کی جانچ اور علاج کی تحقیق میں استعمال کیا جارہا ہے۔ 

ان مختلف قسم کے جینیاتی اوزاروں کی مسلسل دریافت نے بالآخر سائنس دانوں کو اس قابل بنادیا کہ 1986ء میں سائنس دانوں نے پہلی ری کومبٹنٹ ویکسین (Recombinant Vaccine) ہیپاٹائس بی وائرس کے خلاف تیار کرلی۔ اور اس کے بعد دیگر کئی بیماریوں مثلاً کالی کھانسی، نمونیا اور حال ہی میں پھیلنے والا کورونا وائرس کے خلاف تیار ہونے والی ایک ویکسین شامل ہے۔

نوے کی دہائی میں سائنس دانوں نے انہیں جینیاتی اوزاروں کا استعمال کرکے جین کلوننگ (Gene Clonning) کے کامیاب تجربات کئے اور کئی قسم کے (GMOs) Geniticaly Modified Organise کو متعارف کروایا۔ اس میدان میں سب سے بڑی کامیابی 1996ء میں ڈولی (Dolly) نامی بھیڑ ہے جو جینیاتی کلوننگ کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔

1998ء میں سائنس دانوں نے ایک نئے سائنسی پراجیکٹ کا آغاز کیا، جس کا مقصد انسانوں کی مکمل جینیاتی مادّے کی ترتیب یا شناخت کی جانچ کرنا تھا اور یوں سائنس دانوں کی انتھک محنت اور کئی قسم کے جینیاتی اوزار اور تیکنیک کے استعمال سے یہ عمل 2003ء میں مکمل ہوگیا۔ سائنس دانوں نے اس سائنسی پراجیکٹ کوThousand Genome Project کا نام دیا۔ 

اس کی کامیابی کے دوران ہی سائنس دانوں نے دیگر جانداروں بشمول جانور، پودے اور جرثوموں کے جینیاتی مادّوں کی ترتیب مکمل کرلی۔ نہ صرف یہ بلکہ اس تحقیق کے دوران ہی 2001ء میں کینسر کے علاج کے لئے پہلی بار جینیاتی طریقہ علاج "Targeted Gene Theropy" کا کامیابی سے نہ صرف تجربہ کیا گیا بلکہ "Glivec" نامی اس دوا کو FDA سے اجازت بھی حاصل ہوگئی۔ اور اب یہ دوا خاص قسم کے خون کے سرطان کے علاج کے لئے کامیابی سے استعمال کی جارہی ہے۔

2006ء میں جینیاتی ترمیم کی ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے پہلی بار انسانوں میں کینسر پیدا کرنے والے ہیومن پیپی لوما "Human Papiloma" نامی وائرس کے خلاف Recombinant Vaccine تیار کی گئی اور یوں مختلف اوزار کا استعمال کرتے ہوئے سائنس دانوں نے "Garolasil" نامی (Cancer) کینسر سے بچائو کے لئے پہلی اینٹی کیسنر ویکسین تیار کرلی۔

2011ء میں سائنس دانوں نے ٹیلن "TALENs" نامی ایک نئی جینیاتی ترمیم کرنے والی ٹیکنالوجی کو ایجاد کیا۔ TALENs دراصل "Transcription Activator Like Effectors Nucleases" کا مخفف ہے یہ اوزار بھی تقریباً ZENs کے مقابلے میں نہ صرف زیادہ موثر اور تیز ہے بلکہ جانداروں پر اس کے منفی اثرات بھی کافی کم ہیں۔

2012ء میں جنیفر ڈوڈنا (Jenifer Doudna) اور ایمانیولا (Emanvella Charpentier) نامی سائنس دانوں نے CRISPR-Cas9 (کرسپر کیز نائن) نامی جینیاتی ترمیم کرنے والے اوزار کو ایجاد کیا۔ کرسپر CRISPR دراصل "Cluster Regularly Interspaced Short palindromic Repeat" کا مخفف ہے۔ جب کہ Cas-9 ایک انزائم ہے جوکہ جینیاتی قینچی کا کام کرتی ہے۔ CRISPR-Cas9 دراصل بیکٹیریا میں پایا جانے والا اس کا اپنا ایک مدافعتی نظام (Defence System) ہے جوکہ بیکٹیریا دراصل اپنے اوپر حملہ آور ہونے والے وائرس (Bacteriophage) کو ہلاک کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے۔ 

دلچسپ بات یہ ہے کہ CRISPR حملہ کرنے والے وائرس کے جینیاتی مادّے کے ٹکڑے بذریعہ cas9 اور دیگر دوسرے انزائم کے ذریعے کرکے اس کے ایک ٹکڑے کو اپنے پاس اپنی یادداشت کے لئے محفوظ کرلیتا ہے،جس کو سائنس دانوں نے کرسپر ایرے "CRISPR Array" کا نام دیا۔ یوں بیکٹیریا اس CRISPR array کو اپنی یادداشت کے لئے محفوظ کرکے اسے مستقبل میں ہونے والے اسی وائرس کے دوبارہ حملے کے وقت فوری جوابی کارروائی کے لئے خود کو تیار رکھتا ہے۔ دCRISPR-Cas9 کی اسی صلاحیت کو سائنس دانوں نے "Targeted Gene Theropy" یعنی مخصوص مقام کی جینیاتی ترمیم کے مقصد کے لئے استعمال کیا، اس مقصد کے لئے سائنس دانوں نے لیبارٹری میں بیکٹیریا کی CRISPR Array کی طرح اپنے جینیاتی ہدف کے مطابق RWA کے ٹکڑے تیار کرلئے۔

واضح رہے کہ یہ جینیاتی ہدف دراصل جین کے وہ حصے ہیں جوکہ کسی قسم کی بیماری مثلاً کینسر کی وجہ ہیں اور ان کی درستگی کے لئے ان کو ہدف بناکر ان ہی جیسے چھوٹے چھوٹے آر این اے ( RNA )کے ٹکڑے تیار کرلئے گئے اور پھر ان ٹکڑوں کو ایک گائیڈ آر این اےاور Cas-9 انزائم سے جوڑ کر جاندار کے خلیےمیں داخل کردیا جاتا ہے۔ اب یہ ڈیزائن کردہ مخصوص ہدف والا CRISPR-RNA خلیہ کے جینیاتی مادّے یعنی ڈی این اےمیں موجود مخصوص جین یعنی اپنے مخصوص ہدف کو پہچان کر ڈی این اےکے ساتھ جڑ جاتے ہیں۔ اور پھر Cas-9 انزائم اپنے ہدف کی جگہ پر جینیاتی قینچی کا کام انجام دیتے ہوئے۔ڈی این اے کو کاٹ دیتا ہے۔ 

ایک دفعہ ڈی این اے جب اپنے صحیح ہدف پر کٹ جاتا ہے تو پھر اس جگہ پر موجود "Mutated part" یعنی خراب حصے کو درست حصے سے تبدیل کردیا جاتا ہے۔ اور یوں کئی قسم کی جینیاتی بیماریوں جن میں خون، دل، دماغ، اعصابی اور مدافعتی نظام اور یہاں تک کہ کینسر جیسی بیماری کی نہ صرف جانچ بلکہ مستقل علاج کو بھی ممکن بنایا جاسکتا ہے۔2018ء میں CRISPR- Cas9 کو باقاعدہ طور پر انسانوں میں جینیاتی طور سے ہونے والی بیماریوں کے علاج کے لئے تجرباتی طور پر استعمال کرنے یعنی "Human Trials" کی اجازت حاصل ہوگئی۔ اور بالآخر 2020ء میں سائنس دانوں نے ثابت کردیا کہ CRISPR کے ذریعے کرنے والی جینیاتی ترمیم کے مطالعے میں شامل ہونے والے دس میں سے سات تھلیسیما "Beta Thalasscmia" اور تین Sickle cell Anemia کے مریض مکمل صحت یاب ہوگئے۔ CRISPR کی اس کامیابی کے بعد 2020ء میں ان کے موجد سائنس دانوں کو سائنس کے سب سے بڑے نوبل انعام سے نوازا گیا۔

مالیکیولر بائیولوجی کے میدان میں سائنسی تحقیقات کا سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ آج بھی دنیا بھر میں سائنس دان مزید نئے جینیاتی اوزار اور جینیاتی ترمیم کرنے کے لئے نئی تیکنیک کی دریافت اور مختلف قسم کے جینیاتی بیماریوں سے بچائو، علاج اور اس کے موثر طریقہ استعمال کے لئے کوشاں ہیں۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید