کراچی (نیوز ڈیسک) بھارت میں بغاوت کے مقدمات کے حوالے سے میڈیا اور عدالت کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں، بھارتی میڈیا غداری کے مقدمات میں مودی حکومت کا حامی اور عدلیہ مخالف بن کر اُبھر رہا ہے
ویورشپ کی لڑائی نے ایسی جنگ کو جنم دیا جس نے بھارتی صحافت کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا، سیکشن 124اے کے تناظر میں زیادہ تر بھارتی نیوز میڈیا ادارے سازشی اور بدنیتی پر مبنی رپورٹنگ میں ملوث ہیں، مین اسٹریم میڈیا حکمران جماعت کی نظر میں اچھا بننے کی کوشش میں حکومت پر تنقید کرنیوالوں کے خلاف سنسنسی پھیلاتا ہے۔ 2014 ء سے مودی کے اقتدار میں آنے سے ڈریکولائی قوانین کے ذریعے عوام کی آزادی اور حقوق سلب ہورہے ہیں۔
لکشدویپ سے تعلق رکھنے والی فلم ساز عائشہ سلطانہ پر بغاوت کا مقدمہ حکومت پر تنقید کی وجہ سے بنایا گیا۔ ایڈوکیٹ فضیلہ ابراہیم کے مطابق، عوام کی آواز کو دبانے کے پیچھے سیاسی ایجنڈا ہوتا ہے اور مقصد عوام کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹانا ہےجبکہ ایڈوکیٹ ابراہیم کا کہنا تھا کہ بھارتی عدلیہ نے آزادی اظہار رائے کو برقرار رکھا ہے، پروپیگنڈا عدالت سے باہر ہوتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، بھارتی حکومت آج کل اپنے ہی شہریوں سے نبردآزما ہے۔ 2014ء سے بڑھتے ہوئے بغاوت کے مقدمات ظاہر کرتے ہیں کہ کس طرح ڈریکولائی قوانین کو عوام کی آزادی اور بنیادی حقوق سلب کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ یہ نوآبادیاتی دور کی یاد تازہ کردیتی ہے
۔ یہ قوانین پنڈت جواہر لعل نہرو سے نریندر مودی تک تبدیل نہیں ہوئے ہیں۔ بھارت کی حکومت کی جانب سے تعزیرات ہند 1860ء کے سیکشن 124اے کا منتخب عمل درآمد کرنے کا مقصد معترضین کو خاموش کرنے کے ساتھ ان آوازوں کو دبانا ہے جو انتظامیہ پر سوال اٹھاتے ہیں۔
تعزیرات ہند کی یہ شق بھارتی آئین کے آرٹیکل 19 کو بری طرح پامال کرتی ہے، جو ہر شہری کو بنیادی حقوق اور آزادی اظہار رائے کا حق فراہم کرتی ہے۔ لکشدویپ سے تعلق رکھنے والی فلم ساز عائشہ سلطانہ پر حال ہی میں تعزیرات ہند سیکشن 124 اے اور 153 بی کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔
ان کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے 7 جون کو لکشدویپ اور پالیسی تبدیلیوں کے حوالے سے مقامی میڈیا چینل میں گفتگو کی تھی۔ انہوں نے مرکزی حکومت کو کوروناوائرس مینجمنٹ کے حوالے سے ہدف تنقید بنایا تھا۔
لکشدویپ سے تعلق رکھنے والی ایڈوکیٹ فضیلہ ابراہیم کا کہنا تھا کہ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ عوام کی آواز کو دبانے کے پیچھے سیاسی ایجنڈا ہے، اس مقام کی جغرافیائی ساخت اور معیار زندگی ملک کے دیگر حصوں سے بہت مختلف ہے، اسی لحاظ سے کورونا وائرس پروٹوکولز اختیار کرنے کے طریقہ کار بھی جدا ہیں۔ عائشہ سلطانہ کیس میں دیا گیا بیان بھی اسی تناظر میں ہے جو کسی بھی لحاظ سے لگائے گئے الزام کے قریب بھی نہیں۔
عائشہ سلطانہ کا کیس بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا کی اعلیٰ مثال ہے، جسے مین اسٹریم میڈیا کے ذریعے پھیلایا گیا ہے، تاکہ عوام کی توجہ لکشدویپ کے حقیقی مسائل سے ہٹائی جاسکے۔ اسی سبب اس کے خلاف بغاوت کا مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔
بھارت میں ہر سیاسی جماعت جب اپوزیشن میں ہوتی ہے تو وہ بغاوت کے ڈریکولائی قانون پر تنقید کرتی ہے لیکن جیسے ہی وہ اقتدار میں آتی ہے تو وہ خود اس قانون کو اپنے حق میں استعمال کرنا شروع کردیتی ہے۔
مودی کے بھارت میں بغاوت کے کیسز کی میڈیا رپورٹنگ کے وقت ہندو قوم پرستی کے ساتھ آمریت کا بیانیہ بھی جوڑا جاتا ہے، جس کا خاص مقصد اختلاف رائے رکھنے والوں کی آواز دبانا ہے اور جو ایساکرتے ہیں انہیں عام طور پر ملک دشمن ٹھہرایا جاتا ہے۔
اس قسم کا پروپیگنڈا تیزی سے پھیلتا ہے۔ ایسی کیسز میں حقائق کی کمی ہوتی ہے اور عوام بھی حقائق جانے بغیر اس پر یقین کرلیتی ہے۔ سول سوسائٹی ادارے کے اعدادوشمار کے مطابق، مئی، 2014 سے جب سے بی جے پی حکومت اقتدار میں آئی ہے، تب سے 10938 کے 65 فیصد افراد پر بغاوت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
2011 میں کارٹونسٹ اسیم تریویدی پر ان کے کارٹون بنانے پر بغاوت کا مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔
جس پر اے بی پی نیوز نے خبر دی تھی کہ ایک اور کارٹونسٹ سیاسی جماعتوں کی پولیسنگ کی بھینٹ چڑھ گیا۔ اگرچہ اس معاملے کی کوریج یقینی طور پر کامل اور متوازن نہیں تھی لیکن اس کو سنسنی خیز نہیں بنایا گیا تھا اور صحافتی اخلاقیات اور اصولوں پر قائم تھا۔ اس کے برعکس دہلی پولیس نے فروری، 2021 میں 22 سالہ دشا روی کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیا۔
اس کیس کی ٹی وی کوریج میں دشا روی کی واٹس ایپ چیٹ کو لیک کیا گیا، جس میں اس کا تعلق خالصتان تحریک سے جوڑا گیا اور اس کے خلاف منفی بیانیے کا پرچار کیا گیا ساتھ ہی اسے ملک دشمن ٹھہرایا گیا۔
اس کیس کو ہر لحاظ سے سنسنی خیز بنایا گیا۔ یہاں تک کے دشا روی کو دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کرنا پڑا۔ جہاں عدالت نے حکم دیا کہ کوئی بھی لیک ہونے والی معلومات نشر نہ کی جائیں۔ سیکشن 124اے کے تناظر میں زیادہ تر بھارتی نیوز میڈیا ادارے سازشی اور بدنیتی پر مبنی رپورٹنگ میں ملوث ہیں، ایسا کرکے وہ حکمران جماعت کے سامنے اچھا بننے کی کوشش کرتے ہیں۔
2016 میں جواہر لعل نہرو یونی ورسٹی کے طلبا پر بغاوت کے مقدمات سے عائشہ سلطانہ پر قائم بغاوت کے مقدمے تک ہمیشہ اعلیٰ سطح پر مباحث ہوئے اور نیوز چینلز نے اسے ناظرین کی تعداد میں اضافے کے لیے استعمال کیا۔ دوسری جانب بھارتی عدلیہ نے ماسوائے چند ایک تنقید کے اب تک آزادی اظہار رائے کو برقرار رکھا ہے۔
اس ضمن میں ایڈوکیٹ ابراہیم کا کہنا تھا کہ ملک دشمن عناصر سے متعلق مباحث اور پروپیگنڈا ہمیشہ عدالت سے باہر ہوا ہے اور ایسے جملے مخالف فریق نے کمرہ عدالت میں استعمال نہیں کیے۔ یہاں دلائل ہمیشہ قانونی تناظر میں دیئے گئے اور نفرت انگیزی اور اشتعال انگیزی سے ہر ممکن اجتناب کیا گیا۔
حال ہی میں سپریم کورٹ نے ونود دعا بنام یونین آف آنڈیا اور دیگر کیس کے فیصلے میں کہا کہ معلوماتی آواز کی آزادی اور عقلی تنقید قوم کے لیے کمزوری کے بجائے مضبوطی کا ذریعہ ہے۔
یہاں کیدارناتھ سنگھ بنام ریاست بہار کے تاریخی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ایک شہری کو حکومت پر تنقید کرنے کا مکمل حق ہے، جس میں تشدد کا عنصر نہیں ہونا چاہیئے۔ اس بنیاد پر صحافی ونود دعا کے خلاف جون 2021 میں لگائے گئے بغاوت کے الزامات کو بےبنیاد قرار دے دیا گیا۔
نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے اعدادوشمار کے مطابق،2016 سے 2019 کے درمیان بغاوت کے قائم مقدمات میں سے 3.3 فیصد کو ہی سزائیں ہوئیں، حالاں کہ اس دوران مقدمات کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بغاوت کے زیادہ تر مقدمات بےبنیاد ہوتے ہیں۔