• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سپر ہٹ،یادگار، رُومانی اور تاریخی فلم ’’پہلی نظر‘‘ جمعرات 6اکتوبر 1977ء کو کراچی کے پیراڈائز سینما کے پردے کی زینت بنی۔ یہ وہ دور تھا، جب پاکستان کے سیاسی حالات بے حد خراب تھے، بھٹو حکومت کے خلاف قومی اتحاد کی تحریک عروج پر تھی۔ کراچی، حیدرآباد، لاہور، پنڈی، پشاور اور دیگر تمام شہر کرفیو اور ہڑتالوں کی وجہ سے بند تھے۔ کراچی اور حیدرآباد جو کہ اداکار محمد علی کے چاہنے والوں کے شہر تھے، اُن کی پیپلزپارٹی سے وابستگی اور حمایت نے انہیں ان دونوں شہروں کی حمایت سے محروم کر دیا، جس کے نتیجے میں یہاں محمد علی کی فلموں کا بائیکاٹ شروع ہوگیا۔ 

جس کی وجہ سے اس وقت اس معیاری اور لاجواب فلم کو کراچی میں کام یابی نہیں ملی، البتہ یہی فلم جب 1980ء میں سیکنڈ رَن میں کراچی کے کوہِ نور سینما میں ریلیز ہوئی، تو اسے زبردست عوامی رسپورنس ملا، جہاں یہ فلم کئی ہفتوں تک بڑی کام یابی سے دِکھائی گئی۔ فلم کے ہدایت کار اسلم ڈار نے اپنے فلمی کیریئر میں بہت ہی مختلف اور منفرد کام کیا۔ ’’پہلی نظر‘‘ کی کہانی اور موضوع کے بارے میں وہ کہا کرتے تھے کہ تقسیم ہند کے وقت وہ ایک طالب علم تھے، جو ظلم و ستم اس ملک کو حاصل کرنے کے لیے کیا گیا، جو خون ناحق بہایا گیا، اس کے وہ چشم دید گواہ تھے، جس کی گواہی تاریخی کتابوں کے صفحات سے مل سکتی ہے۔ ان کے ذہن میں وہ سارے زخم اور درد تازہ تھے ۔ 

ان ہی زخموں کو پردۂ سیمیں پر لانے کے لیے انہوں نے اس فلم کی کہانی عزیز میرٹھی سے لکھوائی، جو خود بھی آگ اور خون کا دریا عبور کر کے پاکستان آئے تھے۔اس فلم کی کہانی کا مرکزی کردار جانی بدمعاش ہے، جو ایک اُلٹی کھوپڑی کا آدمی ہے، جس کا تعلق ہندوستان کے شہر دہلی سے تھا۔ یہ اُس دور کی کہانی ہے، جب ہندوستان میں مسلمان، ہندو اور سکھ مل جُل کر رہتے تھے۔ ایک دُوسرے کےتہواروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ جانی کے بدمعاش بننے کا پس منظر یہ تھا کہ اُس کی معصوم بہن کو درندوں نے زیادتی کا نشانہ بنایا اور انہیں قتل کر کے جانی جیل چلا گیا اور پھر جب رہا ہوا تو وہ جانی سے جانی بدمعاش بن گیا۔ 

جانی صرف عزت کے لٹیروں اور غریبوں پر ظلم کرنے والے ظالموں کے لیے بدمعاش تھا، غریبوں اور مظلوموں کا وہ آنکھ کا تارا تھا۔ یہ یادگار کردار سپر اسٹار محمد علی نے ادا کیا تھا۔ بابرہ شریف نے دہلی کی رہنے والی ایک سلیقہ مند دوشیزہ سلمیٰ کا کردار کیا تھا، جو فلم کی ہیروئن کا تھا۔ ایک روز جانی ہندوئوں کے ساتھ ہولی کا تہوار مناتے ہوئے سلمیٰ کو دیکھ لیتا ہے، بس جانی کی یہ پہلی نظر اُسے اپنے دل و دماغ میں چاہنے لگتی ہے۔ اداکار ندیم نے ایک نواب زادے سلیم کا کردار کیا، جو سلمیٰ کا منگیتر ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو بے حد پسند کرتے تھے۔ جانی بدمعاشی سے بے پناہ محبت کرنے والی ایک طوائف چمپا (آسیہ) بھی تھی ، جس کے گیتوں اور ناچ میں جانی کی محبت شامل تھی۔ سلمیٰ، سلیم اور جانی کی مثلثی محبت کی یہ کہانی غدر کے زمانے سے شروع ہوئی۔ 

جانی نے سلمیٰ کی محبت میں شرافت کی زندگی بسر کرنے کا ارادہ کیا اور ایک روز خود سلمیٰ کے والد مرزا صاحب (مسعود اختر) سے ملا اور اپنے آپ کو سلمیٰ کے رشتے کے لیے پیش کیا، تو مرزا صاحب نے یہ سُن کر آپے سے باہر ہوگئے اور اُسے بہت بُرا بھلا کہا اور اس بے عزتی پر انہوں نے جانی کو جیل بھجوا دیا۔ مرزا صاحب کے ساتھ سلیم کے والد شیخ کرامت اللہ (افضال احمد) بھی شامل تھے، جو دہلی شہر کے ایک بااثر سیاست دان تھے۔ غرور اور تکبر کی علامت تھے۔ جانی جیل سے رہا ہو کر سلیم اور شیخ کرامت اللہ کی حویلی پہنچتا ہے اور اپنے خنجر سے اُن پر حملہ کرتا ہے۔ سلمیٰ کی مداخلت سے جانی وہاں سے چلا جاتا ہے۔ 1947ء کا زمانہ تھا، جب ہر طرف آگ اور خون کی ہولی سے ہندو اور سکھ مسلمانوں کا قتل عام کر رہے تھے۔ 

شیخ صاحب اور مرزا صاحب سلیم اور سلمیٰ کی شادی طے کر دیتے ہیں۔ علاقے کا سب سے بڑا غنڈہ سنگرام (نصر اللہ بٹ) اپنے بلوائی ہندو اور سکھوں کے ہمراہ مرزا صاحب کی حویلی پر حملے کی تیاریاں کرتا ہے۔ سنگرام اور بلوائیوں کے حملے سے بچنے کے لیے مرزا صاحب جانی کے پاس آ کر التجا کرتے ہیں کہ ان غنڈوں سے صرف تم ہی ہمیں بچا سکتے ہو، جانی، سلمیٰ کی زندگی اور عزت کی خاطر اپنے ساتھی خان صاحب (ساقی) کے ساتھ مرزا صاحب کی حویلی پر پہرہ دیتا ہے۔ بارات لے کر جب سلیم آتا ہے، تو بلوائی چاروں طرف سے مرزا صاحب کی حویلی پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ جانی بڑی بہادری سے ان بلوائیوں کا مقابلہ کرتا ہے۔ مرزا صاحب اور شیخ کرامت کے خاندان کے تمام افراد اس حملے میں مار دیئے جاتے ہیں۔ 

سلمیٰ اور سلیم کو جانی بہ حفاظت اپنے دوست خان صاحب کی جیپ میں روانہ کر کے خود تن تنہا ہزاروں بلوائیوں کا مقابلہ صرف اپنے خنجر سے کرتا ہے۔ جانی کی دہشت سے ہندو اور سکھ کانپ جاتے ہیں، لیکن چاروں طرف سے تلواروں اور خنجروں کی زَد میں جانی لڑتا ہوا شہید ہو جاتا ہے۔ یہ تھی فلم کی مختصر کہانی، جس کے مرکزی کرداروں کے علاوہ فاخرہ شریف، تمنا، سیما، چکرم، سلطانہ اقبال، تایا برکت، نیلم، مصطفے ٹنڈ، ابو شاہ، ناصر جان، آشا پوسلے، عزیز میرٹھی، نذر، ٹینگو نے بھی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ اس فلم میں کل آٹھ نغمات تھے۔ صرف ایک گانے کی دُھن کمال احمد نے بنائی تھی، باقی نغمات ماسٹر عنایت حسین کی دُھنوں کا شاہ کار ہیں۔

ان نغمات کے بول قتیل شفائی نے لکھے تھے۔ ملکہ ترنم نورجہاں کی گائیکی سے آراستہ فلم کے تین گیت بے حد مقبول ہوئے، جن کی تفصیل کچھ یُوں ہے۔(1) دُنیا کب چُپ رہتی ہے (فلم بندی آسیہ)۔ (2) سجناں رےکیوں بھیگے تورے (فلم بندی آسیہ)۔ (3) چھن چھن باجے پائل موری (فلم بندی بابرہ شریف)۔ ان نغمات کے علاوہ کمال احمد کی دُھن میں مرتب کردہ گانا ’’تو نے بھری برسات میں دل جلایا‘‘۔ اس فلم کا ایک مقبول اور خوب صورت نغمہ قرار پایا، جو اداکارہ بابرہ شریف پر فلمایا گیا۔ یہ گانا تسلیم فاضلی نے لکھا تھا۔ شہنشاہ غزل مہدی حسن کا گایا ہوا گیت ’’اے جان تمنّا تیرا چرچا نہ کریں گے‘‘ اداکار محمد علی پر فلمایا گیا، جو فلم کی ہائی لائٹ ثابت ہوا۔

اس یادگار فلم کا چربہ بھارت میں جیت کے نام سے بنایا گیا، جس میں بابرہ شریف والا کردار کرشمہ کپور، محمد علی والا کردار سنی دیول اور ندیم والا کردار سلمان خان جب کہ آسیہ والا کردار تبو نے کیا تھا۔ پہلی نظر ایک شاہ کار اُردو فلم تھی، جو اسلم ڈار کی ذہنی کاوشوں کا ایک نادر اور اعلیٰ شاہ کار ثابت ہوئی۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید