• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’بکرے کی سجی‘‘ ٹنڈوآدم کا خاص پکوان ہے، جسے کھانے کے لیے لوگ مختلف شہروں سے یہاں آتے ہیں۔ یہ انتہائی خوش ذائقہ پکوان ہے۔ ماضی میں بلوچی خانہ بدوش اور بنجارے انتہائی رغبت سے کھاتے تھے۔ اس منفرد پکوان کا آبائی وطن بلوچستان کا خطہ ہے۔ 

صدیوں پہلے سجی بلوچستان کے پہاڑی علاقوں میں کھائی جاتی تھی ،اب کوئٹہ سمیت صوبے کے دیگر شہروں میں بھی اس کی مانگ بڑھ گئی ہے۔ لیکن ٹنڈوآدم کی سجی بھی بلوچستان میں تیار کی جانے والی سجی سے کسی طور کم نہیں ہے۔ ٹنڈو آدم کے قدیم قصبے’’جمن شاہ جتی‘‘ کا ایک خاندان سات نسلوں یعنی تقریبا 200 سال سے اس کاروبار سے وابستہ ہے ۔ 

یہاں کے قدیم باسیوں کے مطابق اس خاندان کے آباء و اجداد بلوچستان کے پہاڑی علاقے میں بکرے اور دنبے کی ران کو دہکتے کوئلوں پر رکھ کر بھونا کرتے تھے۔ دو صدیاں قبل وہ ٹنڈآدم منتقل ہوگئے ،جب سے وہ اس شہر کے دیہی قصبے میں سجی تیار کرکے فروخت کرتے ہیں۔ اس کے پکانے میں گھی یا تیل کا استعمال قطعی نہیں ہوتا۔ 

اسے تیار کرنے کے لیے بکرے یا دنبے کی ران ، دستی یا پٹھہ درکار ہوتا ہے۔اس پرپسی ہوئی ادرک، لہسن، ، سفید سرکا، لیموں کا رس، کچا پپیتا، آم چور، چاٹ مسالہ ، سیاہ اور سرخ مرچ لگا نے کے بعدسلاخوں میں پرو کر کوئلے دہکا کر ان پر رکھا جاتا ہے ۔ ایک سجی کی تیاری میں 5 سے 7 گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔ اہم تقاریب میں مہمانوں کی تواضح اس سے کی جاتی ہے۔