• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یسریٰ اصمعی

ارے تو کیا ہوا زبان کا تلخ ہی تو ہے،یہ بھی تو سوچو تمہاری ہر ضرورت زبان پر آنے سے پہلے پوری کردیتا ہے۔ اچھا کھاتی ہو، اچھا پہنتی ہو، شاندار گھر ہے گھومتی پھرتی ہو اور کیا چاہیے ،بھلا ایک عورت کو ؟ اللہ بخشے ہمارے مرحوم شوہر روپیے پیسے کے لیے ترساتے تھے لیکن گھڑکیاں ایسی دیتے تھے کہ سات گھروں تک آواز جائے لیکن ہم نے کبھی واویلا نہ کیا ۔ شوہر کی ناشکری عورتوں سے جہنم بھری جاوئے گی بیٹیا‘‘۔ دادی نے پان کی گلوری گال میں دبا کر پوتی ثناء کو گھورتے ہوئے کہا تو ثناء نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے وہاں سے ہٹنے میں ہی عافیت سمجھی‘‘۔

دیکھ قدسیہ اب ظہیر جیسا بھی ہے تمہارا شوہر ہے۔ مرد ہوتے ہی غصے کے تیز ہیں اگر غصے میں ذرا زبان خراب کر لیتا ہے تو سہہ جائے بیٹی ۔ اس کو دل پر لیتی ہی کیوں ہے ہنس کر سہہ جائے۔ ضرورتیں تو تمہاری بے کہے پوری کرتا ہے ناں‘‘ ۔ ماں نے داماد کے غصے میں آپے سے باہر ہو جانے کی شکایت پر بیٹی کو سمجھاتے ہوئے کہا۔ ہائے ہائے۔۔۔ تو نےزبان کیوں چلائی۔ تھکے ماندے شوہر کے سامنے بی بی، بولو گی تو مرد کا ہاتھ تو چلے گا۔ اور اب بجائے شوہر سے معافی مانگنے کے ہمارے پاس شکایت لے کر چلی آئیں۔ 

بی بی مجازی خدا ہے تمہارا۔ رانی بنا کر رکھتا ہے یہ بھی تو سوچ۔ بھلا یہ اچھی بیبیوں کے لچھن ہیں کہ، شوہر کی شکایتیں لے کر ساس کے پاس چلی آئیں‘‘۔ فاطمہ کی ساس نے بہو کے انگلیاں چھپے گال اور سوجی آنکھوں کو قطعی نظر انداز کرتے ہوئے لتاڑا۔ یہ تین مناظر نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے مردوں کی مخصوص ذہنیت کی تصاویر ہیں، جس کے تحت اگر مرد ساری مالی ضروریات پوری کرتا ہے تو اس کا ہر رویہ قابل قبول اور قابل برداشت ہے۔ زیادہ افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس ذہنیت کی تخلیق اور پھر برسوں سے اس کو جلا بخشنے کا سہرا بھی خود خواتین کے سر ہی جاتا ہے۔” غصہ تو مرد پر ہی جچتا ہے“۔ ”انا تو مرد کا زیور ہے۔“ 

”مرد تو ہوتے ہی ہاتھ چھوڑ ہیں “۔ جیسے خود ساختہ مقولے اور فلسفے ایجاد کر کے عورتوں نے مطلق العنان، بداخلاق، بدزبان قسم کا مزاج رکھنے والے مردوں کو ہر طرح کی بدسلوکی روا رکھنے کا لائسنس گویا خود ہی تھما دیا ہے۔ اکثر خواتین کے نزدیک زندگی گزارنے کا یہ ایک مصالحتی فارمولا ہے، جس کےتحت ضروریات زندگی مہیا کرنے والے مرد کے ہاتھوں ہونے والی ہرتوہین برداشت کر نے میں ہی عافیت ہے اور یہ کوئی معیوب بات نہیں نہ ایسے مرد حضرات کو ان کے رویے کی بدصورتی سے آگاہ کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ 

ہمارے معاشرے کے بیش تر گھرانوں میں اسی اصول کو مدنظر رکھ کر بچیوں کی تربیت کی جاتی ہے ۔ اپنی عزت نفس کو مجروح ہونے سے بچانے کی نہ ترغیب دی جاتی ہے نہ تربیت ۔ ان باتوں پر گھر اجاڑ لینا یقینا ً کوئی دانشمندی نہیں اور بے شک عورت کا صبرو ضبط ، قربانی اور ایثار ہی مکان کو گھر بناتا ہے ، تاہم مرد ہو یا عورت ،عزت نفس ہر انسان کی محترم ہے۔ بات صرف یہ ہے کہ دو وقت کی روٹی اور کپڑا تو عورت کو اپنے والد کے گھر میں بھی میسر ہوتا ہے۔ 

شادی کے بعد شوہر یہ سب فراہم کر کے اس پر احسان نہیں کرتے ، جس کے عوض ہرزیادتی اور بے عزتی سہہ جانا عورت پر فرض ہو جائے۔مقام افسوس یہ ہے کہ زیادہ تر خواتین مردوں کے اس رویے کو نہ تو برا سمجھتی ہیں نہ اس کی مذمت کرتی ہیں بلکہ غصہ ، چیخ و پکار، گالم گلوچ اور مار پیٹ کو مردانہ فطرت قرار دے کر خاموشی اختیار کیے رہتی ہیں۔ وہ اپنے بیٹوں کی تربیت میں بھی ان اوصاف کے خاتمے کی طرف دھیان نہیں دیتیں ،حالاں کہ جب خواتین کو نصیحت کرتے ہوئے شوہر کو مجازی خدا ۔ شوہر کی ناشکری کو جہنمی ہونے کی وعیدیں سنا کر چپ کروایا جاتا ہے تو عورتوں کو عطا کردہ بے شمار حقوق اور اہل خانہ کے ساتھ حسن و سلوک کی ان تاکیدوں پر بات کیوں نہیں کی جاتی جن کی جوابدہی مردوں سے کی جائے گی۔ 

مائیں گھروں میں یہ تو بتاتی ہیں کہ مرد ایک درجہ قوام ہیں، کیوں کہ وہ اپنے مال خرچ کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ قوام کا رویہ کیسا ہونا چاہیے، عموماً یہ نہ وہ خود جانتی ہیں نہ اولاد کی تربیت کے دوران انہیں بتاتی ہیں۔ حدیث نبوی ﷺہے کہ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے ساتھ اچھا برتائو رکھتا ہے۔ خطبہ حجتہ الوداع تک میں اللہ کے نبی ﷺرہتی دنیا تک کے مسلمان مردوں کو ہدایت کرتے ہیں کہ عورتوں اور غلاموں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو۔جب ہم یک طرفہ نصیحتیں کرتےہیں ،تربیت کے دوہرے معیار اپناتے ہیں ،کمزور فریق کو سدا خاموش رہنے کا درس دیتے ہیں تو معاشرہ عدم توازن کا شکار ہوتا ہے۔ 

خاندانی یونٹ جو ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے وہ ہی بدگمانی اور احساس محرومی کا شکار ہو کر اپنا حسن اور سکون کھونے لگتا ہے، یہ ہی بے سکونی بڑھتے بڑھتے آج بیشتر گھروں کے ٹوٹنے اور تیزی سے طلاق کی شرح میں اضافے کا باعث بھی بن رہی ہے۔ جب تک ہم معاشرے میں رائج خود ساختہ غلط رویوں پر پردے ڈالتے رہیں گے اور سب اچھا کہہ کہہ کر اصلاح کے دروازے خود پر بند کرتے رہیں گے تو ایک مہذب باشعور معاشرے کا خواب شرمندہ تعبیر بھی نہیں ہو پائے گا۔ جب تک ہم برائی کو برائی نہیں سمجھیں گے تب تک ہم اپنے بچوں کی تربیت بھی درست خطوط پر کرنے میں ناکام ہی رہیں گے۔