• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

معروف شاعرہ رحمت النساء ناز کی غزل، جب دل کا درد منزل شب سے گزر گیا، حمیرا چنا کی آواز میں اجراء کیلئے تیار

برسلز (حافظ انیب راشد )برصغیر کی معروف شاعرہ اور ماہر تعلیم، محترمہ رحمت النسا ءنازؔکی مشہورِ زمانہ غزل’’جب دل کا درد منزلِ شب سے نکل گیا‘‘ لیجنڈری گلوکارہ حمیرا چنا کی آواز میں اجرا کے لیے تیار کرلی گئی ہے۔یہ غزل مرحومہ کی تیرہویں برسی پر ریلیز کی جائے گی۔ مرحومہ رحمت النسا ءنازؔ کی یہ غزل اس لیے خصوصی اہمیت کی حامل ہے کہ یہ عوام کے ساتھ ساتھ شاعروں کی بھی پسندیدہ غزلوں میں سے ایک ہے۔یہ غزل نازؔ صاحبہ کے مجموعہِ کلام’’ زخمِ ہجراں‘‘سے منتخب کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ ’’زخمِ ہجراں‘‘ کا 2013 میں یورپی دارالحکومت برسلز میں اس وقت کے سفیر پاکستان منور سعید بھٹی کے ہاتھوں ہوا تھا۔غزل کی ریکارڈنگ کے موقع پر گلوکارہ حمیرا چنا کا کہنا تھا کہ یہ غزل ان کے دل کے بہت قریب ہے۔اس غزل کے ساتھ بہت ساری یادیں اور جذبات جڑے ہوئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ مجھے ایک عظیم شخصیت کے خوبصورت کلام کو گانے کا موقع ملا۔معروف شاعر،کمپوزر ،انٹرٹینر اور مرحومہ کے صاحب زادے سیف اللہ سیفیؔ کا کہنا تھا کہ ان کی والدہ کے سارے کلام دل کو چھونے والے ہیں اور وہ انھیں بھی جلد ریلیز کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ والدہ کے مجموعہِ کلام’’زخمِ ہجراں‘‘میں ہجرت اور اپنوں سے جدائی کے دکھ کی منظر کشی کی گئی ہے۔ غزل کی کمپوزیشن سیف اللہ سیفی کی ہے، جہاں اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ اس میں ناز صاحبہ کے مخصوص ترنم کی روح بھی برقرار رہے جب کہ میوزک ارینجمنٹ عالمی شہرت یافتہ نوجوان کامران اختر نے کی ہے۔ اس غزل پروجیکٹ کی نگراں مرحومہ کی پوتی ،ہالی ووڈ اور برطانوی فلم انڈسٹری کی پروڈیوسر و ایڈیٹر ردا شریف ہیں۔پروجیکٹ کی ڈائریکشن کے فرائض نوجوان سنگر،کمپوزر اور ڈائریکٹر فیضان علی نے انجام دیئے ہیں۔ اس موقع پر حمیرا چنا نے فیضان علی کے ٹیلنٹ کی تعریف کرتے ہوئے ان کی مزید کامیابیوں کے لیے دعا کہ اور انہیں سندھ کی روایتی اجرک بطور ہدیہ پہنائی۔ قارئین کی معلومات میں اضافے کے لیے یہ بتانا ضروری ہے کہ مرحومہ نازؔ صاحبہ 28 جون 1932 کو بھارت کے تاریخی شہر بنگلور میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم کے فوراً بعد رشتہِ اِزدواج میں منسلک ہوگئیں۔قیام پاکستان کے پانچ مہینوں بعد ہی جنوری 1948 میں اپنے شوہر ڈاکٹرمحمد غوث شریف کے ہمراہ پاکستان تشریف لے آئی تھیں۔پاکستان میں بھی انھوں نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور بی اے بی ایڈ کے علاوہ اردو ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور تدریس کے شعبے سے وابستہ رہیں اور بطور ایجوکیشن آفیسر ریٹائرڈ ہوئیں۔آپ سماجی کاموں کے علاوہ باقاعدگی سے مشاعروں اورادبی محفلوں میں شرکت کرتی رہیں، جہاں اپنے مخصوص اندازِ ترنم کی وجہ سے اساتذہ کے ساتھ ساتھ ہم عصر شعرا کی بھی پسندیدہ شاعرہ کا اعزازپایا ۔آپ کے کلام روزنامہ جنگ میں بھی ہر ہفتے باقاعدگی سے شایع ہوتے رہے۔شوہر کے انتقال اور اکلوتے بیٹے کی جدائی کے بعدمرحومہ نے گوشہ نشینی اختیار کرلی۔مرحومہ ہمیشہ اپنے مجموعہِ کلا م کی اشاعت سے انکار کرتی رہیں لیکن شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے اصرار پر اس کی اشاعت کے لیے تیار ہوئیں تو کچھ ہی دنوں بعد محترمہ بے نظیر بھٹو شہید ہوگئیں جس پرناز صاحبہ نے ان کے لیے دو نظمیں بھی لکھیں لیکن وہ بی بی کی شہادت کا دکھ برداشت نہ کر سکیں اور سات مہینوں بعد 9 جولائی 2008 کو اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئیں۔ ان کے واحد مجموعہِ کلام ’’زخمِ ہجراں کو بعد ازاں بنگلور میں ان کے سب سے چھوٹے بھائی مرحوم ضیاؔ کرناٹکی(سید ضیا الحق) اور ہالینڈمیں مقیم صاحبزادے سیف اللہ سیفیؔ نے مرتب کرنے کے بعدان کی پانچویں برسی کے موقعے پر 2013 میں شایع کیا۔

یورپ سے سے مزید