• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

طالبان پیش قدمی، افغان پیشہ ور افراد کی نسل فرار ہونے لگی

کراچی (نیوز ڈیسک) طالبان پیش قدمی، افغان پیشہ ور افراد کی نسل فرار ہونے لگی؛ امریکی فوج کےتحفظ میں پھلنے پھولنے والے کامیاب ترین مرد و خواتین کو اپنی جان خطرے میں نظر آنے لگی۔

تفصیلات کے مطابق افغانستان میں مرد اور خواتین کی پیشہ وارانہ کلاس، اس نسل کا حصہ جو امریکی فوج کی ڈھال کے تحت جوان ہوئی، طالبان قوتوں کے تیزی سے آگے بڑھنے کے خطرے کوتول رہے ہیں۔ بہت سے لوگ اپنے سامان پیک کر رہے ہیں۔

حسیبہ ابراہیمی پہلے ہی جاچکی ہیں۔ 24سالہ اداکارہ، جو جدید افغانستان کے پُرجوش نوجوانوں کیلئے مثال بنیں، ان کی پرورش بہت سے افغانیوں کی طرح پاکستان اور پھر ایران میں مہاجر کی حیثیت سے ہوئی۔ وہ 2014 میں کابل واپس آئیں اور اس کے بعد سے وہ ملک کی نئی فلم انڈسٹری میں اسٹار بن گئیں۔

نومبر میں جاری ہونے والی ایک وڈیو میں انہوں نے نوجوان افغان خواتین کو مشورہ دیا تھا کہ وہ امید نہ چھوڑیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سب کچھ مشکل ہے لیکن کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔ اس کے بعد وہ فوراً آسٹریلیا چلی گئیں۔ وہ اب بھی وہیں ہیں۔ ابراہیمی کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ چاہتی ہیں کہ میں واپس وطن نہ آؤں کیونکہ وہ مجھے خطرے میں ڈالنا نہیں چاہتی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ سوچ کر واقعی افسوس ہوا کہ آپ کے اپنے ملک میں آپ کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ اپریل میں بائیڈن کے افغانستان سے امریکی انخلاء کے اعلان سے کافی پہلے ہزاروں افغان یورپ، آسٹریلیا اور امریکا فرار ہوچکے۔ اب بہت سے تعلیم یافتہ افراد جو نئے افغانستان میں پھلے پھولے اور جنہوں نے ملک چھوڑنے کا خواب نہ دیکھا تھاوہ بھی ملک چھوڑ رہے ہیں۔

تازہ ترین