• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لیاقت مظہر باقری

پیارے بچو: بہت سالوں کی بات ہے، ملک خراسان میں بخت شاہ کی حکومت تھی، جو بہت نیک، خدا ترس اور رحم دل بادشاہ تھا۔اس کے برعکس، بخت شاہ کا وزیر دلاور، انتہائی مغرور اور بد مزاج شخص تھا۔وزیر بننے کے بعد قوت و اختیارات اوردولت کی ریل پیل نے اس کا دماغ خراب کر دیا تھا جس کی وجہ سے وہ ہر شخص کو حقیر سمجھتا تھا۔ ایک دن ،بخت شاہ ، دلاوراور اپنےایک خاص ملازم کے ہمراہ سفر پر روانہ ہوا۔ وہ تینوں علیحدہ علیحدہ گھوڑوں پر سوار تھے۔ جب وہ ایک صحرا سے گزرے تو اچانک انہیں ریت کے طوفان نے گھیر لیا ۔ 

گردوغبار کی وجہ سے انہیں راستہ سجھائی نہیں دے رہا تھا، لیکن ملازم نے بادشاہ کا ساتھ نہ چھوڑا اور اس کے ساتھ رہا جب کہ وزیر ان سے بچھڑ گیا۔کچھ دیر بعد جب طوفان تھما تووہ دونوں الگ الگ وزیر کو تلاش کرنے لگے۔کافی دیر کی تلاش کے بعد ملازم کو ایک جھونپڑی نظر آئی۔ جب وہ وہاں پہنچا تو اسے ایک اندھا فقیر بیٹھا دکھائی دیا۔ ملازم نے اس سے انتہائی بدتمیزی سے پوچھا۔ "او اندھے، ! کیا تو نے اس طرف سے کسی گھڑ سوارکے گزرنے کی آواز سنی ہے"؟ فقیر نے جواب دیا۔ " نہیں بھائی ، مجھے تو کچھ سنائی نہیں دیا" ملازم یہ سن کر آگےبڑھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد وزیر دلاوربھی اپنے ساتھیوں کو تلاش کرتا ہوا ادھرسے گزرا۔ 

جھونپڑی دیکھ کر وہ بھی رکا اور اس نے فقیر پوچھا، ’’ اوفقیر ، کیا تم نے یہاں سے کسی آدمی کے گزرنے کی آوازیں سنی ہیں؟‘‘۔اس نے وزیر کو بھی وہی جواب دیا جو ملازم کو دیا تھا،وزیر بھی وہاں سے آگے بڑھ گیا۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ بخت شاہ بھی اسی جھونپڑی کے پاس سے گزرا۔ فقیر کو دیکھ کر گھوڑے سے نیچے اترا ،پہلے فقیر کو سلام کیا،اس کے بعد انتہائی ادب سے پوچھا۔ "شاہ صاحب! کیا آپ نے کسی گھوڑے کی ٹاپوں کی آوازیں آواز سنی ہیں؟"؟ نابینا فقیر نے جواب دیا، "جی ہاں جہاں پناہ، پہلے حضور کا ملازم ادھر سے گزرا ،پھر آپ کا وزیر" بادشاہ کو یہ سن کر بہت حیرت ہوئی، اس نے پوچھا، "شاہ صاحب! آپ تو نابینا ہیں آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ میں بادشاہ ہوں۔" اندھے فقیر نے مسکرا کر جواب دیا، "عالی جاہ! آپ کے ملازم نے مجھے اندھا کہا، آپ کے وزیر نے مجھے فقیر کہا، حضور نے مجھے شاہ صاحب کہہ کر مخاطب کیا۔ 

لہذا، گفتگو اور لہجے سے میں نے انداز لگا لیا کہ کون کس مرتبے کاہے"۔ بخت شاہ، فقیر کی باتوں سے بہت خوش ہوا اور اسے انعام و اکرام دینے کی کوشش کی لیکن فقیر نے لینے سے انکار کردیا۔ بادشاہ فقیر کی کٹیا سے رخصت ہوکر محل پہنچا جہاں ملازم اس کا انتظار کررہا تھا۔ اس نے اسے فقیر سے بے ہودہ انداز میں گفتگو کرنے پر سرزنش کی۔ اس دوران وزیر بھی محل پہنچ گیا۔بادشاہ نے اسے بھی نابینا فقیر سے ہونے والی گفتگو سے آگاہ کیا ۔ پھر دونوں کو سمجھایا کہ’’ اعلی مرتبے یا عہدے کے نشے میں کسی انسان کو کم تر اور حقیر نہیں سمجھنا چاہیے، یہ سب کچھ اللہ تعالی کا دیا ہوا عطیہ ہے۔ لیکن یاد رکھو، اگر خالق کائنات اگر کسی کو کچھ دیتا ہے تو وہ اسے واپس لینے کی بھی قدرت رکھتا ہے‘‘۔