آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
”بزم اساتذہ اردوسندھ کی صدر پروفیسر فرزانہ خان کی قیادت میں پروفیسر ملک عبدالقدیر غوری، پروفیسر فرح سید اور عرفان شاہ پر مشتمل وفد نے خورشید میموریل ہال عزیزآباد میں اراکین رابطہ کمیٹی ایم کیو ایم امین الحق اور عادل خان سے ملاقات کی جس میں بزم کی صدرپروفیسر فرزانہ خان نے جامعہ کراچی میں بی کام کے نصاب سے قومی زبان اردو کے اخراج پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اراکین رابطہ کمیٹی کی توجہ قومی زبان اردو کے خاتمے کے لئے کی جانے والی سازشوں کی جانب مبذول کرائی۔ انہوں نے بتایا کہ سابق شیخ الجامعہ، رئیس کلیہ فنون اور شعبہ اردو کی عاقبت نا اندیشی کی وجہ سے بی کام کے نصاب سے اردو لازمی کے مضمون کا اخراج ممکن ہوااب دیگر شعبہ جات اور صوبے کی جامعات سے بھی اردو کو ختم کرنے کی کوشش ہورہی ہے جس سے مستقبل قریب میں ایک جانب قومی زبان کا تشخص اور تدریس ختم ہونے کا اندیشہ ہے اور دوسری جانب اردو اساتذہ کی ضرورت اور اسامیاں بھی ختم ہوجائیں گی، اراکین رابطہ کمیٹی نے انتہائی توجہ سے اساتذہ کی معروضات سنی اور اس اہم قومی مسئلے کے حل کے لئے ہر سطح پر اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا، انہوں نے کہا اردو کی بی کام کے نصاب میں بحالی کی جدوجہد میں ہم اساتذہ کے ساتھ ہیں، بزم کی صدر پروفیسر فرزانہ خان نے اراکین رابطہ کمیٹی امین

الحق اور عادل خان کا تمام اساتذہ اردو کی جانب سے شکریہ ادا کیا اور مطالبہ کیا کہ قومی زبان اردو کی بقا کیلئے سندھ میں ایس ایل ٹی (سندھی لینگویج ٹیچر) کی طرح یو ایل ٹی (اردو لینگویج ٹیچر) کا بھی علیحدہ کیڈر قائم کیا جائے گا تاکہ بہتر انداز میں اسکولوں میں اردو کی تدریس ممکن ہوسکے۔ ایک بار پھر قومی زبان کے خلاف سازش اپنے عروج پر ہے اور جامعہ کراچی کی بی کام کے نصاب سے اردو لازمی کو خارج کردیا گیا ہے اور اس کے خلاف بزم اساتذہ اردو سندھ نے بھرپور تحریک شروع کر رکھی ہے۔
سب سے پہلے تو بزم اساتذہ اردو سندھ کی صدر پروفیسر فرزانہ خان اور ان کے اراکین پروفیسر ملک عبدالقدیر پر غوری، پروفیسر فرح سید اور عرفان شاہ کا دلی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اردو پر ایک سخت نازیبا اقدام کے خلاف ایک عملی قدم تو اٹھایا، اللہ انہیں جزا دے۔
تفصیلات معلوم کر کے انشاء اللہ اگلے اظہاریے میں۔
بزم اساتذہ اردو سندھ، خالصتاً اساتذہ کی غیر سیاسی تنظیم ہے جس کا نصب العین، ہر سطح پر ذریعہ تعلیم قومی زبان اردو کا نفاذ و ترویج اور تدریس اردو سے وابستہ مسائل کے حل کیلئے جدوجہد کرنا ہے۔
قومی زبان اردو، نظریہ پاکستان کے استحکام اور اس کی عام آدمی کی سطح تک ترویج و نفوذ کی علامت ہے لیکن کچھ عاقبت نا اندیش اس کے خلاف سازش میں مصروف ہیں۔ یقیناً آپ کے علم میں یہ امر افسوس ہوگا کہ جامعہ کراچی کے سابق شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم صدیقی (یاد رہے ان کی شناخت اردو شاعری ہے نا کہ ان کا سائنس سے تعلق) سابق صدر شعبہ اردو، رئیس کلیہ فنون کی جانب سے بروقت اقدام نہ لینے کی وجہ سے صد افسوس ہے کہ بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح اور بابائے اردو مولوی عبدالحق کے آسودہ خاک شہر کی سب سے بڑی سرکاری درسگاہ، جامعہ کراچی اور اس سے الحاق شدہ کالجز میں بی کام کے نصاب میں سے ”قومی زبان اردو کی تدریس“ کو خارج کردیا گیا ہے۔ بزم اساتذہ اردو سندھ، جامعہ کراچی کے بی کام کے نصاب سے ”تدریس اردو“ اخراج کے مضمرات کے حوالے سے چند اہم حقائق آپ کے علم میں لانا ضروری سمجھتی ہے تاکہ انجمن ترقی اردو پاکستان جیسے موثر ترین ادارے سے اس قومی مسئلے پر آپ جناب کے توسط سے ارباب حل و عقد کی توجہ مبذول کرائی جاسکے۔
چند اہم نکات درج ذیل ہیں
جامعہ کراچی اور اس سے الحاق شدہ کالجز کے بی کام کے نصاب میں ”تدریس اردو“ ایک طویل عرصے سے لازمی مضمون کے طور پر جاری تھی کہ جامعہ کراچی نے اچانک ”بی کام“ میں سے اردو کی تدریس کو نصاب سے خارج کردیا جو کہ یونیورسٹی کے اپنے وقار اور روایت کے خلاف اور آئین پاکستان میں درج اردو کی قومی حیثیت کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ جامعہ کراچی کو یہ بھی امتیاز حاصل ہے کہ یہ شہر قائد اعظم محمد علی جناح اور بابائے اردو مولوی عبدالحق کی نسبت اور ملک کو فکر نو دینے والے سیاسی، سماجی، علمی، ادبی اور مذہبی زعماء کی درسگاہ ہے۔
آئین پاکستان کے تحت قومی تعلیمی پالیسی میں یہ بات طے ہے کہ ”قومی زبان اردو کی تدریس“ پرپرائمری تا گریجویشن کی سطح تک بطور لازمی مضمون ہوگی۔ اردو ہماری شناخت اور ثقافت کی امین ہونے کے ساتھ ہی وسیع تو روزگار کے حصول کا ذریعہ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طلبا و طالبات کی ایک کثیر تعداد کا رجحان اب، سائنس (بی ایس سی) اور فنون ”بی اے“ کے بجائے ”بی کام“ کی جانب ہے۔ جس کا ثبوت درج ذیل اعداد و شمار سے واضح ہے۔
کراچی ریجن میں:
کالجز کی کل تعداد : 181
کامرس کالجز کی کل تعداد: 78
سائنس کالجز کی کل تعداد: 55
آرٹس کالجز کی کل تعداد: 67
بی کام میں طلبا و طالبات کی کل تعداد: 60738
بی اے میں طلبا و طالبات کی کل تعداد:32955
بی ایس سی میں طلبا و طالبات کی کل تعداد: 5883
(یہ اعداد و شمار جامعہ کراچی کے شعبہ امتحانات کے ریکارڈ کے مطابق ہیں)
ان اعداد و شمار سے بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ قومی زبان کی تدریس کو بی کام سے خارج کر کے جہاں نوجوان نسل کو بے روزگار کرنے کا منصوبہ ہے وہیں کالجز لیکچرارگریڈ17 کو شہری کوٹے کی اسامیوں کو بھی محدود کردینے کا جواز پیدا کیا گیا ہے۔ اس طرح ”ایم اے اردو“ کرنے والے طلبا و طالبات کی حوصلہ شکنی کر کے، انہیں ان کی مادری قومی زبان کی بے توجہی کا احساس دلایا جانا بھی مقصود ہے۔
آج زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں ”اردو نوجوان کیلئے معاشی مواقع فراہم نہ کرتی ہو۔ اس سے بھی بڑھ کر ”بزم اساتذہ اردو سندھ“ سمجھتی ہے کہ یہ ہماری شناخت کو ختم کرنے کی ایک ناپاک سازش ہے جو انشاء اللہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکے گی اور اس سازش کیلئے سب سے پہلے ”جامعہ کراچی“ کو استعمال کیا گیا تاکہ اگلے مرحلے پر اسکو مثال بناتے ہوئے سندھ کی دیگر جامعات تک اس سازش کو پھیلایا دیا جائے۔(II) ظلم بالائے ستم تو دیکھئے ”قدیم و تاریخی تعلیم ادارہ، سندھ مدرسة الاسلام کو ”قائد اعظم“ کی نسبت سے وابستگی کی بنیاد پر، ”جناح سندھ مدرسة الاسلام یونیورسٹی“ کا درجہ تو دیا گیا لیکن اس میں شعبہ اردو“ قائم نہیں کیا گیا۔(III) لیاری جنرل یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا مگر اس میں بھی ”شعبہ اردو“ قائم نہیں کیا گیا۔
یہ تمام اقدامات اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ یہ سب کچھ ”قومی زبان“ کی بے توقیری کے ساتھ ہی، ہماری قومی شناخت کو ختم کرنے کے اعلان کے مترادف ہے۔
ذیلی نکات
(الف) پرائمری تا ثانوی مدارس، میں ایس ایل ٹی (سندھی لینگویج ٹیچرز) کا کیڈر قائم ہے لیکن یو ایل ٹی (اردو لینگویج ٹیچرز) کا کوئی تصور نہیں۔ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ صوبائی زبان کی تدریس کیلئے تو ماہر زبان کا ہونا ضروری ہے لیکن قومی زبان کی تدریس کیلئے اس کی ضرورت کو ارباب اختیار نظر انداز کئے ہوئے ہیں؟
اگر صوبہ سندھ میں یو ایل ٹی (اردو لینگویج ٹیچرز) کی اسامی قائم کی جائے تو ایک محتاط اندازے کے مطابق پرائمری تا ثانوی مدارس میں تقریباً 50,000 اردو بولنے والے اساتذہ کو روزگار فراہم ہوسکے گا۔اگر ان مسائل پر فوری توجہ اور ان کے حل کیلئے عملی اقدامات نہ اٹھائے گئے تو اس سے ایک طرف ہماری ثقافتی شناخت ختم ہوجائے گی اور دوسری طرف معاشی عذاب ہماری نوجوان نسل کے مستقبل کو تباہ کردے گا۔فی الحال اس موضوع پر اتنا ہی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں