• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسرائیلی سافٹ ویئر سے 180 صحافیوں کی جاسوسی کی گئی

اسلام آباد (عمر چیمہ) لیک ہونے والے فون نمبرز کے حوالے سے کی جانے والی ایک بین الاقوامی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسرائیلی جاسوسی سافٹ ویئر استعمال کرنے والی کلائنٹ حکومتوں نے 50؍ ہزار فون نمبرز کی مختلف ملکوں میں جاسوسی کی، یہ حکومتیں صحافیوں، سرگرم کارکنوں اور سیاسی مخالفین کیساتھ مخاصمانہ رویہ رکھتی ہیں۔ اسرائیلی کمپنی این ایس او گروپ کے تیار کردہ سافٹ ویئر پیگاسس کے ذریعے کم از کم 180؍ صحافیوں کی جاسوسی کی گئی۔ یہ سافٹ ویئر مختلف حکومتوں کو فروخت کیا گیا ہے۔ سب سے زیادہ آذربائیجان کے صحافیوں کی جاسوسی کی گئی جن کی تعداد 48؍ ہے۔ اسی طرح بھارت 38، مراکش 38، متحدہ عرب امارات 12؍ صحافیوں کی جاسوسی کی گئی۔ ہنگری، ترکی، قطر، الجزائر، اسپین، فرانس، یوگنڈا، ٹوگو، ڈی آر کانگو، برطانیہ، قازقستان، بحرین، سعودی عرب، روانڈا اور میکسیکو بھی جاسوسی کراتے رہے۔ یہ تعداد دیگر صحافیوں کی تعداد سے علیحدہ ہے جن کی جاسوسی کی گئی۔ ان صحافیوں میں نامور عالمی صحافتی اداروں سے تعلق رکھنے والے صحافی شامل ہیں، مثلاً وال اسٹریٹ جرنل، سی این این، نیویارک ٹائمز، الجزیرۃ، بلومبرگ، اے ایف پی، اکانومسٹ، رائٹرز اور وائس آف امریکا 2017ء سے 2019ء تک اسی سافٹ ویئر کے ذریعے 2؍ ہزار پاکستانی اور بھارتی افراد کی جاسوسی کی گئی، تاہم پاکستانی افراد کی شناخت سامنے نہیں آئی۔ اس سے قبل سامنے آنے والی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان کے کچھ دفاعی اور انٹیلی جنس عہدیداروں کی بھی اسی سافٹ ویئر کے ذریعے جاسوسی کی جا چکی ہے۔ جو ڈیٹا لیک ہوا ہے اس میں این ایس او گروپ کی کلائنٹ سمجھی جانے والی حکومتوں کے منتخب کردہ فون نمبرز ہیں، مقصد 2016ء کے بعد سے ان نمبرز کی جاسوسی تھا۔ ریکارڈ میں یہ بات بھی موجود ہے کہ کس تاریخ اور وقت پر جاسوسی کی گئی۔ پیرس میں قائم صحافتی تنظیم ’’فوربڈن اسٹوریز‘‘ اور ایمنسی انٹرنیشنل نے ابتدائی طور پر اس فہرست تک رسائی حاصل کی اور بعد میں اسے دنیا بھر کی 16؍ میڈیا تنظیموں کو جاری کردیا۔ اس تحقیقی رپورٹنگ کو ’’پیگاسس پروجیکٹ‘‘ کا نام دیا گیا ہے جس پر 80؍ سے زائد صحافیوں نے مل کر کام کیا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ رپورٹ واٹس ایپ گروپس میں سامنے آئی جس کے بعد این ایس او گروپ کیخلاف مئی 2019ء میں مقدمہ دائر کر دیا گیا جس میں کمپنی پر غیر مجاز رسائی اور غلط اقدامات کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ مزید تحقیقات کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ پیگاسس سافٹ ویئر فون ہیک کرنے اور تمام تر ڈیٹا اپنے آپریٹر تک بھیجنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جس فون کو ٹارگٹ کرنا ہو اسے ایک ٹیکسٹ پیغام بھیجا جاتا ہے جس میں ہیک کرنے کا لنک موجود ہوتا ہے، صارف جیسے ہی اسے کلک کرتا ہے تو یہ لنک ایک مخصوص ویب پیج پر لیجاتا ہے اور وائرس انسٹال ہوجاتا ہے۔ اس مقصد کیلئے دیگر کئی تراکیب بھی استعمال کی جاتی ہیں۔ بھارت میں بھی کئی لوگوں کو ہیک کیا گیا۔ ایسی ہی ایک مثال عمر خالد کی ہے جو طالب علم اور سرگرم کارکن ہیں اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں۔ 2018ء میں غداری کے الزامات عائد کیے جانے سے قبل ان کے فون کی نگرانی کی گئی۔ انہیں ستمبر 2020ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔ فوربڈن اسٹوریز کا دعویٰ ہے کہ بھارت اور پاکستان کے 2؍ ہزار افراد کی نگرانی کی گئی اور ان اہداف کا انتخاب 2017ء سے 2019ء کے دوران کیا گیا۔ تاہم، پاکستانی افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ بھارت میں جن کئی اداروں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کو ٹارگٹ کیا گیا جن میں دی ہندو، ہندوستان ٹائمز، انڈین ایکسپریس، انڈیا ٹوڈے، ٹریبون اور دی پایونیئر شامل ہیں۔ پنجاب کے مقامی صحافی جسپال سنگھ حیران کی بھی جاسوسی کی گئ۔ 2018ء میں متحدہ عرب امارات میں اغوا ہونے سے قبل سعودی عرب میں خواتین کے حقوق کیلئے لڑنے والی سرگرم کارکن لوجین ہاثلول کی ممکنہ نگرانی کی گئی۔ انہیں بعد میں زبردستی سعودی عرب بھیج دیا گیا تھا۔ دوسری جانب این ایس او گروپ نے میڈیا تنظیموں کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اس کی تیار کردہ پراڈکٹس صرف دہشت گرد تنظیموں اور سنگین جرائم میں ملوث افراد کیخلاف اور ان کی روک تھام کیلئے استعمال کی جاتی ہیں۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق کمپنی کا سافٹ ویئر خریدنے والے کلائنٹس میں 51؍ فیصد انٹیلی جنس ایجنسیاں جبکہ 38؍ فیصد قانون نافذ کرنے والے ادارے ہیں جبکہ 11؍ فیصد کلائنٹس افواج ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ادارہ نجی افراد یا اداروں کو اپنا سافٹ ویئر فروخت نہیں کرتی۔

تازہ ترین