• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عذرا ترمزی سید

ناطم آباد 4 نمبر،کراچی کا وہ صاف ستھرا خوبصورت علاقہ تھا، جہاں میں نے ہوش سنبھالا ،اور جہاں میرےبچپن کے کئی سال گزرے۔یہ بات ہے 1950 کی دہائی کی۔ پاکستان کو آزاد ہوئے کچھ ہی سال ہوئے تھے، اور ہندوستان میں نسل در نسل رہنے والے مسلمان خاندان جوق در جوق اپنا گھر بار چھوڑ کر پاکستان آرہے تھے ۔ان ہی میں سے ایک خاندان ہمارے نانا کا تھا، جو پہلے لاہور پہنچا، اور پھر کراچی کا رُخ کیا ،اور پھر یہا ں مستقل سکونت اختیار کی۔اپنا گھر بنانے کےلیے نانا 4 نمبر ناظم آباد کا انتخاب کیا۔ 

یہ کراچی کے شمالی مضافات میں واقع بہت کھلا کھلا کشادہ علاقہ تھا، جہاں بڑے بڑے خالی میدانوں میں چیدہ چیدہ مکان بننے ابھی شروع ہی ہوئے تھے۔ نانا نے اپنا مکان بنایا، جس کا نام اُنہوں نے اپنے اور اپنی اہلیہ کے نام پر ’روشن سراج‘ رکھا، جو وقت کے ساتھ ا ُس علاقہ کی پہچان بن گیا تھا۔ میرا بچپن وہیں گزرا ۔

گھر کے برابر ہی ناظم آباد کلب تھا، جس کے بڑے حال میں تقریبات اور ثقافتی پروگرام منعقد ہوتے تھے ۔اس کلب میں بیڈمنٹن اور ٹینس کورٹ بھی تھے ۔گھر کے پیچھے کی طرف خالی میدان تھا جس میں بّچوں کے کھیلنے کے لیے جھولے لگائے گئے تھے۔ سارے محلّے کے بچّے وہاں کھیلنے آتے تھے۔ امیر غریب کا کوئی فرق نہ تھا۔ کرائے کی سائیکلوں کی بھی دکان تھی ۔میں نے بھی وہیں سے سائیکل چلانا سیکھی۔ بے فکری کا زمانہ تھا۔ سورج ڈھلنے کے بعد محلّہ والے چہل قدمی کرنے نکلتے۔ 

سڑک پر اُس وقت نہ کوئی ٹریفک ہوتا، نہ کسی چور اُچکے سے کچھ چھینے کا خطرہ ۔میری آنکھ فجر کی اذان سے کم اور محلّہ میں گاڑیوں کے اسٹارٹ ہونے کی آواز سے زیادہ کھلتی۔ اس زمانے میں ذرا پرانی گاڑیوں کے اسٹارٹ کرنے کا بڑا مسئلہ ہوتا۔ گھر کے ملازم ایک بڑے سے سریہ کے ہینڈل کوانجن میں لگا کر ہاتھ سے گھماتے تھے، اور کئی دفعہ گھمانے کے بعد کہیں جا کر گاڑی اسٹارٹ ہونے کی آواز آتی۔

میرا بستر اوپر کی منزل میں کھڑکی کے پاس تھا، جو رات کو ٹھندی ہوا کےلیے کھلی رہتی۔ جب سب طرف سے ساری آوازیں آنی ختم ہو جاتیں تو دور کہیں سے بڑی پُر اسرار سی گھنٹیوں کی آواز آنی شروع ہوتی، اور میں کھڑکی کے باہر جھانکتی تو دور کہیں اندھیرے میں بڑے بڑے سائے سے چلتے ہوئےدکھائی دیتے۔ یہ سائے چاندنی راتوں میں اور بھی پُر اسرار لگتے۔ اسی آواز کو سُنتے سُنتے آنکھ لگ جاتی تھی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ اونٹوں کےبڑے بڑے کاروان تھے، جن پر وہاں کے نزدیکی گاؤں سے چارہ لے کر یہ لمبی لمبی قطاروں میں رات کے وقت شہر کی طرف جاتے تھے ،اوراُن اونٹوں کے گلے میں بندھی گھنٹیوں کی آواز ہمیں اس سناٹے میں دور تک آتی تھی۔

اُس وقت وہاں آبادی بہت کم تھی ، گھر بہت کھلے کھلے تھے اور اُن میں چاروں طرف کھلے ہوئے برآمدے تھے ۔ صبح رات بھر شبنم سے بھیگی مٹی اور کیاریوں میں لگی موتیا ،چمبیلی کی خوشبو سارے گھر میں پھیلی ہوتی تھی۔ اس زمانے میں کراچی کا موسم زیادہ تر خوش گوار رہتا تھا۔ کچھ دن سخت گرمی کے ضرور ہوتی تھی تودن میں کھڑکیوں کے پردے بند کر کے بچوں کوٹھنڈے ٹھنڈے خوبصورت ٹائیل کے فرش پر چٹائی ڈال کر لٹا دیا جاتا۔ کمروں کی چھتیں اُونچی ہوتی تھیں، اور اوپر کی طرف گرم ہو اکے نکلنے کے لیئے روشندان ہوتے تھے۔ ان کے سائے میں چڑیاں بھی آکر بیٹھ جاتی تھیں، اور اُن کی چہچہاہٹ اور چھت پر لگے پنکھے کی آواز سنتے سنتے آنکھ لگ جاتی تھی۔

اُن دنوں کراچی میں ہلکی پھلکی پھوار تو اکثر ہی پڑ جاتی تھی، اور برسات میں تو خوب ساون کی جھڑی لگتی تھی۔ ہمارے گھر کے چاروں طرف بڑے بڑے خالی میدان تھے، جن میں بارش کا پانی کھڑا ہوجاتا تھا، اور۔ محلّے کے بچے سارا دن اُس میں کھیلتے اور کاغذکی کشتیاں بنا کر تیراتے تھے۔ ان مٹیالے میدانوں کے کنارے کچھ ہریالی بھی پھوٹ پڑتی، اور کنارے کنارے بیر بہوٹیاں بھی نکلنی شروع ہو جاتیں اور قطار در قطار سارے میدانوں میں بھر جاتی تھیں۔

ناظم آباد 4 نمبر خوب رونق والا علاقہ تھا ۔ صبح سے لےکر دوپہر تک ٹھیلوں اور گٹھریوں میں سامان لیے لوگ سڑکوں پر آوازیں لگاتے پھرتے۔عورتوں کو تو گھر سے نکلنا ہی نہیں پڑتا تھا ، دنیا جہاں کا سامان گھر پر ہی آجاتا تھا ۔ کوئی سر پر دہی سے بھرا مٹکا رکھے دہی بیچ رہا ہوتا ، توکہیں قلئی والے گھروں پر آکے پتیلیوں کو جھل جھل چمکا کے بالکل نئی بنادیتے۔ سردیوں میں رضائی گدّوں کی روئی دُھنکنے والے اپنا اِکتارا بجاتے پھرتے، تولیئےچادریں ، اور کپڑا بیچنے والے سروں پر گٹھریاں اُٹھائے آوازیں لگاتے پھرتے تھے ۔ چوڑیوں والے ٹھیلوں پر ڈھیروں چوڑیاں سجا کر لاتے۔ 

سورج کی تیز کرنوں میں وہ اور بھی جگمگاتیں۔ دوپہر کو ہی، جب بڑو ں کے قہلولہ کا وقت ہوتا تھا، سپیرے اپنی بین اور بندر والے ڈُگڈُگی بجاتے پھرتے تھےبچوں کو تماشہ دکھا نے کےلیے۔ میدان کے اُس پار ہاؔدی مارکیٹ تھی ۔اس کے پاس جامع مسجد تھی۔ ناظم آباد 4 نمبر کی ایک اپنی ہی تہذیب تھی ۔بڑے ہی ملنسار اور مخلص لوگ رہتے تھے۔ ایک دوسرے کی خوشیوں میں اور دُکھ درد میں برابر کےشریک ہوتے ۔ محرّم میں اہلِ تشیع کے جلوس سڑک سے گزرتے تھے اور سنیّوں کے گھروں کے باہر ٹھنڈے پانی اور میٹھے شربتوں سے بھری سبیلیں لگائی جاتی تھیں ۔ گھروں کے آگے خالی میدانوں میں شادی کی تقریبات کےلیے شامیانے لگائے جاتے تھے۔ ملاد شریف کی محفلیں ہوتیں۔

پیچھے کی طرف جو گھر تھااس کا نام’ صحنِ گل‘ تھا۔ اس گھر میں ہمیشہ بہت رونق ہوتی اور ہر وقت کچھ نا کچھ گہما گہمی رہتی تھی۔ اس گھر کے سب لوگ بھی بہت ملنسار تھے۔ اُن کے گھر کا اور ہمارے گھر کا پیچھے کا دروازہ کھلا ہی رہتا، اور بڑی اپنائیت سے ایک دوسرے کے گھر آنا جانا رہتا تھا۔ اس ہی محلّے میں جسٹس لاؔری کا گھر تھا۔ ہمارے نانا ،نانی دونون کا اُن اُن کے گھر بہت آنا جا ناتھا، اُن کی چھوٹی بیٹی فردؔوس میری ہم عمر تھی، تو میں اکثر ہی اپنی نانی کے ساتھ اُن کے گھر چلی جاتی تھی۔

اُن کے بڑے بیٹے اور بہو، آرکیٹکٹ یاسمین لاری اور میرے والدین آکسفرڈ کے ایک ہی گھر کے دو الگ حصّوں کے کرائے دار تھے ۔ کتنی ہی باتیں ، کتنے ہی لوگ اس محلے کے یاد آرہے ہیں، کچھ کی صرف شکلیں ہی یاد ہیں اور کچھ کے مکان۔ بہت ہی اچھے لوگ تھے، بہت ہی خوبصورت محلّہ تھا، بڑا اچھا زمانہ تھا، بس اب یادیں ہی باقی ہیں، لیکن یہ یادیں اتنی قیمتی ہی کہ آج اُن کو دہرا کے، اور لکھ کر، بہت ہی اچھا لگ رہا ہے۔