• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

غیرقانونی امیگریشن سے نمٹنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، ہوم آفس

لندن (پی اے )  ہوم ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ وہ غیرقانونی امیگریشن کے ناقابل قبول مسئلے کو حل کرنے کیلئے ٹھوس اور موثر اقدامات کر رہا ہے۔ہوم آفس کا کہنا ہے کہ  گزشتہ روز کم از کم 430مائیگرنٹس انگلش چینل کو عبور کر کے برطانیہ پہنچ گئے جو ایک دن میں نئی ریکارڈ تعداد ہے تقریباً 50 افراد کو ایک ڈنگی میں انگلش چینل عبور کرنے کے بعد کینٹ میں ڈنگینیز بیچ پر لینڈنگ کرتے دیکھا گیا۔ اس گروپ میں عورتیں اور بچے شامل تھے۔ اتوار کو آٹھ کشتیوں میں سوار 241 مائیگرنٹس برطانیہ پہنچے تھے۔ رواں سال میں 345 کشتیوں کے ذریعے اب تک تقریباً 8000 مائیگرنٹس برطانیہ میں داخل ہوئے ہیں۔ ستمبر 2020 گزشتہ روزانہ تعداد 415 تھی۔ ہوم سیکریٹری پریتی پٹیل نے کہا کہ وہ انگلش چینل کراسنگ کو ناقابل عبور بنانے کیلئے اقدامات کر رہی ہیں ۔ کلینڈسٹائن چینل تھریٹ کمانڈر ڈان او مہونی نے کہا کہ خطرناک چھوٹی کشتیوں میں انگلش چینل کو عبور کرنے میں اضافہ ناقابل قبول ہے کیونکہ یورپ بھر میں غیرقانونی امیگریشن میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوںنے کہا کہ لوگوں کو چاہیے کہ وہ پہلے محفوظ ملک میں اسائلم حاصل کرنے کا دعویٰ کریں جہاں وہ پہلے پہنچتے ہیں نہ کہ وہ غیر قانونی طور پر انگلش چینل عبور کر کے اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالیں ۔ انہوں نے کہا کہ نیشنلٹی اینڈ بارڈر بل زندگیوں کو محفوظ بنائے گا اور غیر قانونی کراسنگ کے سائیکل کو توڑے گا ۔ جن لوگوں کے پاس برطانیہ میں رہنے کا کوئی قانونی حق نہیں ہے حکومت ان کی واپسی کو جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان غیر قانونی کراسنگز کے پس پردہ مجرموں کا تعاقب جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کے تحت جو اس وقت کامنز میں ایم پیز کے زیر غور ہے برطانیہ میں جانتے بوجھتےغیر قانونی آمد کرمنل آفنس قرار دیا جائے گا ۔ بغیر اجازت کے برطانیہ میں داخل ہونے والے مائیگرنٹس کو چار سال تک قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لیکن ان پلانز پر زیفوجی ایکشن سمیت چیرٹیز نے تنقید کی ہے جو ان پلانز کو ایکسٹریم اور گندا قرار دیا ۔
یورپ سے سے مزید