• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چیئرمین نیب تقرری میں چیف جسٹس کی مشاورت لازمی نہیں، جوڈیشل کونسل

اسلام آباد( رپورٹ: رانا مسعود حسین ) سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے چیئرمین قومی احتساب بیورو جاوید اقبال کیخلاف مبینہ مس کنڈکٹ کے الزام میں انہیں اس عہدہ سے ہٹانے کے حوالے سے دائر شکایت سے متعلق کی گئی سماعت کا تحریری فیصلہ سامنے آگیا ہے۔

جس میں قرار دیاگیا ہے کہ سپریم کورٹ کے شاہد اورکزئی بنام وفاق پاکستان کیس کے فیصلے کی روشنی میں بادی النظر میں لگتا ہے کہ چیئرمین نیب کی تقرری کے عمل میں چیف جسٹس آف پاکستان کی مشاورت لازمی نہیں۔

تاہم سپریم کورٹ ہی کے اسفندیار ولی بنام وفاق کیس کے فیصلہ کے صفحہ نمبر 288میں عدالت کی جانب سے دی گئی تجاویز فعال نظر آتی ہیں کیونکہ سپریم کورٹ کے چوہدری نثار علی خان بنام وفاق کیس کے فیصلے میں عدالت نے یہ تجاویز واپس نہیں لی ہیں۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس مشیر عالم ، جسٹس عمر عطا بندیال ،جسٹس احمد علی شیخ (چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ ) اور جسٹس اطہر من اللہ (چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ )پر مشتمل 5رکنی سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس 12جولائی کو ہوا تھا۔

جس میں شکایت گزار محمد سعید ظفر اور اٹارنی جنرل پیش ہوئے تھے ،جہاں شکایت گزار نے آئین کے آرٹیکل 209(5) اور نیب آرڈیننس 1999کی دفعہ 6(ba)کی ذیلی دفعات ہائے ایک ،دو اور تین کے حوالے دیتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ چیئرمین نیب کیخلاف مس کنڈکٹ کی شکایت سننے کا مناسب اور موزوں فورم سپریم جوڈیشل کونسل ہے جبکہ اس کے برعکس اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نےاسفندیارولی خان بنام وفاق کیس کے صفحہ نمبر 287 کا حوالہ دیتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ عدالت نے نیب آرڈیننس کی دفعہ(b)(1) 6کو ،جس کے مطابق چیئرمین نیب صدرمملکت کی خوشنودی تک اپنے عہدہ پر رہ سکتا ہے،آئین سے متصادم قراردیا تھا۔

انہوں نے فیصلے کے صفحہ نمبر 287 کا حوالہ دیتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ عدالت نے اس میں نیب آرڈیننس کی دفعہ 6میں 5 ترامیم کرنیکی تجویز پیش کی تھی ،جن میں چیئرمین نیب کی تقرری کے میں چیف جسٹس سے مشاورت کی تجویز اور اسے ہٹانے کیلئے اعلی عدلیہ جج کو ہٹانے جیسی شرائط لاگو کرناشامل کرنا تھا،یہی سوال شاہد اورکزئی بنام وفاق کیس میں بھی عدالت کے سامنے اٹھا تھا۔

جس میں عدالت نے چیئرمین نیب کی تقرری کے میں چیف جسٹس سے مشاورت کی تجویز کی اہمیت کو دھراتے ہوئے قرار دیا تھا کہ اس عدالت کی جانب سے گاہے بگاہے دی جانے والی ہدایات مستقبل میں ہونے والی تقرری پر بھی اثر انداز ہوں گی، اور ایماندار اور اچھے چیئرمین نیب کی تقرری کے عمل میں کوئی بھی چیف جسٹس سے مشاورت میں شرم نہیں محسوس کرے گا ،تاہم چوہدری نثار علی خان بنام وفاق کیس میں عدالت نے قراردیاتھا کہ یہ صرف تجاویز اور سفارشات ہی ہیں،جو قانون کا درجہ نہیں رکھتی ہیں۔

سپریم جوڈیشل کونسل نے قرار دیاہے کہ ان عدالتی فیصلوں کے پس منظر میں عدالت کی معاونت کیلئے اٹارنی جنرل نے ان سوالات کا جواب دینے کیلئے حکومت سے ہدایات لینے کیلئے مہلت طلب کی ہے ، ان کی استدعا منظور کرتے ہوئے شکایت کی مزید سماعت ماہ ستمبر تک ملتوی کی جاتی ہے ۔

اہم خبریں سے مزید