• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بشریٰ انصاری، صبا قمر بھی نور مقدم کیس پر بول پڑیں

اسلام آباد میں بےدردی سے قتل کی جانے والی 26 سالہ لڑکی نور مقدم کو انصاف دلانے کیلئے فنکار برادری بھی میدان میں آگئی۔

ایمن خان، صبا قمر، بشریٰ انصاری سمیت دیگر فنکاروں نے اپنے سوشل میڈیا پیغامات میں نور قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کیلئے سخت سزا کا مطالبہ کیا ہے۔

اداکارہ بشریٰ انصاری نے لکھا کہ وہ نور کے قتل کی مذمت کرنے کیلئے طاقت اور لفظ جمع کرنے سے قاصر ہیں، نور قتل کیس میں ہم اپنے دکھ کو بیان نہیں کرسکتے۔


بشریٰ انصاری نے لکھا کہ ’مرد سمجھتے ہیں کہ عورت ان کی ملکیت ہے، بس یہی سوچ اور سوچنے کے اس زاویے کو بدلنے کی ضرورت ہے۔‘

اداکارہ نے کہا کہ ’ملزم کی پوری فیملی جرم میں برابر کی شریک ہے کیونکہ انہوں نے ظاہر کو نور کو بےدردری سے قتل کرنے سے نہیں روکا، جبکہ وہ نور اور اس سے متعلق سب جانتے بھی تھے۔‘

انہوں نے لکھا کہ ’نور اس وقت چیخ چلّا رہی ہوگی لیکن وہاں کھڑے ملازم تماش بین بنے کھڑے رہے اور پولیس کو فون نہیں کیا، وہ کس چیز کا انتظار کررہے تھے؟ اسے اسی وقت گولی کیوں نہیں ماری گئی؟‘

بشریٰ انصاری نے ملزم ظاہر جعفر کیلئے کڑی سزا کا مطالبہ بھی کیا۔


صبا قمر نے نور کیلئے کی گئی پوسٹ میں لکھا کہ ’انسانیت کہاں ہے، ملک میں کسی خاتون کے ساتھ ہونے والا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔‘

انہوں نے لکھا کہ ’ہم کب تک ایسے سفاکانہ قتل کے واقعات کو نظر انداز کریں گے اور اپنے کاموں میں واپس لگ جائیں گے؟‘

ایمن خان نے لکھا کہ ’نور کو انصاف ضرور ملے گا اور ملزم ظاہر جعفر جہنم کی آگ میں جلے گا۔‘

خیال رہے کہ اسلام آباد پولیس نے 20 جولائی کی رات ملزم ظاہر کو ان کے گھر سے گرفتار کیا تھا جہاں نور کے والدین کے مطابق ملزم نے تیز دھار آلے سے قتل کیا اور سر جسم سے الگ کیا تھا۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید