• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نور مقدم قتل کیس کی تفصیلات نے لوگوں کو مزید خوف میں مبتلا کردیا


کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیوکے پروگرام ”آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ“ میں میزبان شاہ زیب خانزادہ نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ نور مقدم قتل کیس کی تفصیلات نے لوگوں کو مزید خوف میں مبتلا کردیا،سابق سفیر کی بیٹی کے دردناک قتل کو7 دن گزر گئے۔

ملزم ظاہر جعفر سے متعلق آئے روزنئی تفصیلات سامنے آرہی ہیں،کاؤنسلنگ اور تھراپی کی حوصلہ شکنی ہورہی ہے جو نہیں ہونی چاہئے،ملزم کی کرمنل ہسٹری کو کیس کاحصہ بنانے کا فیصلہ ،پہلے معاملہ انفرادی نظر آرہا تھا اب ملزم کی خواتین کو ہراساں کرنے اورمجرمانہ سرگرمیوں کی تفصیلات سامنے آرہی ہیں۔

ملزم کے برطانیہ اورامریکا میں مجرمانہ ریکارڈ کیلئے فنگر پرنٹس لے لئے گئے،دونوں ممالک سے کرمنل ہسٹری مانگی گئی ہے،ہسٹری کے باوجودظاہر جعفر کیسے پاکستان میں قائم ذہنی بیماریوں کا علاج کرنیوالے تھراپی ورکس کے ادارہ میں کام کرتا رہا،تھراپی ورکس کے بحیثیت ایک ادارے کے طور پر کئی سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔

شاہزیب خانزادہ نے اپنے تجزیئے میں مزید کہاکہ پاکستان کے سابق سفیر شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم کے دردناک قتل کوسات دن گزر گئے ہیں اور قتل کرنے والے ملزم ظاہر جعفر سے متعلق آئے روزنئی تفصیلات سامنے آرہی ہیں۔کچھ اہم اور حیران کن تفصیلات تک ہم نے براہ راست رسائی بھی حاصل کرلی ہے ۔تفصیلات ہم آپ کے سامنے رکھنے جارہے ہیں وہ اس کیس سے جڑا ایک بہت بڑا اسکینڈل ہے ۔ 

ایک ایسا اسکینڈل جو ذہنی بیماریوں کے علاج کے نام پر سامنے آیا ہے ۔ایک ایسے شعبے کو بدنام کرنے کی بنیاد بنا ہے جس کی پاکستان میں اشد ضرورت ہے۔پاکستان میں اس وقت ایک بڑی آبادی ڈپریشن اوردیگر ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہے۔پاکستان میں ایک بڑی تعداد تھراپی اور کاؤنسلنگ کرانے کے لئے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتی ہے۔

ڈپریشن اوردیگر امراض کو تسلیم کرنے اور اس کا علاج کرنے سے انکار کرتی ہے لیکن نور مقدم کے کیس کی تفصیلات نے لوگوں کو مزید خوف میں مبتلا کردیا ہے کیونکہ اس سے مزید کاؤنسلنگ اور تھراپی کی حوصلہ شکنی ہورہی ہے جو کہ نہیں ہونی چاہئے۔جو اسکینڈل ہم آپ کے سامنے رکھ رہے ہیں اس کا قطعاً مقصدکاؤنسلنگ یا تھراپی کی حوصلہ شکنی کرنا نہیں ہے بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں بدنام کرنے والوں کی تفصیلات آپ کے سامنے رکھنی ہے۔

پہلے یہ معاملہ انفرادی نظر آرہا تھا مگر اب ملزم کی خواتین کو ہراساں کرنے اورمجرمانہ سرگرمیوں کی تفصیلات سامنے آرہی ہیں۔ صرف یہی خبریں نہیں آرہی ہیں کہ ملزم کی کرمنل ہسٹری کونور مقدم کیس کاحصہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 

ملزم ظاہر جعفر کے برطانیہ اورامریکا میں مجرمانہ ریکارڈ کے لئے فنگر پرنٹس لے لئے گئے ہیں۔ملزم کے فنگر پرنٹس امریکا اور برطانیہ کے سفارتخانوں کو بھجوا دیئے گئے ہیں دونوں سفارت خانوں سے ملزم کی کرمنل ہسٹری مانگی گئی ہے۔ملزم ظاہر جعفر کو 2016ء میں برطانیہ میں3 مہینے قید اور ڈی پورٹ کیا گیا تھا۔

مگر اس ہسٹری کے باوجودظاہر جعفر کیسے پاکستان میں قائم ذہنی بیماریوں کا علاج کرنے والے تھراپی ورکس کے ادارے میں ایک تھراپسٹ کے طور پر کام کرتا رہا۔کیسے اسے داخلہ ملا کیسے اس نے تین لیول کلیئر کئے کیسے لیول فور تک پہنچا۔ کیسے اسکول میں جاکر بچوں کی کاؤنسلنگ کے سیشن لئے کیسے تھراپی ورکس میں مریضوں کو دیکھتا رہا۔

تھراپی ورکس وہ ادارہ ہے جس کے اہلکاروں کا نور کے قتل کے بعدسب سے پہلے ظاہر جعفر سے آمنا سامنا ہوا۔ ظاہر جعفر کے والدین کے کہنے پر تھراپی ورکس کی ٹیم ظاہر جعفر کے گھر پہنچی مگر یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ وہ شخص جو خود پرتشدد ہوجس کی منشیات اور شراب کی لت کی ایک ہسٹری ہووہ ایک تھراپسٹ کے طور پر کیسے کام کرتا رہا ہے۔

اہم خبریں سے مزید