• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ انسان کی یادیں ایک ایسا قیمتی سرمایہ ہیں جو جذبات کی دنیا میں کبھی بھی تہلکہ مچاسکتی ہیں اور جو کبھی ہونٹوں پر ہنسی بکھیرتی ہیں تو کبھی آنکھ میں آنسو لے آتی ہیں ۔ انسان کو اپنی زندگی کے ہر واقعے، موقع اور موسم پر اس سے جڑی باتیں یاد آتی ہیں جو ذہن کے پردے پر کسی فلم کی طرح چلتی محسوس ہوتی ہیں ۔

ہمارے بچپن سے ہی ہم نے اکثر یہ دیکھا کہ بقرعید پر بارش ہوجاتی تھی بس درمیان میں کچھ سال ایسے بھی آئےتھے کہ جیسے بارشیں ہمارے شہر کا راستہ بھول گئیں ورنہ ہمارے بچپن میں اکثر بقرعید پر بارش ہوجاتی تھی، جس سے بچوں کی عید کا تو لطف دوبالا ہوجاتا اور بڑے پریشان ہوجاتے ،کیوں کہ جانوروں کو پانی سے بچانے کی فکر کے ساتھ ساتھ گندگی بھی بڑھ جاتی بالکل ایسے ہی جیسےاس عید پر لوگ برسات کی وجہ سے پریشان تھے کہ اگر ہوتی رہی تو جانوروں کی حفاظت کیسے کریں گے۔

 برسات کی خوشی بھی اپنی جگہ ہے اور کیوں کہ بچے ان فکروں سے آزاد ہوتے ہیں اس لئے وہ بارش سے بہت خوش ہوتے ہیں۔ ہمارے بچپن میں ہم اپنی دادی اور نانی سے سنتے تھے کہ پارٹیشن سے پہلے جب وہ لوگ ہندوستان میں رہتے تھے تو کیسی شان سے برسات منائی جاتی تھی جھولے ڈلتے تھے، ملہار گائے جاتے تھے اور طرح طرح کے پکوان پکتے تھے۔ ان قصوں میں ہمیں بہت دلچسپی ہوا کرتی تھی اور ہم الف لیلوی داستان کی طرح ان برسات کی بہاروں کے قصے سنا کرتے تھے۔ 

اس وقت ہمارے بزرگ بھی ماضی کو یاد کرکے آہیں بھر رہے ہوتے تھے کہ ہائے! اب کیا برسات اور کیا اس کے مزے !! سب مزے تو ہندوستان میں ہی رہ گئے۔ اب عمر کے اس حصے میں پہنچ کر جب پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ ہمیں بھی تو اپنے بچپن کی برسات میں کتنا مزہ آتا تھا ۔آج کل بھی بارشوں کا موسم ہے اور بارش کے ساتھ ہی ہمیں بھی اپنے بچپن کی بارشیں یاد آجاتی ہیں ۔ 

ہمیں بقر عید پر اس لئے بھی زیادہ خوشی ہوتی تھی کہ ہمارے سعودی عرب میں رہنے والے چچا صاحب بقرعید پر ہی ایک مہینے کی چھٹی پر پاکستان آیا کرتے تھے ہماری پھپھوبھی کراچی سے حیدرآباد آکر سب کے ساتھ ہی عید منایا کرتی تھیں اگر بقرعید پر بارش ہوجاتی تو ہمارے گھر کا سین قابل دید ہوتا تھا چھوٹے سے آنگن میں بندھے کبھی چار کبھی پانچ بکرے ، بارہ تیرہ بچے اور تقریباً آتے ہی بڑے ،آنگن میں چارہ پھیلا ہوا ( کیونکہ ہر بچہ یہی چاہتا تھا کہ وہ بکرے کو چارہ کھلاتا رہے ) ۔گرمی ، حبس، بدبو اور ہماری صفائی کی دلدادہ امی ہاتھ میں جھاڑو پکڑے ہر وقت آنگن دھوتی رہتی تھیں لیکن پھر بھی سب خوش رہتے تھے، کیوںکہ گھر چاہے چھوٹا تھا لیکن دل بڑے تھے۔ ناں بچے پریشان ہوتے تھے اور ناں ہی بڑوں کے ماتھے پر بل آتے تھے ہمارے چچا صاحب کی خواہش ہوتی تھی کہ جب پاکستان جاؤں تو بارش ضرور ہو ۔ 

وہ بادلوں کو آتا دیکھ کر جھوم جھوم جاتے تھے اور ہمارے ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی میں رہنے والے پھپھو پھپا جان ماتھے پر بل ڈالے بغیر جس کو جہاں جگہ ملتی سوجاتے تھے بلکہ ہم بچوں کا تو سونے کا بھی دل نہیں چاہتا تھا بارش اور بکروں میں اتنا مصروف ہوا کرتے تھے۔ ہمارا گھر ہیر آباد حیدرآباد میں تھا جو ایک پہاڑی پر آباد کیا گیا تھا اس لئے بارشوں کے موسم میں پانی ڈھلانوں سے بہہ جاتا تھا اور کیچڑ اور گندگی کا نام و نشان نہیں ملتا تھا بلکہ دھلی دھلائی صاف ستھری سڑکیں بارش کے بعد اور نکھر جاتی تھیں اس وقت کی بارش کی سوندھی مٹی کی خوشبو آج تک یاد آتی ہے اب تو افسوس کہ ہیرآباد میں بھی جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر نظر آتے ہیں ۔ 

اس وقت بارش کا لطف ہم بھی بارش میں بھیگ کر لیا کرتے تھے جب تک چھوٹے تھے گھر کے سامنے سڑک پر کھیل کود لیتے تھے اور بعد میں گھر کے آنگن میں ہی اپنے بھائیوں اور چچازاد اور پھپھی زاد بہن بھائیوں کے ساتھ بارش میں نہایا کرتے ۔ آج کل کے بچے تو اس لطف کو شاید محسوس بھی نہ کرسکیں جو ہمیں بارش میں اپنے چھوٹے سے آنگن میں آیا کرتا تھا۔ ہمارے آنگن کے سرے پر ایک چھوٹی سی نالی تھی جو پانی کے نکاس کے کام آتی تھی ہمارے بھائی اس نالی میں کپڑا ٹھونس کر اسے بند کردیا کرتے تھے یوں بارش کا پانی ہمارے آنگن میں بھر جاتا اور ہم سب اس میں خوب چھپ چھپ کیا کرتے اور کاغذ کی ناؤ بنا بنا کر چلایا کرتے۔ 

جوائنٹ فیملی سسٹم کے نقصانات بھی ہوں گے لیکن جوائنٹ فیملی سسٹم میں بچوں کو ایک بھرپور بچپن گذارنے کا موقع ملتا ہے جو پوری زندگی یاد آتا ہے ۔ ہمارے بچپن کی برساتیں ہماری امی کے پکوانوں کے ذکر کے بغیر ادھوری رہیں گی ۔ برسات میں جب ہم سب نہانے میں مصروف ہوتے ہماری امی ہمارے لئے مزے مزے کے پکوان پکاتیں۔ کبھی پکوڑےکبھی آلو کی ترکاری اور پوریاں ، کبھی دال بھرے پراٹھے اور ان کے ساتھ گلگلے ضرور بنتے اور ہم سب نہا دھو کر پھر یہ مزے مزے کی چیزیں کھاتے تھے۔ گلگلے کے ذکر پر ایک دلچسپ واقعہ یاد آگیا میرے چھوٹے بھائی کو گلگلے بہت پسند تھے جو امی زیادہ تر بارش کے موسم میں ہی بناتی تھیں ایک بار میرے چھوٹے بھائی نے جو اس وقت چار پانچ برس کا ہوگا پورے گھر کو پریشان کردیا کہ طبیعت خراب ہورہی ہے ، دل گھبرا رہا ہے ۔ 

ہمارے دادا جو حکیم تھے انہوں نے بھائی کو پہلے ہاضمے کی دوا دی ، پھر امرت دھارا پلایا پھر خمیرہ کھلایا لیکن وہ یہی کہتا رہا کہ دل گھبرا رہا ہے آخر میں تو بے سدھ سا ہوکے لیٹ گیا سب گھبرا گئے کہ اسے کیا ہوگیا ہمارے دادا نے کہا کہ اب اسے کیا دوں ؟ تو آنکھیں بند کئے ہوئے ہی جواب دیا ’’ گلگلے ‘‘ امی گلگلے بنا دیں۔سب ہنس دئیے اور امی نے بھی فوراً اٹھ کر گلگلے بنادیئے جو سب نے ہی کھائے لیکن اس کے بعد اس کا دل اکثر گھبرانے لگا جو گلگلے کھا کر ہی ٹھیک ہوتا تھا۔ 

خیر تو بات ہورہی تھی برسات کی ۔ اس زمانے میں لائٹ کم جاتی تھی لیکن بارش کی دو بوند پڑتے ہی لائٹ چلی جاتی تھی اور لالٹین جل جاتی تھی کھجور کے پتوں کے بنے ہوئے ہاتھ کے پنکھے نکل جاتے تھے ۔اس وقت لائٹ جانا بھی ہمارے لئے ایک مزے کی بات ہوا کرتا تھا اندھیرے کی وجہ سے اور کوئی کام تو ہو نہیں سکتا تھا اس لئے سب ایک جگہ مل کر بیٹھتے تھے اور دلچسپ کھیل کھیلتے تھے ،جس میں بچے بڑے سب شامل ہوتے ۔ 

ہمارے دادا پہیلیاں پوچھتے یا ذہنی آزمائش کے سوال کیا کرتے، جس کے جواب سب ذوق و شوق سے دیتے ، کبھی کسوٹی کھیلا جاتا اور کبھی ’’رسم ‘‘ کھیلا جاتا ۔ رسم بھی ایک دلچسپ کھیل ہوتا، جس میں سب کو باری باری کوئی کھانے کی چیز کا ایسا نام لینا ہوتا تھا کہ جس میں ’’ ر ’’ ’’ س ’’’’م ‘‘ نہیں آئےاور اگر آئےتو تینوں ساتھ آئیں مثلاً آئسکریم یا آم رس وغیرہ ۔ اسی طرح ایک کھیل ’’ڈمب شو ‘‘ کھیلتے، جس میں اشاروں کے ذریعے کسی چیز کا پوچھا جاتا اور باقی لوگ بوجھتے کہ اشاروں کے ذریعے کس چیز کے بارے میں پوچھا جارہا ہے ۔ جب لائٹ گئی ہوئی ہوتی تو سوال پوچھنے والا لالٹین کے سامنے بیٹھ کر اشارے کرتا ،تاکہ سب کو نظر آجائے یہ کھیل اتنا دلچسپ ہوتا کہ وقت گزرنے کا پتہ بھی نہیں چلتا تھا ۔ 

جب بھی لائٹ جاتی تھی تو ہماری دادی بی ضرور کہتی تھیں کہ ’’ مجھے اندھیرے سے وحشت ہوتی ہے اللہ قبر کے اندھیرے سے بچانا‘‘ جب بھی مجھے ان کی یہ بات یاد آتی ہے میں ضرور دعا کرتی ہوں کہ یا اللہ تعالیٰ میری دادی بی کی قبر کو نور سے روشن رکھنا ۔ اب زمانہ بدل گیا ، وقت آگے بڑھ چکا اب موبائل اور لیپ ٹاپ پر بیٹھے بچوں کو نہ بارشوں سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی قربانی کے جانوروں سے اگر دلچسپی ہے تو بس اتنی کہ اپنی گیلری یا گلی سے بارش کی دس سیکنڈ کی ویڈیو بنا کر ’’ ہیپی رینی سیزن ‘‘ کا اسٹیٹس اپ لوڈ کرسکیں یا اپنے بکرے اور گائے کی تصویر کھینچ کر سوشل میڈیا پر لگا ئیں اور پھر اللہ اللہ خیر صلا ۔ رہے برسات کے مزے تو وہ بھی نجانے کہاں غائب ہو چکے ہیں ۔