• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جب ابو نے مجھے پرائیویٹ ا سکول سے نکال کر سرکاری اسکول میں داخل کروایا تو ٹیچر نے دوسری جماعت میں داخل کرنے کی بجاے پہلی کلاس میں ہی دوبارہ بٹھا دیا ،تب امّاں نے نم آنکھوں سے کہا تھا، کوئی بات نہیں میرا بیٹا بہت ترقی کرے گا۔ مجھے آج بھی یاد ہے جب اسکول میں فنکشن ہوتا تھا تو تلاوت اور نعت پڑھنےکے لیے میں ہمیشہ پیش پیش رہتا تھا اور یہ بات قابل فخر سمجھتا تھا۔ 

جب پہلی دفعہ میرے ا سکول میں ایک MNA آیا تھا اور اس کے سامنے تلاوت کر کے اسی کے ہاتھوں سے میڈل لیا تھا۔.... مجھے آج بھی یاد ہے ......جب مجھے پانچویں جماعت میں ٹیسٹ کی بنیاد پر سالانہ امتحان میں پہلی پوزیشن کے لیے نامزد کیا لیکن میری ٹیچر نے یہ کہہ کر مجھے دوسری پوزیشن دی کہ یہ سب غلطی سے ہوا ہے۔ .... مجھے آج بھی یاد ہے ..., جس دن میرا رزلٹ آتا میں اس دن سب سے زیادہ یہ دعا مانگتا تھا یا اللہ آج عزت تیرے ہاتھ میں ہے اور میری دعا قبول بھی ہوتی تھی....۔مجھے آج بھی یاد ہے....... جب چھٹی جماعت میں مجھے انگلش کےٹینس یاد نہ ہونے پر پہلی دفعہ مار پڑی تھی، اس کے بعد یہ کبھی نہیں بھولے۔ ....مجھے آج بھی یاد ہے..... جب میرے استاد محترم نے میرے والد صاحب کو گھر سے بلا کر کہا تھا، یہ ایک نایاب بچہ ہے اسے سمجھنا بہت مشکل ہے۔ ..... مجھے آج بھی یاد ہے ....... جب 800 طالبعلم ہونے کے باوجود میرے سر نے مجھے انگلش کی تقریر کے لیے چُنا اور زندگی میں پہلی دفعہ 800 بچوں اور سارے اساتذہ کے سامنے تقریر کی اور یہ مقابلہ جیت کر بھی آیا۔ ۔۔۔۔مجھے آج بھی یاد ہے ۔۔۔۔،۔۔۔ جب میں نے آٹھویں میں ٹاپ کیا ،پورے اسکول میں ۔ گھر آ کر بتایا تو میری ماں کی آنکھیں خوشی سے جھلملا گئی تھیں۔

مجھے آج بھی یاد ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب میں کلاس کا مانیٹر تھاسب کلاس کے ساتھیوں کو بچانے کے لیے اپنے استاد سے مار کھائی تھی اور انگلی تڑوا بیٹھا تھا۔۔۔۔۔

مجھے آج بھی یاد ہے جب ایک چھوٹے سے بچے کی نعت سن کر میںپانچ وقت کا نمازی بنا اور لوگوں کی آنکھیں ٹھٹک گئی تھیں کہ اتنی سے عمر میں مسجد کیسے یاد آگئی۔

مجھے آج بھی یاد ہے ۔۔، جب میرے سامنے والے گھر میں رہنے والی ماں جی نے کہا تھا ،میرے بیٹے کو بھی تلقین کیا کرو کہ نماز پڑھے، میری آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئی تھیں۔ ۔۔۔ مجھے آج بھی یاد ہے۔۔۔۔۔ جب جب بہت سے لوگوں نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا تو کہا کہ ہمیں جتنی خوشی آپ کو مسجد میں دیکھ کر ہوئی بیان نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔

مجھے آج بھی یاد ہے، جب 15 یا 16 سال کی عمر میں بیٹھے بیٹھے میں اپنے گناہ یاد کر کے رو پڑا تھا کہ، اے اللہ اگر مجھے ابھی موت آ جائے تو میری پچھلی زندگی کا حساب نہ لینا، میں منہ دکھانے کے قابل نہیں۔ ۔۔۔ مجھے آج بھی یاد ہے۔۔۔۔۔۔ جب چھوٹی سے عمر میں بس ایک بار قرآن پڑھا تھا ایک عالم سے، اس کے بعد آج تک جتنی بار مکمل کیا، خود کیا۔

مجھے آج بھی یاد ہے ۔۔۔۔۔، جب زندگی میں پہلی دفعہ ٹورپرگیا تو پہلی بار اپنی آنکھوں سے موت کو دیکھا جب آنکھوں کے سامنے گاڑی کھائی میں گری تھی اور اگلے کچھ دنوں تک بھوک تو کیا زندہ ہونے کا احساس تک ختم ہو گیا تھا۔ مجھے آج بھی یاد ہے ۔۔۔۔۔۔۔ جب فیس بُک پر میں نے لڑکیوں کو بہن بولنا شروع کیا تو مجھے یہ الفاظ سننے کو ملے تھے، عظیم ہے وہ بہن جس کے آپ بھائی ہو، جس کا آپ جیسا بھائی ہو اس کی بہن دنیا کے خوش قسمت ترین بہن ہے عظیم ہیں وہ ماں باپ جن کی آپ اولاد ہو۔ 

ہم نے فیس بُک پر بہت سے لوگ دیکھے ،ایسا اخلاق دیکھنے میں بہت کم آتا ہے۔  مجھے آج بھی یاد ہے، جب پرائیویٹ ا سکول میں پڑھانے کے بعد مجھے پہلی تنخواہ ملی اور اسے میں نے اپنی ماں کے ہاتھ پر لا کر رکھا تو میرے بابا نے نم آنکھوں سے کہا تھا، یا اللہ تیرا شکر ہے میں نے اپنی اولاد کو حلال کھلایا ہے، آج یہ بھی حلال کما کر لایا ہے ۔

مجھے آج بھی یاد ہے۔۔۔۔۔ جب بہن نے روتے ہوے کہا تھا بھائی آپ مجھے کچھ مت کہنا میری غلطی نہیں میں ڈرتی ہوں بتانے سے پر ، آپ پر یقین ہے آپ مجھے اس مشکل سے نکال دو گے تو اس کو حوصلہ دیا کہ گھر میں سب کے ہونے کے باوجود اس نے میرا انتخاب کیا۔۔۔۔۔۔۔ مجھے آج بھی یاد ہے۔۔۔۔۔ جب میں نے ایک بچے سے قرآن پاک پڑھانے کا آغاز کیا ۔۔۔۔ جب میں انٹر میں کامیاب ہوا تھا اور میرے چچا عبدالرازق کو پتا چلا تھا تو انہوں نے اپنی چھابڑی پر کھڑے کھڑے اپنے گاہکوں کو بتایا تھا کہ میرا بیٹا کامیاب ہوگیا۔

مجھے آج بھی یاد ہے، جب محلے کی خواتین نے آ کر میری ماں سے کہا تھا، باجی تو بڑی خوش قسمت ہے تجھے ایسا بیٹا ملا۔ ہماری دعا ہے اللہ سب کو اس جیسا بیٹا عطا کرے۔مجھے آج بھی یاد ہے ،جب بابا سے ایک بندے نے میرے شکایت کی کہ آپ کا بیٹا گالی دیتا ہے تو بابا نے سب کے سامنے برملا کہا تھا کہ میرا بیٹا گالی نہیں دے سکتا اور یہ حقیقت ہے میں گالی نہیں دیتا۔۔۔۔۔ مجھے آج بھی یاد ہے ۔۔۔۔۔۔ جب پہلی دفعہ قرآن کا ترجمہ پڑھنے لگا تو یہ سوچ کر شروع کیا تھا کہ ہر آیت سے اپنے نبی کی شان ڈھونڈوں گا۔

مجھے آج بھی یاد ہے۔۔۔۔ جب میڈیکل کالج کے پہلے سمیسٹر میں مجھے کیمسٹری کی پروفیسر نے کہا تھا کہ آپ یہاں ڈائس پر آکر اسلام کے متعلق گائیڈ کریں ۔کلاس کے سامنے بولنے کا تجربہ قابل فخر تھا۔ مجھے آج بھی یاد ہے۔۔۔۔۔ جب کلاس کے سب لڑکے اور لڑکیوں کو کمنٹ مل رہے تھےمیڈیکل کالج میں تو میرے ٹیچرز نے مجھے کہا تھا کہ تم نایاب ہو بہت تم میں وہ کچھ ہے جو کسی عام انسان میں نہیں ہے۔ مجھے آج بھی یاد ہے ۔۔۔۔ جب بہت سے لوگوں نے،بہت سی جگہوں پر کہا تھا کہ تمہیں کھونے والا شخص دنیا کے ہر موڑ پر تمہیں دوبارہ پانے کی حسرت کرے گا۔ مجھے آج بھی یاد ہے ، میرا بس ایک دوست تھا وہ بھی چھوڑ گیا اس کے بعد آج تک کبھی دوست نہیں بنایا اور آج بھی اپنی اداسی کے ساتھ تنہائی اور اندھیرے میں گم رہنا پسند کرتا ہوں یہ میرے بہترین دوست ہیں۔

مجھے آج بھی یاد ہے ۔۔۔جب سب نے کہا تھا جو تمہارے ساتھ تعلق تو ڑے وہ سکون سے نہیں رہ سکے گا ۔ مجھے آج بھی اس بہن کے کمنٹس یاد ہیں جس نے کہا تھا جو آپ کے بنائے ہوئے اصولوں پر چل پڑا اس کی دنیا اور آخرت دونوں سنور جائے گی۔

مجھے آج بھی یاد ہے جب ماں جی نے کہا تھا میں اپنی زندگی کی وہ نیکی تلاش کرتی ہوں جس کے بدلے تم مجھے ملے۔ مجھے آج بھی یاد ہے جب ماں جی نے کہا تھا کہ میری خوش قسمتی ہے کہ کوئی مجھے تمہارے حوالے سے جانے۔ مجھے آج بھی یاد ہے ۔۔۔۔ جب ماں جی نے کہا تھا تم شان ہو میری، جسے پاکر میں فخر کرتی ہوں۔ مجھے آج بھی یاد ہے جب قرآن پاک کی سور ۃمومن کا ترجمہ پڑھتے ہوے میرے جسم پر کپکپی طاری ہوگئی تھی اور اتنا ڈر گیا تھا کہ شاید ابھی موت آجائےگی۔ مجھے آج بھی یاد ہے جب مجھے لوگوں نے یہ کہا کہ تمہارا ہماری زندگی میں آنا ہمیں نماز قرآن اور آخرت کی یاد کے قریب لے گیا۔۔۔۔ مجھے آج بھی یاد ہے جب کلاس میں سر نے یہ پوچھا کہ سب سے زیادہ ریگولر کون ہے جس نے آج تک کالج سے چھٹی نہ کی ہو تو پوری کلاس نے میرا نام لیا تھا۔ 

مجھے آج بھی یاد ہے جب میں اعتکاف سے اٹھا تھا تو میرے بابا نے میرے ماتھے اور گالوں پر جو بوسہ دیا تھا اس کا لمس آج تک محسوس کرتا ہوں۔ مجھے آج بھی یاد ہے جب ایک جمعہ والے دن اسپتال سےگھر آیا تو بابا نے گھر آئے مہمانوں کے سامنے کہا تھا، دیکھو میرا بیٹا ڈاکٹر لگتا ہے ۔ لوگ رشک سے دیکھتے اور پوچھتے ہیں ۔۔۔؟ قاری صاحب۔۔۔! ہاں یہاں میں آپ کو بتاتا چلوں میرا باپ قاری صاحب کے نام سے مشہور ہے آپ کی عظمت کو سلام اولاد کو اتنا کامیاب کروا دیا۔

مجھے آج بھی یاد ہے جب بھی کبھی کسی نے مجھے ناراض کیا اور۔میں نے قرآن کھولا تو میرے رب نے ہمیشہ محبت تسلی والی آیات میرے سامنے کر دی۔

مجھے آج بھی یاد ہے، آج بھی میرے ٹیچرز کہتے ہیں تم ہمارے قابل فخر طالب علم ہو جس پر ہمیں ہمیشہ ناز رہے گا۔ بہت کچھ یاد ہے جب بھی احادیث عملیات اور چھوٹے چھوٹے عمل سنت دیکھتا ہوں انہیں اپنا لیتا ہوں ۔ میرے شاگرد آج بھی دوسروں کو یہ کہتے ہیں ہم نے بہت سے اساتذہ سے تعلیم حاصل کی لیکن آپ ہمیشہ قابل فخر رہیں گے۔ بہت کچھ یاد ہے یہ غرور اور تکبر کے لیے نہیں لکھا بس آج دل کیا کچھ اپنا بتاؤں تو بتا دیا اگر آپ کو کچھ پسند آیا تو ضرور بتائیں اور جو کچھ برا لگا اس کے لیے معذرت۔