رمز جس کو اردو میں خفیہ اشارہ ،دل کے راز اور کنایہ کے ہم معنی سمجھیں ،پنجابی میں’’ رمزاں یار دیاں‘‘ اور ’’رمزاں عشق دیاں‘‘ کلاسیکی شاعروں کا موضوع رہے ہیں۔ صدر پاکستان آصف علی زرداری بہت گہرے انسان ہیں سیاسی شطرنج کے ماہر کھلاڑی ہیں انکی کامیاب سیاسی چالوں کے سبب ہی پیپلز پارٹی مسلسل 16سال سے صوبہ سندھ میں برسر اقتدار ہے موجودہ وفاقی سیٹ اپ میں بھی انہیں آئینی عہدے حاصل ہیں گناہ ثواب کی ذمہ داری نون لیگ پر ہے مگر آئینی حکمرانی میں آصف زرداری اور ان کی پارٹی بھی حصہ د ار ہے۔ زرداری دوستوں کے دوست مشہور ہیں مگر کوئی ان سے چالاکی کرے تو پھر اسکو گھر تک چھوڑ کر آنے کے بھی ماہر ہیں، یہ ادنیٰ صحافی 1988ءسے انہیں ذاتی طور پر جانتا ہے اور مسلسل ملاقاتوں سے انکو پرکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے، انکی شخصیت کی پرتیں تہہ در تہہ ہیں انہیں کھولنا بہت مشکل ہے مگر سیاست کے ادنی طالب علم کی حیثیت سے انکی سیاسی رمزوں کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں ۔عمران کی عین یعنی آنکھ کا معاملہ حد سے بڑھا تو بیماری نے سیاست میں آگ لگا دی۔ نون کی حکمت عملی اس معاملے کو ٹھنڈا کرنے اور نیچے نیچے رکھنے کی رہی۔ عطا اللہ تارڑ، رانا ثنا اللہ اور وفاقی وزیروں نے اپنے بیانات کے ذریعے اس معاملے کو ڈیل کیا وزیراعظم شہباز شریف پر اسرار طور پر خاموش رہے اور انکے بڑے بھائی نواز شریف تو اس دنیا سے پرے اپنی ہی دنیا میں رہتے ہیں اسلئے کوئی ان تک رسائی حاصل کرتا تو ہی انکا موقف لے سکتا سو ادھر سے بھی چپ کا تاثر رہا۔ ایسے میں صدر آصف زرداری کھل کر سامنے آئے عمران کی بیماری اور اپنی جیلوں کا تقابل کر کے تحریک انصاف کے بیانیے کا جواب دیا اور انصافی پروپیگنڈے کی توپوں کا رخ جان بوجھ کر نون سے ہٹا کر اپنی طرف کر لیا۔ سوال یہ ہے کہ زرداری نے ایسا کیوں کیا اس چال یا رمز کے اندر کیا چھپا ہے اور اسکے نتائج کیا نکلیں گے؟ آصف علی زرداری نے شاید بھانپ لیا ہوگا کہ نون کی اعلیٰ ترین قیادت خود کو اس قضیے سے دور رکھ کر وہی سیاسی غلطی کر رہی ہے جو وہ عمران کے بیانیےکے جواب میں سیاست کی بجائے گورننس پر توجہ کر کے کر رہی ہے جس سے عمرانی بیانیے کا بوجھ غیر سیاسی مقتدرہ پر پڑ رہا ہے اور انکے اس بوجھ کو نون کو جس موثر طریقے سے بانٹنا چاہئے اس میں واضح کمی اور خلا ہے۔ صدر پاکستان نے یہ زوردار بیان دیکر اشارہ دیا ہے کہ ہم آپ کیساتھ مخالفت کا بوجھ اٹھانے اور اپنا کندھا پیش کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔
کوئی مانے نہ مانے 2024ءکے الیکشن سے پہلے جب نون کے اقتدار کی منصوبہ بندی ہو رہی تھی تو ابتدائی طور پر یہ طے ہوا تھا کہ اقتدار بلا شرکت غیرے نون کو ملے گا اور مقتدرہ اس حکومت اور سیاست کو کامیاب کرنے کیلئے مکمل حمایت کرے گی ہدف یہ تھا کہ ملک کو ایک طاقتور اور معاشی جن بنانا ہے یہ بھی طے ہوا تھا کہ پیپلز پارٹی کو شریک اقتدار نہیں کرناکیونکہ پیپلز پارٹی اور نون کی معاشی پالیسیاں متضاد ہیں ،نون نجکاری کی حامی جبکہ پیپلز پارٹی کے اس بارے میں واضح تحفظات ہیں اور ایک بات جو سر عام تو نہیں کہی جاتی تھی مگر کانوں ہی کانوں میں یہ سرگوشی کی جاتی تھی کہ پیپلز پارٹی کے لوگ اور حکومت کرپٹ ہوتے ہیں اور نون یہ بوجھ اٹھانا نہیں چاہتی۔ اس پلان کے مطابق سندھ میں بھی پیپلز پارٹی کو حکومت نہیں دی جانی تھی بلکہ پیپلز پارٹی کے مخالفوں کو ملا کر وہاں حکومت کی تشکیل ہونی تھی اسی منصوبے کے تحت جب سندھ کی نگران حکومت بنی تو وہاں کا وزیر داخلہ ایک ایسی شخصیت کو بنایا گیا جس نے کھل کر پیپلز پارٹی کی مخالفت کی انکے اسکینڈل بنائے ۔ مہر، سرداروں، جتوئیوں اورپگاڑا خاندانوں کو قوم پرستوں کیساتھ جوڑ کر ایک اتحاد بنایا۔
پیپلز پارٹی کے ماضی کے شریک کار لاڑکانہ کے عباسی خاندان کو اس میں فٹ کیا گیا۔کھچڑی تیار تھی ایسے میں آصف زرداری نے اپنی جادو کی چھڑی نکالی اور سب سے پہلے دیہی سندھ میں اپنے مخالف سیاسی گھوڑوں پر کاٹھی ڈالی سندھ کے مہروں اور ہر ممکنہ طور پر جیتنے والے گھوڑوں کو سبز چراگاہوں کے خواب دکھائے گئے حتی کہ پگاڑا خاندان کو بھی بڑی باعزت پیشکش کی گئی ۔جتوئی اور پگاڑو خاندان کے سوا شیرازی، مہر اور باقی بڑے بڑے نام زرداری کے جادو میں آگئے پھر زرداری نے راولپنڈی اسلام آباد کے حلقوں میں موثر لابنگ کی اور وہاں بھی حسینہ واجد کے بنگلہ دیش ماڈل کی خامیوں کو پیش کیا تاہم 2024ءکے انتخابات کے نتائج ایساسرپرائز تھے جس نے بنگلہ دیش ماڈل یعنی ون پارٹی بالادستی پروگرام کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ نئی حقیقتوں پر نون کو پیپلز پارٹی کیساتھ مخلوط حکومت اور سندھ پیپلز پارٹی کو دینے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا گویا پیپلز پارٹی کو موجودہ اقتدار کھیر کی طرح نہیں ملا انہوں نے کھچڑی سے دال کے دانے چنے۔ نون کو ایک سب انٹلیجنس سربراہ نے تاثر دیا تھا کہ الیکشن آپ کیلئے حلوہ ہیں آپ اکیلے ہی یہ حلوہ کھائیں گے پیپلز پارٹی اس کھانے میں شریک نہیں ہوگی مگر الیکشن حلوہ کی بجائے کڑوا چریتاکریتا ثابت ہوئے انہی غیر متوقع نتائج نے نون کو پیپلز پارٹی سے مخلوط حکومت بنانے پر مجبور کیا۔
وفاقی حکومت بن گئی آصف زرداری صدر پاکستان کے عہدے پر متمکن ہوئے تو ان سے نہروں اور ڈیموں کے حوالے سے سندھ کے پانی کی قربانی مانگی گئی آصف زرداری جتنے ہی پاکستان کھپےکے نعرے لگائیں وہ سندھ کا پانی دیکر وہاں کی سیاست میں زندہ نہیں رہ سکتے۔ وہی ہوا جس کا ڈر تھا اندرون سندھ نئی نہروں کے مسئلےپراحتجاج وہنگامے پھوٹ پڑے ۔ان مظاہروں کا دباؤ اس قدر بڑھا کہ نہروں کی تجویز سرد خانے کے سپرد ہو گئی ہے۔ صدر آصف زرداری نے پارلیمان سے اپنے خطاب میں ان نہروں کی باقاعدہ مخالفت کی تو کالا باغ ڈیم کی طرح یہ منصوبہ بھی تہ خاک ہو گیا۔اسی دوران چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں کہ نہروں کی مخالفت کے پس پردہ خود پیپلز پارٹی اور اسکی قیادت تھی۔ یہ بھی کہا گیا کہ صدر پاکستان نے ہمالیہ سے پار ایک ملک کو ریاستی پالیسی سے ہٹ کر ایک خط لکھا جس سے سپر پاور ناراض ہو سکتی تھی اس لیے اس خط کو روک لیا گیا۔ یہ الزام بھی لگایا گیا کہ زرداری صاحب سرگرم نہیں وہ دن کو سونے اور رات کوجاگنے کے عادی ہیں،سندھ حکومت کیخلاف مسلسل یہ پروپیگنڈا جاری رہا کہ وہاں بہت کرپشن ہے، اوریہ کہ سندھ میں ایک متوازی نظام جسے سسٹم کہا جاتا ہے رائج ہے اور اس سسٹم کو براہ راست آصف زرداری تک رسائی حاصل ہے۔ ظاہر ہے کہ پیپلز پارٹی ان الزامات سے مکمل انکاری ہے بلکہ وہ تو کہتی ہے کہ صحت ،تعلیم اور اسکا روڈ نیٹ ورک پنجاب اور ملک بھر سے بہتر ہے اور انکا یہ دعویٰ بھی معقول ہے کہ مسلسل جیتنا اس بات کی دلیل ہے کہ ہم سندھی عوام کے پسندیدہ ترین ہیں اور بہترین کام کر رہے ہیں۔
آصف زرداری اتنے سادہ نہیں کہ بے وجہ بولیں اتنے بے وقوف بھی نہیں کہ مگر مچھوں کی خوراک بنیں۔ اگر تھوڑا بہت انکی رمزوں کو جانیںتو ان کا حالیہ انصافی مخالف بیان اپنے اور پارٹی پر موجود دباؤ سے نکلنے کیلئے دیا گیا ہے۔ انہیں جہاں نون کی کمزوری نظر آئی وہ نواز شریف اور شہباز شریف سے آگے بڑھ کر مقتدرہ سے کندھا ملا کر کھڑے ہوئے ہیں۔ انسانوں کو پڑھنا سب سے مشکل ترین کام ہے ہو سکتا ہے کہ رمز کی تشریح درست ہو یا پھر مکمل غلط۔غلط بھی ہوئی تو کیاہوا تشریح اور تجزیہ تو صحافی کا حق ہے۔