• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چینی جوہری تنصیبات کی تصاویر حاصل کرنے کا امریکی دعویٰ

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکا کے ایک مصنوعی سیارے نے چین کے مبینہ جوہری مراکز کا پتا چلانے کا دعویٰ کردیا۔ سیٹلائٹ کی مدد سے سامنے آنے والے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیجنگ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے آگے بڑھ رہا ہے۔ امریکی تھنک ٹینک نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ سیٹلائٹ تصاویر میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چین جوہری میزائلوں کی لانچنگ کے لیے لانچنگ مراکز کا نیا نیٹ ورک بنا رہا ہے۔فیڈریشن آف امریکن سائنٹس کے 2محققین نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا کہ انہوں نے کمرشل سیٹلائٹ کی تصاویر کا جائزہ لینے کے بعد سنکیانگ کے شمال مغربی سرحدی علاقے میں میزائل سائلو فیلڈ کی تعمیر کے لیے جاری کوششوں کو حقیقت پرمبنی قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نشان زدہ مقامات پر تعمیراتی کام اور 19 دیگر مقامات پر مٹی صاف کرنے کا کام جاری ہے۔ ایک اور تھنک ٹینک کے ماہرین نے بتایا کہ انہیں چین میں جوہری تنصیبات کی نشانیوں کا پتاچل گیا ہے۔ کمرشل سٹیلائٹ کی تصاویرسے معلوم ہوا ہے کہ چین شمال مغربی صوبے گانسو کے شہر یومین کے قریب 120 میزائل تنصیبات پر مشتمل ایک فیلڈ بنا رہا ہے۔ اس سے قبل جولائی کے شروع میں شائع ہونے والی رپورٹوں میں کہا گیا تھا کہ چین بین البراعظمی بیلسٹک میزئلوں کو چھپانے کے لیے 100 سے زیادہ تنصیبات پر مشتمل پلیٹ فارمز کا نیٹ ورک تعمیر کررہا ہے۔
یورپ سے سے مزید