• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مَیں اخبار میں سابق صدر ممنون حسین کی رُحلت کے حوالے سے شائع ہونے والی خبریں پڑھ رہا تھا اور جمہوری طور پر منتخب نمائندوں اور آمروں کے سفرِ آخرت میں ریاستی رویے کے فرق پر رنجیدہ تھا کہ محترم پرویز رشید کا فون آ گیا۔ اُن سے بھی گفتگو کا آغاز صدر ممنون حسین، جو کہ مسلح افواج کے سپریم کمانڈر بھی تھے، کی رُحلت پر ایوانِ اقتدار کی بےحسی پر ہوا۔ وہ بھی میری طرح اس بات پر غم زدہ تھے کہ سابق صدر کے سفرِ آخرت کے حوالے سے جو رویہ اختیار کیا جانا چاہئے تھا اُس کا عشر عشیر بھی اربابِ اختیار نے روا نہیں رکھا۔ مرحوم صدر کے صاحبزادے سے جب ٹیلیفون پر راقم الحروف نے تعزیت کی تو انہوں نے بتایا کہ میت پر قومی پرچم بھی مرحوم سے محبت رکھنے والے کسی عام پاکستانی شہری نے ڈالا تھا جس کے بعد میری نظروں کے سامنے وہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ جن میں ایوب خان مرحوم اور یحییٰ خان مرحوم کو سفرِ آخرت کے موقع پر پیش کئے گئے گن سلیوٹ کی کوریج کی گئی تھی۔ آمریت بہت مضبوط ہے جس کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے۔

لمحۂ موجود میں قومی سلامتی کو سب سے بڑا معرکہ یہ درپیش ہے کہ افغانستان کی ہر لحظہ بدلتی صورتحال کے منفی اثرات سے وطن عزیز کو کیسے محفوظ رکھا جا سکتا ہے؟ سفارتی سطح پر جو بوکھلاہٹ ہمارے اربابِ اختیار میں اس وقت موجود ہے وہ اس امر کی آئینہ دار ہے کہ ہماری حکومت اس مشکل صورتحال سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت سے عاری ہے۔ جب دوحہ کانفرنس کے نتائج سامنے آئے تھے، اُس وقت بھی یہ معاملہ واضح تھا کہ یہ اُسی نوعیت کی غلطی ہے جیسی جنیوا معاہدے کے وقت کی گئی تھی اور اِس وقت تو صورتحال یہ ہے کہ ہمیں جنیوا معاہدے جتنی بھی اہمیت حاصل نہیں ۔ امریکہ نے پاکستان کو کچھ بھی بتانے کی زحمت نہیں کی جبکہ دوسرے فریق نے بھی پاکستان کو وہ اہمیت نہیں دی جس کا پاکستان خود کو مستحق سمجھتا ہے۔ اُس کی وجہ یہ ہے کہ جب سفارتکاری میں کامیابی مقصود ہو تو اُس کے لئے یہ معلوم ہونا ضروری ہوتا ہے کہ جو حکومت موجود ہے، اُس کی نمائندہ حیثیت کیا ہے؟ سابق سوویت یونین کے افغانستان میں داخلے اور وہاں سے واپسی، نائن الیون اور اب امریکہ کی واپسی، ان تمام واقعات کے وقت پاکستان میں ایسی حکومتیں موجود رہیں جن کی نمائندہ حیثیت پر بات کرنا بھی جمہوریت کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔ اسی لئے ’’فرنٹ لائن اسٹیٹ‘‘ ہونے کے باوجود قومی سلامتی کے مشیر نے بتایا کہ ہمیں تو امریکہ نے اپنے انخلا کے بارے میں بتایا تک نہیں۔ اسی طرح ان کے لئے یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ کوئی راستہ نکال پاتے بلکہ وہ صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ افغان طالبان اور بھارت کے درمیان روابط کے حوالے سے بھارت کو شرم آنی چاہئے کہ وہ افغان طالبان سے رابطہ کر رہا ہے، بھلا بین الاقوامی تعلقات میں شرم دلانے کا کہہ کر کسی کو اس کے مفادات حاصل کرنے سے روکا جا سکتا ہے؟ یہ تو حکمتِ عملی کا کھیل ہے جس کی حکمت عملی مضبوط ہو،اس کی کامیابی یقینی ہے۔ عمران خان کہہ رہے ہیں کہ جب طالبان کامیاب ہو رہے ہیں تو وہ ہماری کیوں سنیں گے؟ سوال یہ ہے کہ آپ اُن کو افغانستان کے معاملات میں سنانا ہی کیوں چاہتے ہیں؟ ہونا تو یہ چاہئے کہ افغانستان میں طالبان یا کوئی بھی حکومت ہو، ہمیں اُن سے اس معاملے پر بات کرنی چاہئے کہ وہ ایسا پروگرام ترتیب دیں جس سے افغان مہاجرین کی ان کے ملک واپسی ممکن ہو سکے اور مزید افغان مہاجرین کا ریلا پاکستان نہ آئے۔ اور یہ کہ بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کے سارے تانے بانے افغانستان سے جا ملتے ہیں، اُس کا خاتمہ ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے جبکہ کالعدم ٹی ٹی پی بھی افغانستان سے متحرک ہے اس کی طرف سے بھی پاکستان کو مزید کسی دہشت گردی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ افغان طالبان کا یہ اعلان کہ وہ انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے مثبت کردار ادا کریں گے، بین الاقوامی برادری کے رکن کی حیثیت سے ہمارے لئے خوش آئند ہے مگر ہمیں دراصل ان خطرات سے نمٹنا ہے جو اِس سے قبل بیان کیے گئے ہیں۔ اُس کے برعکس ہماری طرف اِن معاملات کے حوالے سے صرف مسلسل خاموشی ہے، ہم یہ بالکل بھی نہیں جانتے کہ افغان طالبان کا اس حوالے سے کیا رویہ ہوگا کیونکہ ہمیں یہ اچھی طرح سے یاد ہے کہ افغان طالبان کا ماضی میں ڈیورنڈ لائن کے حوالے سے وہی رویہ تھا جو اس سے قبل کابل کی جانب سے دیکھنے میں آ رہا تھا۔ اشرف غنی حکومت سے تو اِس حوالے سے کوئی توقع نہ ماضی میں قائم تھی اور اب تو اس کا سوال ہی کیا۔ اصل میں ضرورت اس امر کی ہے کہ افغان طالبان کی اِن امور پر پالیسی جاننے کی کوشش کی جانی چاہئے کیونکہ اگر ماضی کے حالات دہرائے گئے تو زمین بس خون سے رنگین ہونے والی ہے۔ اور اس کے اثرات سانحہ داسو ڈیم کی صورت میں سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں۔ چین کا تو اِس سانحہ کے حوالے سے بہت محتاط ردِعمل سامنے آیا مگر ہم اسے اس ڈیجیٹل عہد میں پہلے تو چھپانے کی کوشش کرتے رہے اور اب یہ کہا جا رہا ہے کہ اِس سانحے کے بعد بھی چین سے ہمارے تعلقات خراب نہیں ہوں گے۔ کیا چین نے کہا ہے کہ تعلقات خراب ہو سکتے ہیں؟ نہیں! تو پھر اپنی طرف سے ایسی گفتگو کرنے کا کیا مقصد ہے؟ ان واقعات کے حوالے سے ایف اے ٹی ایف کے معاملات پر بھی اثر پڑے گا مگر اس حوالے سے بھی صرف یہبتایا جا رہا ہے کہ بھارت وہاں معاملات خراب کر رہا ہے، بھارت تو یقیناً یہی کرے گا۔ آپ بتائیے کہ آپ کیا کر رہے ہیں مگر بدقسمتی یہ ہے کہ آپ کے پاس بتانے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔

تازہ ترین