• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈاؤ یونیورسٹی نے پہلے تینوں PSIMRA تحقیقی ایوارڈ جیت لیے

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کراچی کے اوجھا اسپتال سے وابستہ نوجوان ڈاکٹروں نے پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کی جانب سے منعقد کیے جانے والے پہلے تین PSIMRA ایوارڈ جیت لیے ہیں۔

ڈاؤ یونیورسٹی کے ڈاکٹروں نے کورونا کے علاج اور بچاؤ میں وٹامن ڈی کے کردار، ٹی بی اور آئی سی یو میں داخل کورونا کے مریضوں پر کی گئی تحقیق پر پہلے تینوں ایوارڈ حاصل کیے۔

پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن ریسرچ ایوارڈ کی تقریب اتوار کے روز اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی، جس میں ڈاؤ یونیورسٹی کے ڈاکٹر محمد صہیب اصغر کو پہلا، ڈاکٹر صدف احمد کو دوسرا اور ڈاکٹر رابیل یاسین کو تیسرا PSIMRA ایوارڈ سے نوازا گیا۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے تینوں ڈاکٹروں کو غیرمعمولی تحقیق کرنے پر بالترتیب 2 لاکھ، ایک لاکھ اور 75 ہزار روپے کے کیش انعام سے بھی نوازا گیا۔

PSIMRA یا پی سمرا ایوارڈز کا اجرا پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن نے ہیلتھ ریسرچ ایڈوائزری بورڈ اور مقامی دواساز کمپنی کے فارم ایوو کے اشتراک سے کیا ہے، ایوارڈ کے لیے ملک بھر کے 26 ڈاکٹروں نے اپنے تحقیقی مقالے جمع کرائے تھے، جس میں سے 10 شارٹ لسٹ کیے گئے اور اس کے بعد پاکستان بھر کے نامور ڈاکٹروں پر مشتمل جیوری نے ڈاؤ یونیورسٹی سے وابستہ 3 نوجوان تحقیق کاروں کے ریسرچ پیپرز کو بہترین قرار دیتے ہوئے ایوارڈز کا حقدار قرار دیا۔

پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن ریسرچ ایوارڈز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے وائس چانسلر پروفیسر جاوید اکرم کا کہنا تھا کہ انہیں انتہائی خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ اب پاکستان کے نوجوان ڈاکٹر اسپتالوں میں مریضوں کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ تحقیق میں بھی مصروف ہیں، پاکستان کے نوجوان ڈاکٹروں اور طلبہ میں بڑی صلاحیتیں پوشیدہ ہیں، وہ وقت دور نہیں جب پاکستان کے ماہرین کی تیار کردہ ادویات اور طریقہ علاج پوری دنیا میں اپنائے جائیں گے۔

ڈاؤ یونیورسٹی کے ڈاکٹروں کو پہلے تینوں ایوارڈز اور انعام حاصل کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے پروفیسر جاوید اکرم کا کہنا تھا کہ ان ایوارڈز کے اجرا کے بعد پاکستان کے تمام اسپتالوں اور یونیورسٹیوں سے وابستہ ڈاکٹر میں مقابلے کا رجحان پیدا ہوگا اور ایسی تحقیقات سامنے آئیں گی، جس کے نتیجے میں انسانیت کی فلاح و بہبود ممکن ہو سکے گی۔

پاکستان کے نامور ماہر امراض ذیابطیس اور ہیلتھ ریسرچ ایڈوائزری بورڈ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عبدالباسط کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں مختلف بیماریوں پر تحقیق کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے، ہیلتھ ریسرچ ایڈوائزری بورڈ اور فارم ایوو ریسرچ فورم نے اب تک ملک بھر میں تحقیق اور ریسرچ کے لیے مختلف اقدامات اٹھائے ہیں جن میں پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کے ساتھ مل کر ایوارڈز کا اجرا اور نوجوان تحقیق کاروں کو کیش انعامات دینے کا سلسلہ بھی شامل ہے۔

دوسری جانب ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر سعید قریشی نے ڈاؤ یونیورسٹی کے نوجوان ڈاکٹروں کی جانب سے پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن ریسرچ حاصل کرنے پر ان کو مبارکباد دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈاؤ یونیورسٹی میں ہونے والی ریسرچ کو بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے اور عالمی ادارہ صحت کے ساتھ ساتھ دیگر بین الاقوامی ادارے ڈاؤ یونیورسٹی کی ریسرچ سے استفادہ حاصل کرنے کے لئے ان سے رابطے میں ہیں۔

خاص رپورٹ سے مزید