• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جج صاحبان اپنی حدود یاد رکھیں، جہاں پناہ نہ بنیں، بھارتی سپریم کورٹ

اسلام آباد (انصار عباسی) جج صاحبان اپنی حدود یاد رکھیں اور جہاں پناہ نہ بنیں۔ یہ بات بھارتی سپریم کورٹ نے حال ہی میں کہی ہے اور ملک کی چند ایسی ہائی کورٹس کے رویے پر ناراضی کا اظہار کیا ہے جنہوں نے سرکاری ملازمین کو طلب کرنا معمول کا حصہ بنا لیا ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عوامی مفاد کے خلاف ہے کیونکہ جن افسران کو طلب کیا جاتا ہے انہیں دیا جانے والا کام اور ذمہ داریاں پوری کرنے میں تاخیر ہوتی ہے۔

ایک سینئر بیوروکریٹ نے اس نمائندے کو بھارتی میڈیا میں چلنے والی اس خبر کا حوالہ دیا اور حیرانی ظاہر کی کہ پاکستان کی سپریم کورٹ بھی اس مسئلے پر نظر ڈالے گی یا نہیں کہ کس باقاعدگی کے ساتھ عدالتیں سرکاری ملازمین کو طلب کرتی ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ کچھ کیسز میں سرکاری ملازمین پر دبائو ڈالا جاتا ہے کہ وہ عدالت کی خواہشات کے مطابق عمل کریں۔ گزشتہ ہفتے بھارتی میڈیا میں خبر آئی تھی کہ ججوں کو جہاں پناہ (بادشاہ) نہیں بننا چاہئے، عدالت نے سرکاری ملازمین کو بار بار طلب کرنے کی روش کی مذمت کی کیونکہ ان ملازمین کو فوری طور پر طلب کرکے بالواسطہ یا بلاواسطہ دبائو ڈالا جاتا ہے۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، جسٹس سنجئے کشن کول اور جسٹس ہیمنت گپتا پر مشتمل بینچ نے اس بات پر ناراضی ظاہر کی کہ کچھ ہائی کورٹس نے سرکاری افسران کو طلب کرنا معمول بنا لیا ہے جس سے انہیں دیے جانے والے اہم کام کاج میں تاخیر ہوتی ہے اور یہ صورتحال عوام کے مفاد میں نہیں۔ دونوں ججز پر مشتمل بینچ نے سپریم کورٹ کے 2008ء کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ججوں کو اپنی حدود یاد رکھنا چاہئے، ان میں عاجزی اور انکساری ہونا چاہئے، انہیں بادشاہ نہیں بننا چاہئے۔

عدلیہ، مقننہ اور ایگزیکٹو کا ایک وسیع دائرہ اختیار ہے اور ریاست کے تینوں اہم ستونوں کیلئے یہ مناسب نہیں کہ وہ ایک دوسرے کے دائرہ اختیار میں مداخلت کریں ایسا ہوا تو آئین میں وضع کردہ نازک توازن بگڑ جائے گا جس کا رد عمل بھی سامنے آ سکتا ہے، عدلیہ اور ایگزیکٹو کے درمیان اختیارات کی حد کو سرکاری افسران کو طلب کرکے اس انداز سے عبور کیا جاتا ہے کہ انہیں عدالتوں کی مرضی کاور خواہش کے مطابق کوئی فیصلہ کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ نے یہ ریمارکس سروس کے ایک معاملے پر اتر پردیش حکومت کی جانب سے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف دائر کردہ اپیل پر سنائے ہیں۔ ریاست کے ایک میڈیکل افسر کی پوسٹنگ اور بقایہ جات کے حوالے سے دائر کردہ ایک کیس میں ہائی کورٹ نے کچھ احکامات جاری کیے تھے جنہیں اتر پردیش حکومت نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔

فروری میں بینچ نے ہائی کورٹ کے فیصلے پر حکم امتناع جاری کیا تھا تاکہ میڈیکل افسر کو بقایہ جات کی ادائیگی کی جا سکے لیکن ہائی کورٹ نے کارروائی روکنے کی بجائے ہیلتھ سیکریٹری کو توہین عدالت میں طلب کرکے ریاست کیخلاف فیصلہ سنا دیا۔

ایسے فیصلوں نامنظور کرتے ہوئے بھارتی سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ اس بات کا اعادہ کیا جائے کہ سرکاری ملازمین کو غیر ضروری طور پر عدالتوں میں طلب نہ کیا جائے۔

افسران کو عدالتوں میں طلب کرکے عدلیہ کے وقار اور احترام میں اضافہ نہیں ہوتا۔ عدالتوں کا احترام اس کے فیصلوں سے حاصل ہوتا ہے، احترام کسی سے مانگ کر نہیں لیا جا سکتا، اور احترام میں اضافہ کسی افسر کو طلب کرنے سے بھی نہیں حاصل ہو سکتا۔

بینچ نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ عدالتوں میں سرکاری افسران کو طلب کرنے اور ان کی حاضری کو یقینی بنانے کی ایک قیمت ہوتی ہے، ان کی سرکاری مصروفیات کا حرج ہوتا ہے اور بالآخر اس اقدام کے نتیجے میں ان افسران کے عوامی فلاح کے اُن کاموں پر اثرات مرتب ہوتے ہیں جن کیلئے انہیں ملازمت پر رکھا جاتا ہے۔ ایگزیکٹو کے سرکاری ملازمین اپنے فرائض حکومت کے تیسرے بازو کی طرح ادا کرتے ہیں۔ افسران کے فیصلے یا اقدامات سے ان کا اپنا فائدہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ لوگ عوامی فنڈز کے رکھوالے ہوتے ہیں اور انتظامیہ کے مفاد میں فیصلے کرتے ہیں، کچھ فیصلے لازمی کرنا ہوتے ہیں۔

بھارتی سپریم کورٹ کے بینچ کا کہنا تھا کہ جوڈیشل ریویو کی کسوٹی پر پورا نہ اترنے والے کسی بھی فیصلے کو عدالت کالعدم قرار دے سکتی ہے لیکن بار بار افسران کو طلب کرنا ایسا عمل ہے جس کی سخت الفاظ میں مذمت کی جاتی ہے۔

عدلیہ کی مثال پیش کرتے ہوئے، بینچ نے اس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ عدالتی کارروائیوں میں بھی وقت لگتا ہے کیونکہ سماعت کے حوالے سے کوئی طے شدہ میکنزم موجود نہیں ہے۔ عدالتوں کے پاس قلم کی طاقت ہے جو عدالت میں کسی بھی افسر کو بلانے کی طاقت سے بھی زیادہ ہے۔

عدالت کے روبرو اگر کوئی اہم معاملہ پیش ہوتا ہے اور ریاست کی نمائندگی کرنے والا وکیل جواب نہیں دے پا رہا تو مشورہ یہ ہے کہ اس شک و شبے کو فیصلے کا حصہ بنایا جائے اور ریاست یا پھر اس کے افسر کو وقت دیا جائے۔

بھارتی سپریم کورٹ کے بینچ نے ہائی کورٹ کا وہ فیصلہ کالعدم قرار دیدیا جس میں ریاست کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا حکم دیا گیا تھا، ساتھ ہی ہدایت کی کہ میڈیکل افسر کو بقایہ جات ادا کیے جائیں۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ ہائی کورٹ نے 13؍ سال تک سروس جوائن نہ کرنے والے میڈیکل افسر کو صرف اس تاثر پر ریلیف فراہم کرکے غلط کیا کہ اسے 2002ء میں آرڈر موصول نہیں ہوا تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ افسر کیلئے کوئی آپشن نہیں تھا کہ وہ صرف ’’رابطہ نہیں ہو پایا‘‘ کو بنیاد بنا کر ٹرانسفر آرڈر کی تعمیل نہ کرے حالانکہ 100؍ سے زائد دیگر میڈیکل افسران کو اسی عام ٹرانسفر آرڈر کے ذریعے ٹرانسفر کیا گیا اور صرف ایک نے وہاں جوائن نہ کرنے کا فیصلہ کیا جہاں اسے مقرر کیا گیا تھا۔

اہم خبریں سے مزید