حکمرانوں کی ہر حرکت کیمرے دیکھتے ہیں ۔ ان کا ایک میٹنگ سےنکل کر دوسری میٹنگ میں جانا، سب کچھ Capture ہوتاہے،ٹی وی پر چلتا ہے ، چلنا بھی چاہئے ،عوام جاننا چاہتے ہیں کہ جن کوووٹ دئیے تھے، وہ کر کیا رہے ہیں، مجھے عوام کی یہ توقع بھی ناجائز نہیں لگتی کہ ان کے نمائندے دن رات کام کریں کیونکہ مسائل زیادہ ہیں اور وقت کم ہے ۔پون صدی ہونے کو ہے عوام نے بہت دکھ بھری راتیں دیکھ لیں ، بہت داغ داغ اجالے بسر کرلئےمگر ایک نہ ختم ہونے والی جنگ مسلسل جاری ہے، لوگوں کی آنکھیں فتح کی آرزو میں اپنی اپنی دہلیز پر دھری ہیں۔
کیمروں کی لائٹس کی حسین کھلکھلاہٹوں کے درمیاں حکمرانوں کا بغیر پروٹوکول دوروں کا سلسلہ ایک پی آرا سٹنٹ سمجھا جاتا رہاکہ حکمران کےلئے کیمروں سے بڑا پروٹوکول کیا ہے مگر یہ بھی لوگوں نے دیکھا کہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار جب بہاولپور پہنچے تو رات کو پرائیویٹ گاڑی میں شہر کے دورے پر نکلے۔ کوئی پی آر او یا کیمرہ مین ساتھ نہیں تھا، نہ سیکورٹی اور نہ ڈرائیور۔ انہوں نے خود گاڑی چلا کر شہر کا دورہ کیا اور ضلع میں انتظامات کا جائزہ لیا۔ یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہوا ،عثمان بزداررات کو لاہور کی مختلف شاہراہوں کااکثردورہ کرتے ہیں ۔جنوبی پنجاب کے دورے پر جاتے ہیں توایک عام شہری کی طرح پھرتے ہیں۔ و ہ جو سرپرائز وزٹ ہواکرتے تھے پچھلے کچھ برس میں ان کا مقصد ہی فوت ہوگیا تھا۔عثمان بزدار نے انہیں دوبارہ شروع کیا ہے۔یہ ماضی کی طرح ان کیمرہ سرپرائز وزٹ نہیں ،اصلاحاتی سرپرائز وزٹس ہوتے ہیں، انہی وزٹس کی وجہ سے کام چور سرکاری ملازمین اورا نتظامی افسروں کی کارکردگی کے پول کھلتے ہیں ،کئی معطل ہوچکے ہیں، اسی سبب صوبے میں انتظامی بہتری کے ساتھ گورننس پربھی مثبت اثرات مرتب ہورہےہیں۔ ہر کام کو کرنے کا ڈھنگ ہوتا ہے اورصوبائی سطح پر تو عثمان بزداریہ ڈھنگ بڑی بڑی سیاسی شخصیات کو سکھا رہے ہیں۔ان کے اس طرز عمل سے پنجاب میں بہترین لیڈرشپ کے ابھرنے کا امکان ہے۔
بہاولپور کا ذکر ہوا ۔یہ بھی بتادوں کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے دورہ بہاولپور میں اسلامیہ یونیورسٹی کے بغداد الجدید کیمپس میں کرکٹ اسٹیڈیم کا افتتاح کیا گیا اوریونیورسٹی کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے 2.5 میگا واٹ کے سولر منصوبے کا بھی افتتاح ہوا۔ اس کے علاوہ نرسنگ کالج کا افتتاح بھی ہوا۔ انہوں نے بہاولپور کے عوام سے اظہارِ محبت اور ان کے پاکستان کی ترقی میں کردار کو سراہتے ہوئے اپنی تقریر کا آغاز کیا۔ بہاولپور کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کسان کنونشن میں عثمان بزدارنے بتایا کہ بہاولپور کی اس یونیورسٹی کا شمار دنیا کی ایک ہزار بہترین یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے۔ اس تقریب میں کسانوں کو کسان کارڈ تقسیم کئے گئے۔ اس کارڈ کے ذریعے کسان سبسڈی براہ راست وصول کرسکیں گے، کسی کی منت سماجت نہیں کرنی پڑے گی، کسی کو پیسے نہیں دینے پڑیں گےاور کسان اپنا حق اپنی دہلیز پر حاصل کرسکے گا۔
اسموگ کا سیزن قریب ہے ، لاہور اس سیزن میں سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے اس شہر کے گرین کور کو اس حد تک نقصان پہنچایا گیا کہ سال 2008سے لیکر 2017تک یہاں کا 70فیصد گرین کور متاثر ہوا۔ پچھلے دور حکومت میں یہاں صرف 1لاکھ اور 25ہزار پودے لگائے گئے جب کہ عثمان بزدارکے دور میں یہاں سگیاں پر بنائے جانے والے میاواکی فاریسٹ میں ہی 1لاکھ 65ہزار پودے لگائے جارہے ہیں۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا میاواکی اربن فاریسٹ ہے، جس کا اعزاز لاہور کو حاصل ہوا ہے۔ اس تکنیک سے لگنے والے پودے 30فیصد زیادہ آکسیجن خارج کرتے ہیں اور 40فیصد زیادہ کاربن اپنے اندر جذب کرتے ہیں۔ یہ جنگل لاہور کی آب و ہوا اور ماحول کو سرسبز و شاداب بنانے میں کردار ادا کرے گا۔ اب تک پنجاب حکومت 10لاکھ پودے لگا چکی ہے اور مون سون 2021کے ٹارگٹ کے مطابق لاہور میں 5لاکھ 20ہزار مزید پودے لگائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ اب تک 53میاواکی جنگل لگائے جا چکے ہیں، 30ڈویلپمنٹ کے مراحل میں ہیں،ایک میاواکی جنگل ایک سو کنال پر لگایا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں پچھلی حکومت سےکیا شکوہ کریں کہ انہیں تو آج درخت لگانا سیکورٹی تھریٹ لگتاہے۔
اسکے علاوہ بزدار حکومت پنجاب کے 36اضلاع میں 4ارب کی لاگت سے دسمبر 2021تک 1500واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب کرےگی۔ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے ترقیاتی بجٹ میں 5گنا اضافہ بھی کردیاگیا ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں داخلے کیلئے 2فیصد اور ملازمت کیلئے 5فیصد اقلیتی کوٹہ پر عملدرآمد کیا جارہا ہے۔ ہر شعبے میں بلا تفریق کام ہوتا نظر آرہا ہے۔ یہ سابق ادوار کی طرح نمبروں کی ہیر ی پھیر ی نہیں بلکہ معیاری اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ جہاں پنجاب میں 21نئی یونیورسٹیوں پر کام ہورہا ہے وہاں 25سرکاری یونیورسٹیاں پچھلے 3برسوں میں بین الاقوامی رینکنگ میں شامل ہوئی ہیں جن میں پہلے نمبر پر پنجاب یونیورسٹی لاہور ہے جس کے وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز احمد ہیں۔ وہ ابھی انجینئرنگ کونسل کے انتخابات میں فتح یاب ہوئے ہیں۔ انہیں مبارک باد۔ اسی طرح جب سے پروفیسر ڈاکٹر اصغر زیدی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر لگے ہیں، وہاں بھی بہت تیزی کے ساتھ مثبت تبدیلیاں آرہی ہیں۔ جی سی یونیورسٹی آب و تاب پر واپس آ چکی ہے۔ 75نئے کالجز بنائے جاچکے ہیں اور 86مزید کالجز کی تعمیر کا آغاز سال 2021سے ہورہا ہے۔ سرکاری کالجز کے اساتذہ کی کیپسٹی بلڈنگ پر بھرپور انداز میں کام کیا جارہا ہے، جدید طرز کی ٹریننگ اسٹرٹیجی متعارف کروائی جا چکی ہے جس پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے اور رواں مالی سال میں سینٹر فار کالج فیکلٹی ڈویلپمنٹ پر بھی کام کا آغاز کردیا جائے گا۔ طالب علموں کیلئے ہیلتھ اینڈ فٹنس ماڈیول اور لائف اسکلز ماڈیول متعارف کروائے جا چکے ہیں تاکہ سرکاری اداروں سے پاس ہونے والے بچے پر اعتماد ہوں، کری ٹیکل تھنکنگ کے ساتھ انٹرپرائزنگ کوالیٹیز اورا سکلز سے بھی آراستہ ہوں۔ اسی طرح تمام شعبوں میں کام جاری رہا تو مالی اور سماجی ترقی پنجاب کا مقدر بن جائے گی۔ماضی کی طرح معاملات صرف کیمرہ لائٹس کی حسین کھلکھلاہٹوں تک محدود نہیں رہیں گے۔