• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


طالبان نے افغانستان کے بیش تر علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے، طالبان افغانستان میں 1990 کے عشرے میں منظر عام پر آئے، ان کی تاریخ پر مبنی رپورٹ یہ ہے۔

طالبان تحریک کا آغاز 1994 میں اس وقت ہوا، جب ڈاکٹر نجیب کی حکومت ختم ہونے کے بعد افغان مجاہدین خانہ جنگی کا شکار تھے۔

طالبان کی قیادت ملا محمد عمر کے پاس تھی، 27 ستمبر 1996 کو کمانڈر احمد شاہ مسعود اپنی فوجوں کو کابل سے وادیء پنج شیر لے گئے، جس کے بعد طالبان فوجوں نے کابل پر قبضہ کر لیا۔

تاہم کابل کے بجائے قندھار کو ہی دارالحکومت برقرار رکھا گیا، 1998 میں عبدالرشید دوستم کی ملیشیا کی زبردست مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، تاہم اس کے بعد طالبان نے مزار شریف پر بھی قبضہ کر لیا۔

وادیء پنج شیر اور شمالی علاقوں پر احمد شاہ مسعود کا قبضہ برقرار رہا، اس دوران اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری سمیت القاعدہ کی قیادت بھی افغانستان آ گئی۔

9 ستمبر 2001ء کو صحافیوں کے روپ میں آئے 2 خودکش حملہ آوروں نے احمد شاہ مسعود کو قتل کر دیا۔

دو روز بعد امریکا میں گیارہ ستمبر کا واقعہ پیش آیا جس نے دنیا کو تبدیل کر کے رکھ دیا۔

امریکا نے گیارہ ستمبر کے واقعات کا الزام القاعدہ پر لگا کر طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ اسامہ بن لادن کو امریکا کے حوالے کر دیں، ایسا نہ ہونے پر 7 اکتوبر کو امریکا نے افغانستان پر حملہ کردیا، جبکہ اس دوران دیگر طالبان مخالف کمانڈروں نے بھی کارروائیاں شروع کر دیں۔

ایک ماہ بعد 9 نومبر کو مزار شریف اور پھر 13 نومبر کو کابل پر اتحادیوں نے قبضہ کر لیا، کچھ عرصے کے بعد افغان طالبان نے افغانستان میں اتحادیوں کے خلاف کارروائیاں شروع کر دیں۔

دہشت گرد گروپوں نے پاکستان کے اندر بھی خودکش حملے اور دیگر کارروائیاں شروع کر دیں، جن میں ہزاروں پاکستانی جاں بحق ہو گئے، جن میں سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو بھی شامل تھیں۔

اس دوران امریکا پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے بھی کرتا رہا، جن کے نتیجے میں بیت اللہ محسود اور حکیم اللہ محسود سمیت پاکستانی طالبان کے متعدد دہشت گرد رہنما مارے گئے۔

امریکا نے بالآخر افغان طالبان سے مذاکرات شروع کیے اور افغانستان سے اپنی فوجوں کے انخلاء پر اتفاق کیا۔

قطر کے دارالحکومت دوحا میں بھی افغان فریقین کے درمیان مذاکرات ہوتے رہے مگر افغان گروہ کسی مصالحتی فارمولے پر متفق نہ ہو سکے۔

امریکی مدد رک جانے کے بعد افغان فورسز طالبان کا مقابلہ نہ کر سکیں اور کسی مزاحمت کے بغیر افغانستان کے بیش تر علاقوں پر طالبان نے قبضہ کر لیا۔

خاص رپورٹ سے مزید