• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکومت مڈل مین کا کردار ختم کرے تاکہ صارفین کو مناسب قیمت پر مرغی ملتی رہے

ج۔م

پاکستان میں کوئی بھی سیکٹر دیکھ لیں وہ کما تو اربوں روپے رہا ہے لیکن جب عام آدمی کے فائدے کی بات کی جائے تو اسے جو ہوش ربا مہنگائی کا سامنا ہے تو اس کا ذمہ دار ہر سیکٹر حکومت کو ٹھہرا دیتا ہے ماضی میں ٹیکسز اور پالیسی ذمہ دار ہو تی تھی آج کل سارا ملبہ کرونا پر ڈالا جارہا ہے۔

چند ماہ پہلے مرغی کی قیمت 500 روپے کلو تک گئی تو لوگوں کی چیخیں نکل گئیں دو سو روپےو الی مرغی کا یہ ریٹ پاکستان میں کبھی نہ ہوا لہذ ا پولٹری اور فارمر برائلر کو مافیا کا نام دیا گیا کہ اربوں روپے کھا گئے لیکن آج کل اس کا ریٹ انتہائی کم سطح پر آیا ہوا ہے اور یہی فارمر پولٹری والے اب رو رہے ہیں کہ حکومت آئے اور ان کی مدد کرے یہ سوچنے والی بات ہے کہ ایسا میکنزم ہو کہ کوئی سیکٹر اضافی قیمت نہ لے سکے اور جب مشکل آئے تو تب حکمت ان کے ساتھ کھڑی ہو بہر حال یہ ایسا چکر ہے جو سب کو چکر دے رہا ہے مہنگائی رکنے والی دکھائی نہیں دے رہی ہم نے پولٹری کی حالیہ زبوں حالی پر پنجاب فارمرز برا ئلر ایسوسی ایشن کے چئیرمین سردار تجمل سے ایک نشست کی اور انکی لاگت سے کم قیمت پر برائلر بکنے کی وجہ جانی جو یہی رہی ۔

حکومت مڈل مین کا کردار ختم کرے تاکہ صارفین کو مناسب قیمت پر مرغی ملتی رہے
سردار تجمل

سردار تجمل کہتے ہیں کہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 313 روپے فی کلوگرام فروخت ہونے والا گوشت 190 روپے فی کلوگرام فروخت کر کے روزانہ 123 روپے فی کلوگرام کا مالی نقصان برداشت کر رہے ہیں اور گزشتہ ایک ماہ میں رجسٹرڈ فارمرز برائلرز ایسوسی ایشن کے ہزاروں ممبران کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے مالی نقصان کے باعث گھر زیورات اور گاڑیاں گروی رکھی جا چکی ہیں وزیر خزانہ شوکت ترین نے بجٹ اجلاس میں یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ مر غی کی فیڈ پر سیلز ٹیکس نہیں ہو گا مگر سویابین آئل پر سیلز ٹیکس کی شرح دس فیصد سے سترہ فیصد کر دی گئی فارمرز برائلرز ایسوسی ایشن کا سیکٹر زراعت کا اہم ترین سیکٹر ہے جن پر بجلی کا کمر شل ٹیرف لاگو کر دیا گیا اور بجلی کا یونٹ 14 روپے سے 29 روپے کا کر دیا گیا ہمار ےسیکٹر پر عائد غیر ضروری ٹیکس اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کی جائے تو مرغی کے گوشت میں صارفین کو مزید ریلیف ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ اوپن مارکیٹ میں مرغی کے گوشت کے نرخ طلب اور رسد کے فارمولے کے مطابق طے ہوتے ہیں آج کل طلب کم ہے اور رسد زیادہ ہے اس لیے مارکیٹ میں گوشت کی قیمتیں کم ہیں یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ مردہ مرغی کا گوشت مارکیٹ میں فروخت ہو فارم سے مارکیٹ تک مردہ مرغی کی پہنچ نا ممکن ہےمختلف ذرائع سے مردہ مرغی کے لوڈر دکھانا افسوس ناک ہے انہوں نے کہا کہ اچانک بجلی چلی جائے تو ہزاروں مرغیاں ہلاک ہو جاتیں ہیں جن کو فوری طور پر زمین کے سپرد کر دیا جاتا ہے

سردار تجمل نے کہا کہ ہر دور میں مڈل مین نے کمائی کی ہے ، مرغی کے ریٹ بڑھنے سے صارفین بہت کم ہونے سے فارمرز کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے، حکومت مڈل مین کا کردار ختم کرے تاکہ فارمرز اور صارفین کو مرغی بہتر ریٹ پر مل سکے مرغی کا ریٹ کم ہو یا زیادہ مڈل مین اور دوکاندار نے ہی منافع کماناہے۔

ریٹ کم ہوں تو فارمرز کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور ریٹ زیادہ ہو ںتو صارفین کی جیبیں خالی ہوتی ہیں ۔جوفارمرز سے مرغی خریدتے ہیں ، فی کلو آٹھ روپے منافع اور5سے 7 روپے جگا ٹیکس بھی وصول کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ اس بات کی نشاندھی بہت دفعہ ارباب اختیار کے سامنے کر چکے ہیں مگر ان لوگوں کا آج تک کچھ نہیں بگاڑا جا سکا اس وقت مرغی کی پیداواری لاگت 200روپے فی کلو پڑتی ہے جس میں 8 روپے ٹریڈرز کے اور 8 روپے دوکاندار کے شامل کر لیں مگر مرغی اس سے بہت کم ریٹ پرفروخت ہو رہی ہے۔ انہوں ے کہا کہ پوری دنیا میں مرغی کسی منڈی میں فروخت نہیں ہوتی ۔ مرغی کا ریٹ بھی کسی منڈی میں طے نہیں ہوتا نہ حکومتیں کرتیں ہیں ۔

انہوںنے کہا کہ مرغی کے منافع میں 8روپے دوکاندار کے ہوتے ہیں چا ہے مرغی جتنی مرضی سستی یا مہنگی ہو جائے انہوں نے بتایا کہ 2010 میں اس ایسوسی ایشن کو مناپلی کنٹرول اتھارٹی نے ملی بھگت کر کے ریٹ بڑھانے پر 10کروڑ روپے جرمانہ کیا اور اب پھر ان کا کیس چل رہا ہے۔

سردار تجمل نے کہا کہ مرغی بھی جاندار ہے اور اس کا دارومدار ہمارے رزق سے جڑا ہوا ہے لہذا ہم اپنے بچوں سے زیادہ انکی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ ان کو وقت پر ویکسین لگاتے اور بیماریوں کی صورت میں کئی کئی ڈاکٹر بلا کر ان کا علاج کراتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے بجٹ سے قبل کہا تھا کہ مرغی کی خوراک کے اجزا پر ٹیکس نہیں لگایا جائے گا مگر جب بجٹ آیا تو جنرل سیلز ٹیکس کو 10 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کر دیا گیا جس سے مرغی کے ریٹ میں یکدم اضافہ ہو گیا مرغی کا ریٹ اس کی پیداواری لاگت سے کم ہونے پر مرغی کے بیشتر شیڈ بند اور کئی فارمرز بینک ڈیفالٹر ہو گئے حکومت ان کی مدد کر ے انہوں نے کہا کہ اس وقت لاہور شہر کی مرغی کی طلب 32سے 33لاکھ کے جی ہے مگر رسد اس سے کہیں زیادہ ہے جس کی وجہ سے مرغی کے ریٹ میں ضرورت سے زیادہ کمی واقع ہو چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں پنجاب ایک ایسا صوبہ ہے جہاں سب سے زیادہ مرغی فارمز ہیں۔ تعداد کے حوالے سے ان کا کہنا تھا پنجاب میں 26ہزار مرغی فارمز ہیں جن سے روزانہ 4ہزار گاڑیاں مرغی لے کر آتی ہیں ان گاڑیوں میں 3800گاڑیاں براہ راست دوکانداروں کے پاس جا تی ہیں ۔

مرغی کے ریٹ کے طے ہونے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کسی ضلع کا ڈی سی ریٹ طے نہیں کرتا بلکہ برائلرز ایسوسی ایشن ہی ریٹ طے کرتی ہے اور اس کا نوٹیفیکیشن ضلعی انتظامیہ جاری کرتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مرغی کا وزن علاقائی اعتبار سے ہوتا ہے۔ پنجاب میں ایک سے ڈیرھ کلو کی مرغی کا گوشت کھایا جاتا ہے جب کہ کے پی کے میں ڈھائی سے تین کلو کی مرغی کھائی جاتی ہے۔ افغانستان میں برائلر نہیں۔ انڈے دینے سمیت زیادہ وزنی مرغی بھیجی جاتی ہے کیونکہ وہ لوگ کم وزن کی مرغی نہیں کھاتے۔ انڈے دینے اور زیادہ وزن والی مرغی پاکستان کے کسی خطے میں نہیں کھائی جاتی لہذا اس کے لیے افغانستان کا باڈر کھول دینا چاہیے تاکہ اس سے زر مبادلہ کمایا جا سکے انہوں نے کہا کہ شدید گرمی اور شدید سردی میں مرغی کا ریٹ کم ہوتا ہے کیونکہ مرغی گرمی کی وجہ سے زیادہ خوراک کی بجائے پانی پینا پسند کرتی ہے جس سے اس کا وزن نہیں بڑھتا۔

ان دنوں مرغی کا ریٹ سردیوں کی مرغی کے ریٹ کے برابر ہو چکا ہے۔ مرغی فارمرز کو اتنا نقصان ہوچکا ہے کہ بیشتر شیڈ بند اور کئی بینک ڈیفالٹر ہو چکے ہیں۔ فارمرز کی بیوی اور بیٹیوں کے زیورات اور گھر تک گروی رکھے جا چکے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ حکومت مرغی کی خوراک سے جنرل سیلز ٹیکس ختم کرے یا پھر اس کو پرانی سطح پر لے جائے تاکہ مرغی کا گوشت آنے والے دنوں میں مہنگا نہ ہو سکےاور بجلی کی قیمتوں میں بھی کمی کی جائے 14 روپے والا یونٹ 28 روپے کا ہو چکا ہے اور یہ تمام بوجھ عوام پر پڑتا ہے۔