• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افغان پالیسی پارلیمنٹ میں طے کی جائے، حکومتی کارکردگی پر وہائٹ پیپر لائیں گے، نام نہاد انتخابی اصلاحات مسترد، میثاق پاکستان کی تیاری کیلئے کمیٹی بنادی، PDM


اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں، ٹی وی رپورٹ) پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے رہنما سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے کہاہے کہ افغان پالیسی پارلیمنٹ میں طے کی جائے، حکومتی کارکردگی پر وائٹ پیپر لائینگے، نام نہاد انتخابی اصلاحات مسترد کرتے ہیں۔

میثاق پاکستان تیاری کیلئے کمیٹی بنادی ہے، انتخابی اصلاحات ڈاکا ڈالنے کا منصوبہ ہے، جمہوری عمل میں غیر قانونی مداخلت بند کی جائے، جب تک الیکشن کا نظام شفاف نہیں ہوگا جمہوریت نہیں پنپ سکے گی، جلسوں، ریلیوں کاشیڈول طےکردیا۔ 

طالبان کو خوش آمدید کہنا فضل الرحمٰن کی جماعت کا فیصلہ ہے، 29اگست کو کراچی میں پی ڈی ایم کا جلسہ ہوگا،ادارے آئینی حدود میں رہیں اور ملک کی بہتری کیلئے کام کریں، جلسوں ،ریلیوں کاشیڈول طےکردیا۔ 

تفصیلات کے مطابق پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کی اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہفتہ کو یہاں ن لیگ کے سیکریٹریٹ میں مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال کی زیر صدارت ہوا۔ 

اجلاس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما مولانا عبد الغفور حیدری، حافظ حمید اللہ، سکندر شیر پا ؤ سمیت دیگر عہدیداروں نے شرکت کی ۔اجلاس میں ملکی سیاسی، اندرونی اور معاشی صورت حال پر مشاورت کی گئی ۔

پی ڈی ایم نے حکومت مخالف تحریک کے آئندہ مراحل اور ملک گیر جلسوں پر تفصیلی مشاورت کی۔ملک گیر جلسوں کا شیڈول طے کرلیا گیا ہے ۔ میثاق پاکستان کے ایجنڈے کو حتمی شکل دینے کے لئے کمیٹی قائم کردی گئی ہے ۔ کمیٹی میثاق پاکستان کو 6 ہفتوں میں مکمل کریگی۔

لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سفارشات حتمی منظوری کے لیے 28 اگست کو پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں پیش کی جائیں گی ۔ 29 اگست کو کراچی میں پی ڈی ایم کے تحت جلسہ منعقد کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی ناقص کارکردگی کو تین سال پورے ہوگئے، پی ڈی ایم حکومتی تین سالہ کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرے گی جس کا مقصد حکومت کی نااہلیت کو سامنے لانا ہے۔ 

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ طالبان کو خوش آمدید کہنا مولانا فضل الرحمان کا ذاتی معاملہ یا ان کی جماعت کا فیصلہ ہے پی ڈی ایم کا نہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت طالبان سے متعلق پالیسی کے لیے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے پالیسی پارلیمان کے ذریعے بنائی جائے۔ انھوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کا ایجنڈا ہے کہ ملک کو آئین اور قانون کے تحت چلایا جائے۔ 

تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہم حکومت کی یک طرفہ الیکشن اصلاحات کو مسترد کرتے ہیں، الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا مقصد ووٹ کی چوری کو سہارا دینا ہے۔

پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ حکومت میڈیا پر پابندی عائد کر رہی ہے، ہم میڈیا کی آزادی سلب کرنے کی حکومتی کوششوں کو مسترد کرتے ہیں۔ 

جب تک الیکشن کا نظام شفاف نہیں ہوگا جمہوریت نہیں پنپ سکے گی ۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ تمام جماعتوں نے اتفاق کیا کہ نام نہاد انتخابی اصلاحات عوام کے حق اور رائے پر ڈاکہ ڈالنے کا منصوبہ ہے۔ 

6 مہینے پہلے چارٹر فار پاکستان کا اعادہ کیا تھا اس پر کام کی تکمیل کے لئے کمیٹی بنائی گئی ہے ۔ کمیٹی میثاق پاکستان کو 6 ہفتوں میں مکمل کرے گی ،میثاق پاکستان کی منظوری کے لئے اسے سربراہی اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ حکومت نے یکطرفہ انتخابی اصلاحات کی بات ہے، ہم عوامی مشکلات میں کمی کیلئے راستہ دکھائیں گے، حکومتی کرپشن اور نااہلی قوم کے سامنے لائیں گے۔

تازہ ترین