• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گوادر میں چینی شہریوں کے قافلے پر خود کش حملہ ہوا۔کابل کی جیلوں سے رہا ہونے والے تحریک طالبان پاکستان کے لوگوں پر پاکستان انٹیلی جنس کو گہری نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ بھارت افغانستان میں اپنی شکست پر خاموش نہیں رہ سکتا۔ اس کے دفاعی تجزیہ کار کرنل (ر) دنویر سنگھ نے بھارتی حکومت کوخبردار کیا ہے کہ بھارت کو خطے کے معاملات سے خارج کیا جارہا ہے۔ پاکستان، چین، روس، ایران اور وسط ایشیائی ممالک کابلاک بن چکاہے۔ طالبان نےتمام بھارتی قونصل خانوں کی دستاویزات کی تلاش کے نام پر پوری تلاشی لی اور گاڑیوں سمیت بہت سی چیزوں کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ مجھے طالبان کی فتح کا اندازہ اُس دن ہو گیا تھا جب اشرف غنی نے ازبکستان میں پاکستان پر الزام عائد کیا کہ طالبان کی مدد کےلئے دس ہزار جنگجو سرحد عبور کر کے افغانستان آئے ہیں۔اس وقت عمران خان نے اشرف غنی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’جب پاکستان کہہ رہا تھا کہ طالبان سے بات چیت کریں تو اس وقت ایسا نہیں کیا گیا اوراب جب طالبان فتح کے قریب پہنچ چکے ہیں تو بات چیت کی باتیں کی جا رہی ہیں‘‘۔

19 سال پہلے امریکہ جب افغانستان آیا تھا تودنیا کا خیال تھا کہ وہ چند برس میں افغانستان کو ایک ماڈرن ریاست میں بدل دے گا جہاں امریکی جمہوریت ہو گی ،برطانوی پولیس ہوگی ،آسٹریلین سماجی بہود کے محکمے ہونگے ،پاکستان کی طرح خواتین سڑکوں پر ’’میرا جسم میری مرضی ‘‘ کے سلوگن اٹھائے کھڑی ہونگی۔ پب اور کلب کھل جائیں گے۔یونیورسٹیوں میں ’’گے ازم ‘‘ پڑھایا جارہا ہوگا ۔ امریکی سویلین افغانستان کی وادیوں میں گٹار بجاتے پھر رہے ہونگےاور امریکی فوجی اپنی گرل فرینڈز کے ساتھ عالیشان دفتروں میں بڑی بڑی اسکرینز پر دیکھ رہے ہونگے کہپاکستان ، چین اور روس کی کونسی گلی میں اُس وقت کون چہل قدمی کررہا ہے مگر اسے 19 سال بعد اندازہ ہوا ہے کہ اس نے جو کچھ سوچا تھا یہاں ویسا ممکن نہیں۔ امریکی پالیسی سازوں نے اس معاملہ پربہت غور کیا ، ہارورڈ یونیورسٹی نے بھی اپنی رپورٹ تیار کر کے دی، پینٹاگون نےبھی اپنی تجاویز پیش کیں۔ بھارت کی طرف سے آئی ہوئی رپورٹ کو بھی بڑی اہمیت ملی جس میں بھارت نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ کے نکل جانے کے بعد وہ افغانستان کے معاملات کو سنبھال لے گا۔ ان رپورٹس کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا کہ امریکہ افغانستان سے خود نکل آئے ،اور وارلارڈ ز کو اتنامضبوط کردے کہ یہاں مسلسل خانہ جنگی رہے۔ یہ خانہ جنگی افغانستان سےپاکستان میں خود بخود داخل ہوجائے گی۔ چین کے ساتھ ان کے حالات خراب رہیں گے۔ یہ افغانی چین کی مغربی سرحد کو غیر مستحکم کرتے رہیں۔ ایران کا سنی طالبان سے جھگڑا جاری رہے گا۔تاہم ایسا ہی ہوا اورافغانستان میں خانہ جنگی کے امکانات ختم ہو کررہ گئے ہیں۔ تقریباً پورا ملک طالبان کے قبضے میں چلا گیا ہے۔ طالبان اور چین بھی ایک پیج پر ہیں۔ایران نے بھی طالبان کے ساتھ صلح کرلی۔ افغانستان کے تمام اہل تشیع نے طالبان کی حمایت کا اعلان کیا۔ ایران کےلئے اس سے بڑی فتح کیا ہوسکتی ہے کہ اب اس کی مشرقی سرحدیں مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ پاکستان نے مہینوں پہلے افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد بند کر دی تھی اور افغانستان کے اندرونی معاملات سے بالکل دور رہا۔ اس طرح طالبان اور پاکستان کے درمیان کوئی تنازعہ پیدانہیں ہوا۔

اس وقت امریکہ بھارت سے ناراض ہے کہ اس نے افغانستان کے معاملے میںاسے غلط گائیڈ کیا ہے۔ بھارت سے اتنا بھی نہیں ہو سکا کہ وہ امریکہ کی کٹھ پتلی حکومت کوتحفظ فراہم کر سکے۔ بھارت نے تو الٹا وہاں اپنے تمام قونصل خانے بند کر دیے ہیں ،اس نے اپنی اربوں ڈالر انوسٹمنٹ ضائع ہونے دی ہے کیونکہ وہ امریکہ کا انجام دیکھ چکا ہے۔ اشرف غنی اپنے ساتھیوں سمیت ملک سے فرار ہوگیا۔ امریکہ نے اپنے سفارت خانے کو دودن پہلے تمام اہم کاغذات جلادینے کا حکم جاری کردیا تھا۔ یعنی اسے اندازہ ہوچکا تھاکہ افغانستان پر طالبان کی حکومت قائم ہونے والی ہے۔امریکہ کےلئے سب سے زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ طالبان نے بغیر کسی لڑائی کے کابل پر قبضہ کرلیا یعنی اہل ِ کابل نے طالبان کو خوش آمدید کہا ہے۔ طالبان نے بھی عام معافی کا اعلان کیا ہے۔امریکہ کا خیال تھا کہ تقریباً چھ ماہ لگ جائیں گے طالبان کو کابل میں داخل ہوتے ہوتے۔

برطانوی وزیر اعظم نے طالبان کی حکومت تسلیم کرنے کاعندیہ دےدیا ہے۔ انہوں نے شرط رکھی ہے کہ افغانستان دہشت گردوں کا گڑھ نہیں بننا چاہئے ، نئی حکومت اگر ہمارے ساتھ معاہدہ کرے تو ہم اسے تسلیم کرنے کےلئے تیار ہیں۔ ترک صدر رجب طیب اردوان اور وزیر اعظم عمران خان کے درمیان بھی افغان صورت حال پر بات چیت ہوئی۔ اطلاعات یہی ہیں کہ ٹیلی فونک گفتگو میں عمران خان نے ترک صدر کے خدشات دور کئے اور انہیں یقین دلایا کہ افغانستان میں کسی ترک کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ امکان یہی ہے کہ چند دنوں میں امریکہ خود طالبان کی حکومت کو تسلیم کرلے گا کیونکہ یہ حکومت پہلے والے طالبان جیسی نہیں ہو گی، اب اس کا نظام ِ حکومت سعودی عرب کے قریب قریب ہوگا۔ جتنی آزادی خواتین کوسعودی عرب اور ایران میں ہے افغانستان میں امکان ہے کہ اس سے زیادہ ہو گی۔ قطر جیسی صورتحال ہو گی۔ بین الاقوامی قوانین کا پورا پورا احترام کیا جائے گا۔ طالبان نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کے کسی رکن نے اگر کہیں کوئی انتقامی کارروائی کی تو اس کے خلاف باقاعدہ تحقیقات ہونگی اور جرم ثابت ہونے پر اسے سزا دی جائے گی۔ طالبان کا کہنا ہے کہ اب ان کی حکومت ماضی کی طرح شدت پسند نہیں ہو گی اعتدال پسند پالیسیاں وضع کی جائیں گی۔ جن کیلئےفریم ورک تیار ہو رہا ہے جس کا سب سے پہلا اظہار اس حکم میں نظر آتا ہے کہ کوئی شخص کسی وقت بھی ملک سے باہر جا سکتا ہے اور کوئی بھی شخص کسی وقت بھی ملک میں آ سکتا ہے۔

تازہ ترین