• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لیسکو میں میٹر، کیبلز اور ٹرانسفارمرز کی قلت، صارفین رل گئے

ج۔م

ملک کی سب سے بڑی ڈسٹری بیوشن کمپنی اس وقت میٹروں، کیبلز اور ٹرانسفارمرز کی کمی کا شکار ہے صارفین تین تین ماہ سے نئے اور خراب میٹروں کے پیسے جمع کروانے کے باوجود رل رہے ہیں جب وہ دفاتر جا کر بحث کرتے ہیں تو ایس ڈی او، ایل ایس اور متعلقہ عملہ خود پریشان ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ صارف اس ساری صورتحال کا ذمہ دار ان کو ٹھہراتا ہے کہ شاید یہ جان بوجھ کر تنگ کر رہے ہیں اور میٹر لگانا نہیں چاہتے یہ ایسی صورتحال ہے جس پر حکومت بھی بدنام ہوتی ہے۔

اس وقت لیسکومیں ہزاروں درخواستیں زیر التو ہیں جبکہ سینکڑوں ٹرانسفارمرز ان گرمیوں میں خراب ہوئے اور سٹاف ان کو تبدیل کرنے کی بجائے مرمت کروا کے کام چلا رہا ہےایک علاقے کا سو کے وی اے یا دو سو کے وی اے کا ٹرانسفارمر جب جل جائے تو اس کے بعد اس علاقے کا برا حال ہو جاتا ہے کیوں کہ بارہ سے 24 گھنٹے لگتے ہیں اس ٹرانسفارمر کو عارضی طور پر مرمت کرایا جائے ،اور نیا ٹرانسفارمر تو آتا ہی چیف لیسکو کی منظوری سے ہے اس میں پھر کتنا وقت لگے یہ کوئی نہیں بتاسکتا اس وقت سٹوروں میں نہ میٹر ہے نہ ٹرانسفارمر اور نہ ہی کیبل موجود ہے ۔

کیبل کا ایشو تو ایسا گھمبیر ہے کہ صارفین سے پیسے لینے کے باوجود عرصہ دراز سے انھیں تار نہیں دی جاتی اور ان سے صرف یہی کہا جاتا ہے کہ جائیں بازار سے لیکر آئیں توہم آکرنیا میٹر ٹانگ دیں گے۔ غرضیکہ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی اس وقت انتہائی بری صورتحال کا شکار ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ تمام اختیارات چیف ایگزیکٹیو لیسکو کو دئیےجائیں تاکہ وہ بروقت فیصلہ سازی کر سکیں اور ذمہ داری بھی سو فی صد انکی ہو گی اور چیف لیسکو چونکہ سرکاری ملازم ہوتے ہیں ان کا تیس سےچالیس سالہ اس محکمے کا نتجربہ ہوتا ہے اور انھیں احساس ہوتا ہے کہ نچلی سطح پر کیا مسائل ہیں ایس ڈی او لائن مین کو کیا چاہئے چیف لسیکو اپنی نوکری اور اسکے بعد ریٹائرمنٹ کا بھی دھیان رکھنا ہوتا ہے۔

لیسکو میں میٹر، کیبلز اور ٹرانسفارمرز کی قلت، صارفین رل گئے
چوہدری امین

لہذا وہ فیصلہ سازی میں تاخیر نہیں کرتے لیکن جب آپ تمام اختیارات بورڈز کو دیں گے جن کا یہاں کوئی سٹیک نہیں ہوتا وہ باہر سےزندگی گزار کے اپنے شوق کے لئے سرکاری اداروں کی کمپنیوں میں آتے ہیں جب ان کا انرجی لیول کم ہوتا ہے نہ ان کو فیلڈ میں کام کرنے کا تجربہ ہوتا ہے۔ان کو کیا پتہ زمینی حقائق کیا ہیں۔ وہ تو امیر لوگ ہوتے ہیں اوپر سے سلیکشن کروا کے بورڈز میںشامل ہوئے ہوتے ہیں ان کی بلا سے عوام جانیں اور لیسکو جانے ،یہی حال اس ایشو پر ہوا ہے ، لیسکو بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ،جو آئے لیکن بروقت فیصلے نہ کر پائے اور اب کئی ماہ بعد نئے سامان کی خریداری کا آرڈر دے رہے ہیں سامان آنے میں کتنا وقت لگے گا یہ بھی انکو پتا نہیں ہوتا۔تاہم اعلی افسران اس لئے خاموش رہتے ہیں کہ اگر انھوں نے جلد بازی کی تو بعد میں بورڈ ممبران ، ایف آئی اے یا نیب ان سے باز پرس کر ے گا اس لئے وہ پالیسی ایشوز پر چپ رہنے میں بہتری جانتے ہیں۔

لیسکو اس وقت شدید بدحالی کا شکار ہے کوئی نیا کنکشن لگوانا ہو یا سامان لینا ہو جب تک آپ چیف ایگزیکٹو رسائی نہیں لیں گے آپ کا کام جلد ہونے کی امید کم ہوتی ہے اور افسران تو ویسے ہی سامان کی کمی سے شدید چڑچڑے پن کا شکار ہیں وہ کہتے ہیں یہ محکمہ پہلے ہی مہنگی بجلی کی وجہ سے بدنام ہے لوگوں کو شکوہ ہے کہ بجلی آئے روز مہنگی کی جارہی ہے۔

کیا کوئی عام آدمی ایک اے سی چلا کر 20 سے 30 ہزار روپے میں ایک ماہ گزاراکر سکتا ہے بالکل بھی نہیں ایک اے سی کا بل ہی دس سے پندرہ ہزار روپے آئے گا وہ بچوں کو کہاں سے پالے گا افسران کہتے ہیں کہ جب سیاست دان پاور پالیسی بنا رہے ہوتے تو وہ عوام کا خیال کیوں نہیں رکھتے یہ وہی عوام ہوتے ہیں جو انھیں اپنے ووٹ کی طاقت سے پاور پالیسی بنانے کے قابل کرتے ہیں ایسے بجلی کے معاہدے کئے گئے کہ چند پیسے یونٹ والی بجلی آج بیس سے پچیس روپے فی یونٹ ریٹ کر دئیے ہیں اور ابھی بھی یہ کم ہونے والے نہیں آنے والے سالوں میں مزید بڑھیں گے عام آدمی مارا جائے گا چوری بڑھےنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ کوئی بھی بجلی چوری کو جرم نہیں سمجھتا بلکہ اسے نارمل لیتے ہیں گھر والے ہوں یا باہرکے لوگ کوئی بجلی چوری کی نشاندھی نہیں کرتا اسکی وجہ ہے کہ عام آدمی سمجھتا ہے کہ جو اپنے بچوں کا پیٹ نہیں پال سکتا وہ بجلی کا بل کیسے دے گا ۔

لہذااگر کوئی چوری کر رہا ہے تو دوسرے لوگ آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور اس بحث میں نہیں پڑتے کہ چوری کا بتائیں یا نہ بتائیں ،،لہذا حکومت کو چاہئے کہ بجلی سستی کرنے کی طرف توجہ دیں ،مہنگائی کم کریں بجلی گیس سستی کریں اور انصاف کا نظام لائیں اس سے نہ صرف عوام خوش ہوں گےا للہ بھی راضی ہو گا ان کو دنیا بھی ملے گی اور آخرت بھی ۔

اس حوالے سے موقف لینے کے لئے لیسکو حکام سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے تسلیم کیا کہ واقعی اس وقت میٹروں کیبلز اور ٹرانسفارمرز کی شدید قلت ہے یہ ایسا مسئلہ ہے جو کبھی بھی حل نہیں ہو سکاہے۔ ہر دور میں اس میں کمی بیشی رہی ہے تاہم موجودہ حکومت سے لوگوں کی زیادہ توقعات تھیں اور لوگ سمجھتے تھے کہ مسائل حل ہو جائیں گے اس لئے شور بھی زیادہ اٹھتا ہے انھوں نے بتایا کہ لیسکو نے نئے میٹروں کے آرڈرز دے د ئیے ہیں تھری فیز اور سنگل میٹر کی مکمل قلت تو ختم نہیں ہو گی تاہم کوشش ہے کہ کچھ تو کمی آجائے ،200 کے وی اے کے 1450 نئے ٹرانسفارمرز خریدنے کی منظوری بھی دیدی گئی ہے،جن کی مالیت 94 کروڑ روپے بتائی گئی ہے ،بورڈ نے اپریل میں اس کی منظوری دی تھی چند روز قبل کمپنی کو باقاعدہ مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے جس کو ٹینڈر ملا تھانئے ٹرانسفارمرز تین ماہ بعد جاری کئے جائیں گے۔

لیسکو سٹورزمیں ایک سال سے ٹرا نسفارمرز ختم ہو چکے ہیں،کیونکہ بورڈ آف ڈائریکٹرز گزشتہ سال موسم سرما کے دوران بروقت ٹرانسفارمرز خریدنے کے لئے ٹال مٹول سے کام لیتے ر ہے اور حالیہ موسم گرما اور حبس میں ٹرانسفارمرز کا سنگین بحران پیدا ہو گیا جس سے صارفین کو شدید پریشانی کا سامنا ہے ،لاہور میں لوڈشیڈنگ کی وجہ بھی یہی ہے کہ میٹریل فرسودہ ہو چکا ہے ہر وقت بجلی کا آنا جانا لگا رہتا ہے اگر کمپنی کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنا ہے میٹرزکی بروقت رسائی ممکن بنانا ہے تو سامان وافر خریدنا ہو گا اس حوالے سے تاخیر قومی جرم ہے ۔

کامرس سے مزید