• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سجاد علی

14 اگست کو گاڑی لے کر گھر سے نکلا تو کالونی کے سامنے والی مارکیٹ میں برگد کے درخت کے نیچے بیٹھا ایک موچی اکرم چاچا نے ایک بڑا سا بورڈ لگایا ہوا تھاجس پر درج تھا "14اگست کی خوشی میں جُوتے مفت مرمت کروائیں۔‘‘میں نے گاڑی ایک طرف کھڑی کی اور دیکھنے لگا کہ کوئی شخص اپنے جوتے پالش کرانے یا مرمت کرانے آئے گا تو چاچا پیسے لیں گے یا نہیں۔ چند منٹ بعد ایک شخص آیا، اُس نے جوتا مرمت کروا کے اکرم چاچا کو پیسے دیئے تو چاچا نے مسکراتے ہوئے اُس بورڈ کی طرف اشارہ کیا اور پیسے لینے سے انکار کردیا۔

میں یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا اور سوچ رہاتھا کہ وطن سے عشق کا یہ کیسا عالم ہے جو ہمیں ہماری ضرورتوں سے بھی بے نیاز کردیتا ہے۔میں بے اختیار گاڑی سے اُترا اور جا کر اکرم چاچا کے سامنے کھڑا ہوگیا۔۔اکرم چاچا نے نظر اُٹھا کر میری طرف دیکھا اور میں نے ادب سے جھک کر سلام کیا تو میری پیٹھ تھپکتے ہوئے چاچا بولے "پُتر سب سے پہلے تو سوہنے وطن کا جشن آزادی مبارک۔۔ اور اب حکم کر میرے لائق کوئی خدمت ہے تو"میں نے بے اختیار کہا "چاچا جی خیر مبارک اور مجھے گناہگار مت کریں یہ حکم والی بات کرکے، ویسے ہی آپ کو ملنے کا دل چاہا تو آگیا"میں نے تھڑے پر بچھی چٹائی پر بیٹھتے ہوئے بولا "چاچا ایک بات پوچھنی تھی اگر آپ ناراض نہ ہوں"وہ مسکرا کر بولے "بسم اللّہ پُتر ایک نہیں دس باتیں پُوچھ لے"میں نے اپنی بات شروع کرتے ہوئے کہا "چاچا میں بچپن سے دیکھتا آیا ہوں کہ آپ ہر جشن آزادی، 23مارچ، چھ ستمبر عید وغیرہ پر پورا دن جُوتے مفت مرمت کیوں کرتے ہیں۔ آج یہ سوال پوچھنے کی جرأت کررہاہوں ورنہ کب سے یہ پوچھنا چاہ رہاتھا"۔چاچا نے مسکرا کر کہا "پُتر میں پڑھا لکھا نہیں ہوں ورنہ بارڈر پر کھڑا ہو کر اپنے وطن کی حفاظت کرتا۔

میں موچی کا بیٹا ہوں بچپن سے شوق تھا وطن کی خدمت کرنے کا لیکن کُچھ بن نہیں پایا اور جب آج سے چالیس برس قبل یہاں اپنے والد کی جگہ سنبھالی تو سوچا چلو ایسے ہی سہی لیکن اپنے ہم وطن لوگوں کی کُچھ تو خدمت کر لوں"میں نے فوراً کہا "پر چاچا کافی لوگ سب کُچھ ہوتے ہوئے بھی پاکستان میں خامیاں ہی نکالتے رہتے ہیں اور آپ تو بمشکل اتنا کماتے ہیں جس سے دو وقت کی روٹی کمائی جاسکے پھر"چاچا نے میری بات مکمل سننے سے قبل حسب عادت مسکراتے ہوئے جواب دیا "پُتر وطن سے محبت ہونے کےلئے سب کچھ حاصل ہونا ضروری نہیں بلکہ غیرت کا ہونا ضروری ہے۔

میں سارا دن جُوتے مرمت کرتا ہوں لیکن آزاد ہوں، میری مٹی میری پہچان ہے، تو کیا یہ سب میرے لئے کم ہے؟".....اکرم چاچا نے گہرا سانس لیتے ہوئے آخر میں بہت خوبصورت بات کی "پُتر ضروری نہیں کہ یہ وطن پیسہ دے تو اس سے محبت ہو۔ میں جوتے مرمت کرنے والا بھی اس سے محبت کرتا ہوں اور اگر کوئی پاکستان میں رہ کر پاکستان کے وجود پر سوال اٹھاتا ہے تو یقیناً اُس کو جُوتے کھانے کی ضرورت ہے"۔