• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

14اگست کا دن پاکستان میں قومی تہوار کے طور پر بڑے دھوم دھام سے منایا جاتا ہے اس کے علاوہ پاکستانی جو بیرونِ ملکوں میں مقیم ہیں وہ بھی بہت جوش خروش سے اس دن کی تقریبات کا اہتمام کرتے ہیں ۔ 14گست کا دن مناتے تو بڑے جوش و خروش سے ہیں اور منانا بھی چاہیے، اپنے بچوں کو اور نئی نسلوں کو قربانیوں کی داستانیں سنانی چاہیں لیکن یوم آزادی صرف جشن منانے کا دن نہیں ہےبلکہ یہ دن ہمیں دو سبق دیتا ہے۔ایک تو یہ کہ آزادی کتنا بڑا تحفہ ہے اور دوسرا یہ کہ جب آزادی حاصل کر لی تو اس کے بعد اس حاصل شدہ ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کیا کیا گیا؟ 

کیونکہ کسی چیز کو حاصل کر لینا ہی کمال نہیں بلکہ اس کو ترقی کی راہوں پر گامزن رکھنا بھی کمال ہے۔ہماری قوم کے نوجوان قائداعظم کے اقوال اور ان کے نظریات سے محروم ہیں، نوجوانوں کے نزدیک آزادی کا دن صرف چھٹی اور سیر سپاٹے کے لئے ہے۔ 13اگست کی رات 12بجتے ہی ہوائی فائرنگ کرنے، باجے بجانے، ون ویلنگ کرنے، ہلڑ بازی کرنے اور ناچنے گانے میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ آزادی شور شرابے نہیں سنجیدگی کا تقاضا کرتی ہے کہ ہم نے اپنی آزادی کی حفاظت کس طرح کرنی ہے۔ 

ملک کو ترقی کی راہ پر کس طرح گامزن کرنا ہے۔ ہم نے ثابت کرنا ہے کہ ہم ہجوم نہیں ایک باشعور اور عظیم قوم ہیں‘ جسے اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہے۔ یہ ملک ہم سب کا ہے۔ ہم سب اس کے ذمہ دار ہیں، سب جواب دہ ہیں۔ ہم سب نے مل کر بھائی چارے ‘ اتحاد ‘ ایمان اور تنظیم کے ساتھ اپنے وطن کی آزادی کی حفاظت کرنی ہے۔ خصوصاً نوجوان اس وطن کا ہراول دستہ ہیں‘ انہیں اپنے رویے سے ثابت کرنا ہو گا کہ وہ ایک سنجیدہ اور باوقار قوم کے باشعور شہری ہیں۔نوجوان نسل کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اگر آج ہم آزاد ملک میں سانس لے رہے ہیں تو ان شہیدوں کی وجہ سے جنہوں نے اپنا کل ہمارے آج کے لئے قربان کیا تھا۔ پاکستان کی بنیادوں میں لاکھوں شہداء کا خون شامل ہے۔

قیام ِ پاکستان سے دورِ حاضر تک نوجوان نسل ہر طبقہ فکر کے لئے اہمیت کی حامل رہی ہے۔ قیامِ پاکستان کی جد وجہد کے دوران بھی علامہ اقبال، قائد اعظم اور دیگر رہنمائوں کے نزدیک سب سے بڑی قوت نوجوانانِ ملت ہی تھے۔آج کی نسل نو پاکستان سے محبّت تو ضرور کرتی ہے، یہ محبت تو ان کے خون اور گھٹّی میں شامل ہے لیکن محبّت کا وہ جنون اور عشق جو دیوانگی کی حد تک ہمیں اپنے سے پچھلی نسل میں نظر آتا تھا، آج مفقود ہے۔آزادی کا دن منانے کا اصل مزہ تو تب ہے جب آپ ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں , اپنے فرائض پوری ایمان داری سے پورے کریں نہ کہ باجے لےکر بجاتے پھریں - وہ بس یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے 14 اگست کو آزادی حاصل کی۔ کس سے حاصل کی، کیوں حاصل کی، اور کیسے حاصل کی ،ان بنیادی سوالات سے انھیں کوئی سروکار نہیں۔

قوموں کی زندگیوں میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں لیکن اس وقت اگرنسلِ نوکو کامیابیوں کی جانب سفر کرنا ہے تو حکام کو اپنے ملک کی اس 65 فیصد آبادی پر توجہ دینی ہو گی۔یوم آزادی کا سبق اور پیغام ہی یہ ہے کہ نوجوان قائداعظم کی اساسی تعلیمات اور آزادی کی روح کے مطابق پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔ اُنہیں اس ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے ان پر بھی کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں وہ کوئی خاص ذمہ داری نہیں انھیں صرف اپنی تعلیم اور اخلاق کو بہتر بنانا ہے ۔آج کا نوجوان طبقہ صرف سوشل میڈیا کا ہوکررہ گیا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہی ہم ساری جنگیں جیت جائیں گے ۔ اس یومِ آزادی پر تجدیدِ عہدِ وفا کیجے کہ "یہ وطن ہمارا ہے، ہم ہیں پاسباں اس کے"۔