• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کابل ایئرپورٹ پر دو خودکش دھماکے، فائرنگ، بچوں اور 12 امریکی فوجیوں سمیت72 ہلاک، طالبان محافظ بھی زخمی

کابل ایئرپورٹ پر دھماکے، 12 امریکی فوجیوں سمیت 72 ہلاک


کابل، واشنگٹن، برلن، ٹورنٹو،پیرس، لندن (جنگ نیوز، خبرایجنسیاں)کابل ایئرپورٹ پر 2خودکش دھماکے وفائرنگ،12امریکی فوجیوں سمیت 72ہلاک، 140زخمی،طالبان محافظ بھی شامل،پہلا دھماکا ایئرپورٹ کے مرکزی دروازے ایبے گیٹ، دوسرا بیرن ہوٹل کے قریب ہوا،دھماکوں کے بعد ہر طرف افرا تفری،لوگ پیاروں کو ڈھونڈتے رہے،دھماکوںکی ذمہ داری داعش نے قبول کرلی۔

بائیڈن کو حملے پر بریفنگ، جرمنی اور کینیڈا کا انخلاء آپریشن ختم، امریکا، فرانس و برطانیہ کا جاری رکھنے کا اعلان، طالبان نے دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئےکہاکہ جائے وقوعہ کی سکیورٹی امریکی افواج کے ہاتھ میں تھی۔

غیرملکی میڈیا کےمطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایئرپورٹ کے قریب یکے بعد دیگرے 2دھماکے اور فائرنگ ہوئی جس کے نتیجے میں 72افراد ہلاک اور140 سے زائد زخمی ہوئے،جاںبحق ہونے والو ں میں بچے خواتین اور 12 امریکی فوجی بھی شامل ہیں جب کہ دھماکے میں طالبان محافظ بھی زخمی ہوئے۔

امریکی جنرل میکنزی نے کہا ہے کہ کابل ائیرپورٹ پر 12 امریکی فوجیوں کی ہلاکت 20 سالہ افغان جنگ کے دوران ایک دن میں ہونے والا سب سے بڑا امریکی فوجی نقصان ہے۔ اطلاعات کے مطابق پہلا دھماکا کابل ایئرپورٹ کے مرکزی دروازے ’ایبے گیٹ‘ پر ہوا،دوسرا دھماکا گیٹ کے قریب واقع ’بیرن ہوٹل‘ کے پاس ہوا جسے مغربی ممالک انخلا کے آپریشن کے لیے استعمال کررہے تھے۔

امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون کے ترجمان جان کربی نے بھی دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ کابل ایئرپورٹ کے باہر ’ایبےگیٹ‘ پر دھماکاہوا ،جان کربی نے بیرن ہوٹل کے قریب ایک اور دھماکے کی بھی تصدیق کی، پنٹاگون کاکہناہےکہ حملے میں کئی امریکی اہلکار مارے گئے ہیں جبکہ دیگر کئی اہلکاروں کا علاج معالجہ کیاجارہا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل کینتھ میک کینزی نے کہا کہ کابل ایئرپورٹ پر داعش کے حملوں میں 12 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے باوجود کابل میں امریکی انخلاء آپریشن جاری رہے گا،ہم اپنے ترجیحی مشن کو جاری رکھیںگے ، جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ شہریوں کو افغانستان سے نکالنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ داعش ہمیں مشن کی تکمیل سے نہیں روک سکے گی۔ادھر افغان میڈیا کے مطابق طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تصدیق کی ہےکہ کابل ارپورٹ کے قریب 2 دھماکے ہوئے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کےمطابق ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ امارت اسلامیہ افغانستان کابل ایئرپورٹ پر دھماکے کی مذمت کرتی ہے، دھماکے کے مقام کی سکیورٹی امریکی افواج کے ہاتھ میں تھی، امارت اسلامیہ اپنے لوگوں کی حفاظت اور تحفظ پر بھر پور توجہ دے رہی ہے، شر پسند حلقوں کو سختی سے روکا جائے گا۔

ایک افغان صحافی نےبتایا ہےکہ دھماکے کے وقت ایئرپورٹ سے متصل نالے میں افغان شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی جو کہ وہاں اپنے کاغذات کی جانچ پڑتال کرانا چاہ رہے تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق اس دوران ایک خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جب کہ ایک اور حملہ آور نے فائرنگ شروع کردی۔ واضح رہےکہ گزشتہ روز امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا نے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئےکہاتھاکہ دہشت گرد حملے کا خدشہ ہے لہٰذا شہری کابل ایئرپورٹ سے دور رہیں۔

ادھر وائٹ ہائوس کے ایک عہدیدار کاکہناہےکہ امریکی صدر بائیڈن کودھماکوں کےحوالےسے بریفنگ دی جارہی ہے جس کے باعث انکی اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ طے شدہ ملاقات تاخیر کا شکار ہوگئی ہے جبکہ کئی دیگر پروگرامز ملتوی کردیئے گئے ہیں۔

ادھرجرمن چانسلر انگیلا مرکل نے کابل حملوں کو گھنائونا فعل قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی جبکہ جرمن وزیر دفاع آنی گغیٹ کغام- کارن بائور نے کہاہےکہ جرمنی نے کابل سے اپنی آخری پرواز کے ذریعے اپنے تمام فوجی نکال لئے ہیں جس کے بعد ہمارا اخلاء آپریشن ختم ہوگیاہے۔

کینیڈا نےبھی جمعرات کو کہا کہ اس نے افغانستان میں اپنے انخلاء کا آپریشن ختم کر دیا ہے ۔کینیڈا کی وزارت دفاع کے نمائندے لیفٹیننٹ جنرل وین ائیر نے ایک پریس کانفرنس میں بتایاکہ’’گزشتہ ایک روز سے ہمارا انخلاء کاآپریشن بند ہوگیاہے۔‘‘

ادھربرطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا کہ برطانیہ بم حملوں کے باوجوداپنے شہریوں اور افغانوں کو کابل سے نکالنے کے لیے آپریشن جاری رکھے گا،انہوں نے حملے کے بارے میں کہا کہ ہم اس کے لیے تیار ہیں،ہم اس آپریشن کو جاری رکھنے جا رہے ہیں۔فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ فرانس اب بھی افغانستان سے مزید سیکڑوں لوگوں کو نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ 

میکرون نے آئرلینڈ کے دورے کے موقع پر کہا کہ ہم فرانس کے افغان شہریوں اور دوہری شہریت رکھنے والوں (جو فرانس کے سفارت خانے میں ہیں اور اس وقت ہوائی اڈے کے دائرے سے باہر20بسوں میں موجود ہیں ) کولانے کے لیےہر ممکن کوشش کریں گے۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے کہا کہ اتحادی افواج کو زیادہ سے زیادہ افراد کا انخلاء جاری رکھنا چاہیے۔کابل ایئر پورٹ پر دھماکوں کے باوجود انہوں نے کہاکہ ہماری ترجیح یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جلد سے جلد محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے۔

اسپین کے وزیر اعظم پیدرو سانچیز نےکابل ایئرپورٹ کے باہر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ میڈرڈ افغانستان سے ’’زیادہ سے زیادہ لوگوں کو نکالنے‘‘ کے لیے کام کر رہا ہے۔

تازہ ترین