• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج سے تین سال پہلے میں جب برطانیہ سے پاکستان آیا تو دوماہ کے قریب جمخانہ کلب میں رہا۔واپس یوکے گیا مگر دوہفتوں بعد مجھے پھر پاکستان آنا پڑا تو میرے دوست شعیب بن عزیزمجھے زبردستی اپنے گھر لے گئے کہ اب تم نے جمخانہ میں پیسے برباد نہیں کرنے ۔پھر میں ایک لمبا عرصہ ان کے گھر میں مقیم رہا ۔ان کا گھر شاہکام چوک کے قریب تھا ۔صبح ان کے گھر سے شہر جانےمیں تقریباً پینتالیس منٹ لگ جاتے تھے۔ شام کے وقت ایک گھنٹہ یا سوا گھنٹہ تو معمول کی بات تھی ۔ہاں اگر شاہکام چوک پر ٹریفک جام ہوتا تھا تو دو اڑھائی گھنٹے لگ جانا کوئی بڑی بات نہیں تھی ۔ کئی دفعہ کار سڑک پرکھڑ ی کر کے میں پیدل گھر پہنچ جاتا اور شعیب صاحب کے ڈرائیور کو بھیج دیتا تھا کہ جب ٹریفک کھلے تو میری کار گھر لے آنا۔ان دنوں شعیب صاحب بڑے افسر تھے ، حکومت میں بھی ان کا خاصا عمل دخل تھا مگرہزار کوشش کے باوجود شاہکام چوک کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔وہ چوک اردگرد رہنے والوں کےلئے عذاب ِجاں بنا رہا۔شاہکام چوک نے اتنا خوار کیاکہ میں نے ایک دن شعیب صاحب کوبتائے بغیر اپنی رہائش بدلی اور پنجاب یونیورسٹی کے ایگزیکٹو کلب میں رہنے لگا۔شعیب صاحب نے بھی چند روز بعد اپنا مکان فروخت کرکے کلمہ چوک کے پاس ایک مکان خرید لیا۔

کل جب وزیر اعلیٰ عثمان بزدار شاہکام فلائی اوور کاسنگ بنیاد رکھ رہے تھے تو میں سوچ رہا تھا کہ اگر شعیب بن عزیز اپنامکان فروخت نہ کرتے تو اس فلائی اور کی تعمیر کے بعد اس کی قیمت میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ۔بہر حال شاہکام چوک کے اردگرد رہنے والوں کےلئے یہ کام کسی احسان ِعظیم سے کم نہیں ۔یہ فلائی اوور 4ارب 23کروڑ روپے کی لاگت سے بن رہا ہے۔یہ 606میٹر طویل اور تین رویہ ہوگا ۔اس کےدو طرفہ فلائی اوور ہوگا اور یہ 10 ماہ میں مکمل ہوگا-وزیر اعلیٰ نے اپنی گفتگو میں کہا کہ سمن آباد چوک انڈر پاس کا بھی کام شروع ہونے والا ہے ایک موریہ پل کے قریب تین پارکنگ پلازے بنائے جا رہے ہیں۔عوام کو سستے رہائشی گھر دینےکے منصوبے کابھی آغاز ہوچکا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے شاہی قلعہ کی بحالی کا بھی اعلان کیا۔ ایجوکیشن کے حوالے سے بھی پنجاب حکومت بہت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔ پنجاب ایجوکیشن کنونشن میں وزیر اعلیٰ عثمان بزدارنے اپنی تقریر میں بتایا کہ صرف 6ماہ کے اندر پنجاب حکومت 10لاکھ بچوں کو اسکول لے آئی۔ قلیل مدت میں 10لاکھ بچوں کا داخلہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اہم ترین کام جو اس حکومت کے سر جاتا ہے وہ ملتان میں پہلے ٹرانس جینڈر اسکول کا قیام ہے۔ یہ ایک انتہائی اہم منصوبہ ہے جو انکلوسیو سوسائٹیز کے قیام کیلئے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

ماضی کی حکومت جو اپنے کام کا شور مچانے میں نمبر ون تھی اس نے 5برسوں میں 1330 سکول اپ گریڈ کئے اور اس حکومت میں صرف تین سال میں ڈیڑھ ہزار سے زائد اسکول اپ گریڈ ہوچکے ہیں۔ رواں مالی سال میں مزید 7ہزار اسکولوں کی اپ گریڈیشن ہوگی اور مجموعی طور پر 27ہزار اسکول اپ گریڈ کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ انصاف اکیڈمی کا قیام اور تعلیم سے متعلقہ دیگر سہولیات کا ای گورننس پر منتقل ہونا جس سے پرموشن اور تبادلوں میں سفارش اور کرپشن کا خاتمہ ہوا، ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔

اسی طرح رکھ جھوک میں جنگل کے تحفظ و توسیع کا شاندار منصوبہ 24ہزار کنال پر مشتمل ہے جہاں ایک کروڑ درخت لگائے جارہے ہیں۔ یہ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا منصوبہ ہے جو آب و ہوا کو ماحول دوست بنانے میں خصوصی کردار ادا کرے گا۔ اس سلسلے میں حکومت نے ہواوے کے ساتھ شراکت داری بھی کی ہے۔

صحت کے شعبے میں ریسکیو ائیر ایمبولینس کا آغازبہت بڑی بات ہے۔ پنجاب کے دور دراز علاقوں سے ایمرجنسی کی صورت میں قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے یہ ایسا منصوبہ ہے جو اب تک عمومی طور پر دنیا کے امیر ترین اور ترقی یافتہ ممالک میں ہی میسر ہے۔ اس کے علاوہ جناح اسپتال اور سروسز اسپتال میں جدید طرز کے ایمرجنسی ٹاورز بنانے کی بھی اصولی منظوری دی گئی ہے اور سردار صاحب نے پنجاب کے مدر اینڈ چائلڈ اسپتالوں پر کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔

پچھلے کچھ دنوں میں عورتوں کے خلاف مظالم کی لاتعداد شکایات سامنے آئیں ، کچھ عجیب وغریب واقعات بھی پیش آئے۔ ایسے ہولناک واقعات جومعاشرے کی جنسی گھٹن کا چہرہ بے نقاب کرگئے۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ وکٹم بلیمنگ کا سلسلہ شروع کردیا گیا ۔یہ انتہائی افسوسناک ہے۔ لیکن اس بات کی خوشی بھی ہوئی ان واقعات کے بعد عوام کی ایک اجتماعی سوچ سامنے آئی ہے جس میں یک زباں ہو کر غلط کو غلط کہا گیا، معاشرے کے اگر کسی طبقے کی جانب سے وکٹم بلیمنگ ہوئی تو اسی معاشرے کا ایک بڑا حصہ مظلوم کیلئے یک زبان ہوا اور متاثرہ خاتون کو انصاف دلانے اور ظالموں کو سزا دلوانے کیلئے متحرک نظر آیامگرمیڈیا کے شور مچانے پر ایف آئی آر میں جو دفعات لگائی گئی ہیں وہ قابلِ بحث ہیں ۔

افراط و تفریط معاشروں کو تباہ کر دیتے ہیں۔ پھر مینار پاکستان اور چودہ اگست کو اس واقعہ کے ساتھ جوڑ دینا بھی ایک تکلیف دہ عمل ہے ۔یہ واقعہ کسی اور تہوار پر کسی اور جگہ پر بھی ہو سکتا تھا۔ توجہ اِس معاشرتی جنسی گھٹن کے خاتمے پر زیادہ ہونی چاہئے جو کہیں غیرت کے نام پر اور کہیں عورت کی آزادی کی مخالفت میں ابھر کر سامنے آجاتی ہے ۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین