• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پی ٹی آئی حکومت کے تین سال، بڑے وعدے، بڑی ناکامیاں!

اسلام آباد (انصار عباسی) اپنی حکمرانی کے تین سال بعد عمران خان حکومت وہ کچھ حاصل کرنے میں ناکام ہوگئی ہے جس کے وعدے اس نے 2018ء کے انتخابی منشور میں کیے تھے۔

خصوصاً گورننس، بلدیاتی حکومتوں، احتساب، اصلاحات، معیشت، توانائی، ہائوسنگ، ملازمتوں وغیرہ کے وعدے۔ عمران خان کی حکومت کے تین سال کا جائزہ لیں تو نظر آتا ہے کہ پارٹی کے منشور کو بڑے پیمانے پر نظر انداز کیا گیا ہے یا پھر اس پر سمجھوتا کر لیا گیا ہے۔ 

بلدیاتی حکومتوں کے معاملے پر منشور میں پی ٹی آئی نے وعدہ کیا تھا کہ نچلی سطح پر لوگوں کو بلدیاتی حکومتوں کے ذریعے مضبوط کیا جائے گا۔ وعدہ کیا گیا تھا کہ پاکستان میں اختیارات اور فیصلہ سازی کا اختیار نچلی سطح پر عوام کو منتقل کیا جائے گا اور اس کیلئے با اختیار بلدیاتی حکومتیں لائی جائیں گی لیکن تین سال بعد یہ وعدہ اب تک وفا نہیں ہوا۔ 

دعویٰ کیا گیا تھا کہ ملک کے چھوٹے شہروں اور دیہات میں ترقیاتی کام کاج کا کنٹرول ارکان صوبائی و قومی اسمبلی کے پاس ہے یا پھر بیوروکریسی کے پاس جو اپنا اختیار چھوڑنا نہیں چاہتے۔ صورتحال آج بھی ویسی ہے۔ 

وعدہ کیا گیا تھا کہ ہم انفرا اسٹرکچر کے چھوٹے اقدامات دیہی کونسلز تک پہنچائیں گے اور اس کیلئے وسائل اور فیصلہ سازی کا اختیار عوام کو منتقل کیا جائے گا اور اس مقصد کیلئے سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں خیبرپختونخوا کے کامیاب ماڈل کا سہارا لیا جائے گا۔ 

احتساب کے معاملے پر منشور میں وعدہ کیا گیا تھا کہ حکومت کے مرکز تک احتساب کیا جائے گا۔ یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ نیب اور احتساب کے دیگر اداروں کو مکمل طور پر با اختیار بنا کر ان کی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے گا اور سیاسی وابستگی کے بالاتر ہو کر کرپشن کے بڑے اسکینڈلز کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ یہ وعدہ بھی کیا گیا تھا کہ نیب آرڈیننس کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ اس کے مینڈیٹ، آزادی اور نیب چیئرمین کے تقرر کے طریقہ کار کو بھی بہتر بنایا جا سکے۔ 

یہ وعدہ بھی کیا گیا تھا کہ رضاکارانہ طور پر لوٹی گئی دولت کی واپسی اور پلی بارگین کے حوالے سے قانون میں موجود ابہام کو بھی دور کیا جائے گا۔ منشور میں کہا گیا تھا کہ لوٹی ہوئی قومی دولت واپس لانے کیلئے اسپیشل ٹاسک فورس تشکیل دی جائے گی جو آف شور اکائونٹس سے پیسہ واپس لائے گی۔ تین سال میں نیب کا قانون تبدیل کیا گیا اور نہ قانون میں ابہام دور کیے گئے۔ 

لوٹی ہوئی دولت واپس آئی اور شہزاد اکبر کی قیادت میں بنائی گئی ٹاسک فورس بھی بے سود ثابت ہوئی۔ پولیس کو سیاست سے پاک کرنے کے حوالے سے منشور میں کہا گیا تھا کہ کے پی کے کامیاب ماڈل پر عمل کرتے ہوئے پولیس کے محکمے کو سیاست سے پاک کیا جائے گا۔ 

ملک میں پولیس کے پاس ضروری ساز و سامان ہے اور نہ تربیت۔ ادارہ جڑوں تک کرپٹ ہے، یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے پولیس میں اصلاحات نہیں کیں بلکہ اسے سیاسی آلے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ آج دیکھیں تو پولیس کا حال وہی ہے۔ پولیس والوں کے قبل از وقت تبادلے معمول بن چکے ہیں۔ 

وزیراعظم نے اصلاحات کیلئے کے پی کے سابق آئی جی پولیس ناصر درانی کو لگایا تھا لیکن وہ بھی آئی جی پنجاب کے قبل از وقت تبادلے پر احتجاجاً مستعفی ہوگئے۔ فوجداری نظام انصاف کے حوالے سے دیکھیں تو پی ٹی آئی کے دور میں کوئی بڑی اصلاحات متعارف نہیں کرائی گئیں۔ 

سول سروسز میں اصلاحات کے معاملے میں دیکھیں تو منشور میں میرٹ کی بنیاد پر اور سیاست سے پاک پیشہ ور افراد پر مشتمل کیڈر بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ جیسا کام ویسا افسر کی پالیسی اختیار کی جائے گی، افسران کو ان کے عہدے کے معیاد میں تحفظ حاصل ہوگا، داخلی سطح پر احتساب ہوگا، کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا اور مشاہرے کے پیکیج کا جائزہ لیا جائے گا۔ 

آج تین سال بعد دیکھیں تو مرکز اور پنجاب میں سرکاری ملازمین کی حالت بدتر ہے جنہیں ہفتوں اور مہینوں میں تبدیل کر دیا جاتا ہے اور عہدے کے معیاد کا کوئی تحفظ نہیں، کوئی کیریئر پلاننگ بھی نہیں۔ 

حکومت کے اپنے ہی تشکیل دیے گئے شوگر اینڈ گندم اسکینڈل کی تحقیقات کے کمیشن نے اعتراف کیا کہ پنجاب میں میرٹ نہیں بلکہ سیاسی بنیادوں پر بیوروکریسی میں تبادلے کیے جا رہے ہیں۔ 

ای گورننس کے معاملے میں منشور میں وعدہ کیا گیا تھا کہ پبلک ایڈمنسٹریشن کے شعبے میں ای گورننس متعارف کرائی جائے گی تاکہ شہریوں کو سہولت ملے اور انہیں انصاف، حقوق اور دیگر سرکاری سہولتوں میں مشکلات پیش نہ آئیں۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ ملک کے گورننس سسٹم میں کئی خامیاں ہیں جیسا کہ غیر موثر ڈیٹا کلیکشن سسٹم، ریکارڈ کیپنگ میں خرابیاں، مختلف محکموں کے درمیان خراب رابطہ کاری، سیاہ معیشت، ٹیکس چوری اور عوامی مسائل کے حل میں بیوروکریسی کی سطح پر حائل رکاوٹیں معمول ہیں۔ 

منشور میں وعدہ کیا گیا تھا کہ مشکوک رویے کی روک تھام کیلئے وسل بلوئر پروگرام متعارف کرایا جائے گا جس میں خفیہ معلومات فراہم کرنے والے کی شناخت صیغہ راز میں رکھی جائے گی۔ 

یہ وعدہ بھی کیا گیا تھا کہ جائیدادوں کی الیکٹرانک میپنگ کی جائے گی اور اسے مالک کے شناختی کارڈ کے ساتھ جوڑ دیا جائے گا اور اس کے بعد اس کے وارثوں کے ناموں کے ساتھ۔ یہاں بھی حکومت نے کوئی بڑا کام نہیں کیا اور ای گورننس خواب ہی معلوم ہوتا ہے۔ 

میڈیا کی آزادی کے حوالے سے پریس کی آزادی کا وعدہ کیا گیا تھا کہ پارٹی آزاد میڈیا پر یقین رکھتی ہے جو اپنے ہی قواعد و ضوابط خود ارتقائی عمل سے گزارے گا اور ذمہ دار صحافت پر عمل کرے گا۔ تین سال کے دوران ملک میں آزادی صحافت پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ 

کئی صحافیوں کو اغوا کیا گیا، کئی کی پٹائی کی گئی، کچھ کو ان کی ملازمت سے فارغ کرایا گیا۔ منشور میں کیے گئے وعدے کے برعکس، پارٹی میڈیا کیلئے ایسا قانون لا رہی ہے جس سے صحافیوں کی کئی تنظیمیں متفق نہیں۔ یہ وعدہ بھی کیا گیا تھا کہ پی بی سی اور پی ٹی وی خود مختار ادارے ہوں گے اور ان کا اپنا بورڈ آف گورنرز ہوگا جیسے بی بی سی کا ہے۔ یہ بھی نہیں کیا گیا۔ 

کراچی میں اصلاحات لانے کے حوالے سے پارٹی نے وعدہ کیا تھا کہ شہر کو متحرک اور مسابقتی میگا سٹی بنایا جائے گا اور بڑے پیمانے پر طرز حکمرانی کی سطح پر تبدیلیاں کی جائیں گی، ہائوسنگ، ماس ٹرانزٹ، پانی و سیوریج جیسی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ 

تین سال کے دوران حکومت بس وعدے دہرا رہی ہے اور بڑے منصوبوں کا اعلان کر رہی ہے لیکن شہریوں کے مسائل اب بھی وہی ہیں کیونکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ناکام ہو چکی ہیں۔ 

ایف بی آر میں اصلاحات لانے کے حوالے سے منشور میں کہا گیا تھا کہ ٹیکس نیٹ میں اضافہ کریں گے، متحرک ٹیکس پالیسی لائیں گے، موثر ٹیکس ایڈمنسٹریشن ہوگی، ڈھانچہ بہتر ہوگا، موثر انفورسمنٹ میکنزم لایا جائے گا۔ 

یہ وعدہ بھی کیا گیا تھا کہ ایف بی آر کو خود مختار بنایا جائے گا، وزارت خزانہ کا اس پر اثر کم کیا جائے گا۔ اس کے برعکس، ایف بی آر زیادہ سیاست زدہ ہوگیا، سات چیئرمین تبدیل کیے گئے، ریونیو جمع کرنے کا عمل بھی مایوس کن ہے اور یہ سب پی ٹی آئی حکومت کے تین سال میں ہوا ہے۔ 

ایک کروڑ ملازمتوں کے معاملے میں لیبر مارکیٹ کو بہتر بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا اور پانچ سال میں خصوصاً ایس ایم ای، ہائوسنگ، آئی سی ٹی، ہیلتھ، ایجوکیشن، گرین اکانومی اور ٹورزم کے شعبے میں ایک کروڑ ملازمتیں تخلیق کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ 

ملازمتیں تخلیق کرنے کی بجائے تین سال میں لاکھوں لوگ بے روزگار ہوگئے۔ صورتحال کورونا وائرس کی وجہ سے مزید بدتر ہوگئی۔ کم لاگت کے حامل پچاس لاکھ گھروں کے وعدے کے معاملے میں کہا گیا تھا کہ شہروں میں پندرہ سے بیس لاکھ جبکہ دیہی علاقوں میں تیس سے پینتیس لاکھ گھر تعمیر کیے جائیں گے۔ 

ملک میں اس وقت ایک کروڑ دس لاکھ سے لیکر ایک کروڑ بیس لاکھ گھروں کی ضرورت ہے جبکہ شہروں میں گھروں کی ضرورت چالیس لاکھ یونٹس کی ہے اور دیہی علاقوں میں ستر سے اسی لاکھ گھروں کی۔ لیکن تین سال گزرنے کے باوجود جو وعدہ کیا گیا ہے اس کا بیسواں حصہ بھی وفا نہیں ہوا۔ 

توانائی کے مسائل سے نمٹنے کے معاملے میں پی ٹی آئی حکومت نے منشور میں وعدہ کیا تھا کہ پاکستان میں توانائی کے مسائل حل کیے جائیں گے لیکن تین سال میں یہ شعبہ بھی بدتر ہوگیا ہے۔ 

منشور میں گردشی قرضوں کا مسئلہ ٹرانسمشن اور ڈسٹری بیوشن کے نقصانات کم کرکے حل کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا اور ساتھ ہی قدرتی وسائل کے ذریعے ماحول دوست بجلی پیدا کرنے کے و عدے کیے گئے تھے۔ 

تاہم، اب گردشی (جو پہلے ایک ٹریلین کے قریب تھے) 2.2؍ ٹریلین تک جا پہنچے ہیں جبکہ بجلی بھی اُن نرخوں سے بہت زیادہ مہنگی ہوگئی ہے جو تین سال قبل تھے۔

تازہ ترین