اخوت کے چیئرمین اور علمی و ادبی شخصیت ڈاکٹر امجد ثاقب نے نجم الثاقب کی کتاب ’’دوسری طرف سفر‘‘ کی تقریب رونمائی کے اہتمام کا ذکر کیا تو میں نے کہا میں اس میں ضرور شرکت کروں گا کیونکہ لوگوں کی زندگی پر ستارے اثرانداز ہوتے ہیں، میری زندگی پر نجم الثاقب اثرانداز ہوئے ہیں۔
یہ کوئی 31برس پہلے کی بات ہے، میں عطاء الحق قاسمی اور امجد اسلام امجد لاہور سے اسلام آباد گئے، برطانیہ کا ویزا لگوانے کے لئے۔ اسلام آباد ایچ ای سی کے ریسٹ ہائوس میں پروفیسر پری شان خٹک نے ہماری بکنگ کرا رکھی تھی۔ عطاء الحق قاسمی اور امجد اسلام امجد نے مجھے بتایا کہ صبح چار بجے اٹھ کر یوکے ایمبیسی جانا پڑے گا۔ دیر ہو جائے تو پھر اُس دن باری نہیں آتی۔ خیر دوسری صبح جب میں دس بجے جاگا تو امجد اور عطا دونوں موجود نہیں تھے۔ سہ پہر کہیں ویزے لگوا کر واپس آئے اور مجھے بتایا کہ ہم نے تمہیں جگانے کی بہت کوشش کی مگر تم نہیں جاگے۔ اب کل صبح چار بجے اٹھ کر جانا ہے اور ویزہ اپلائی کرنا۔ اگلی صبح پھر میری آنکھ نو بجے کھلی، میں نے دیکھا امجد صاحب اور عطا صاحب ناشتہ کر رہے ہیں۔ مجھے دیکھ کر طنزاً ہنسے اور کہا ’’لگتا ہے تم خوابِ خرگوش میں ہی انگلینڈ سے ہو آئے ہو‘‘۔ مجھے بہت غصہ آیا۔ میں نے سوچا کہ چلو ایمبیسی جا کر دیکھتا ہوں۔ پھر سوچا کسی دوست سے بات کرکے دیکھوں۔ ذہن میں نجم الثاقب کا نام آیا انہیں فون ملایا اور امجد صاحب اور عطا صاحب کا گلہ کیا کہ اُنہوں نے اپنے ویزے لگوا لئے ہیں اور مجھے سوتے ہوئے جگایاتک نہیں، خیر نجم الثاقب صاحب نے کہا کہ تم ایمبیسی جانے سے پہلے میرے پاس آجائو، میں نے ٹیکسی پکڑی اور فارن آفس پہنچ گیا۔ ریسپشن پر گیا، انہوں نے نجم الثاقب صاحب کو فون ملایا تو انہوں نے کہا کہ اسے وہیں بیٹھا دو، میں آرہا ہوں۔ میں وہیں بیٹھ گیا تھوڑی دیر بعد نجم الثاقب آئے اور مجھ سے کہا، ’’اپنا پاسپورٹ مجھے دو‘‘۔ میں نے پاسپورٹ انہیں دے دیا۔ وہ لے کر چلے گئے، میں وہیں ریسپشن پر بیٹھا رہا۔ بیس پچیس منٹ کے بعد واپس آئے۔ میرا پاسپورٹ مجھے دیا اور اس کے ساتھ بند لفافہ اور کہا ’’اب تم ایمبیسی چلے جائو‘‘۔ میں فارن آفس سے نکلا تو بہت افسردہ تھا کہ نجم الثاقب نے اچھا سلوک نہیں کیا۔ چائے تک نہیں پلائی۔ اپنے دفتر تک نہیں لے گیا۔ خیر جب میں ایمبیسی پہنچا تو بہت طویل قطار تھی جو ایک کھڑکی پر آکر ختم ہو رہی تھی۔ ساتھ والی کھڑکی کے پیچھے بھی ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا مگر اس کے سامنے لوگ نہیں تھے۔ میں اُس کھڑکی کے سامنے جا کر کھڑا ہوا تو اندر بیٹھے ہوئے شخص نے مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھا کہ میں نے اپنا ایک صفحے کا ویزا فارم، ایک دعوت نامہ اور وہ لفافہ اس کی طرف بڑھا دیا۔ اس نے دعوت نامہ اور فارم کو اسٹیپلر سے جوڑا اور کہا ’’آپ ادھر سے آجائیں‘‘۔ میں اس کے ساتھ چلنے لگا۔ ہم ایک جگہ پہنچے جہاں قطار ایک کھڑکی پر جاکر ختم ہورہی تھی۔ ایک آدمی کھڑکی کے سامنے کھڑا تھا، کھڑکی کے اُس طرف گوری بیٹھی ہوئی تھی۔ مجھے یہاں لانے والے نے کہا کہ یہ آدمی یہاں سے ہٹے گاتو آپ کی باری ہوگی۔ ابھی یہ جملہ اس کے منہ میں ہی تھا کہ اس آدمی نے کھڑکی چھوڑ دی اور میں کھڑکی پر پہنچ گیا۔ اُس گوری نے میرا فارم اور دعوت نامہ ہوا میں لہرائے اور کہا ’’بینک اسٹیٹمنٹ؟‘‘۔ میں نے سن لیا تھا، اس کے باوجود گوری کے ساتھ براجمان پاکستانی سے پوچھا کہ ’’کیا کہتی ہے؟‘‘ وہ بولا بینک اسٹیٹمنٹ کا پوچھ رہی ہے‘‘ ۔میں نے ہنس کر کہا ’’اسے بتائو میں نے زندگی میں اتنے پیسے کبھی نہیں کمائے کہ اکاؤنٹ کھلوا سکوں‘‘۔ گوری شاید اردو سمجھتی تھی۔ میرا جملہ سنتے ہی اس کا ہاتھ تیزی کے ساتھ اس لفافے کی طرف بڑھا جو نجم الثاقب نے مجھے دیا تھا۔ اس نے اسے کھولا اور کہا ’’ٹی وی پلے رائٹر‘‘۔ اور پھر ترجمان سے کہا ’’کہہ دو کہ ہم آپ کو ویزہ دے رہے ہیں‘‘۔ اور پھر آدھے گھنٹے کے اندر وہ پاسپورٹ میرے ہاتھ میں تھا جس پر برطانیہ کا ویزا لگا ہوا تھا۔ میں تقریباً ساڑھے گیارہ بجے واپس ریسٹ ہائوس پہنچا تو عطا صاحب اور امجد صاحب موجود تھے۔ عطا صاحب نے ہنس کر کہا ’’لائن کی طوالت دیکھ کر واپس آگئے ہو‘‘۔ میں نے انہیں پاسپورٹ پر لگا ہوا ویزہ دکھایا اور عطا صاحب بےیقینی سے اسے دیکھتے رہے۔اس کے بعد سن 2000تک میں سات مرتبہ برطانیہ گیا اور ایک مرتبہ بھی خود ویزہ لگوانے ایمبیسی نہیں گیا، مجھے نجم الثاقب کے دیے ہوئے خط سے پاکستانی فارن آفس کی طاقت کا اندازہ ہو گیا تھا۔ سو میں نے پاسپورٹ فارن آفس کے چیف پروٹوکول آفسر کو ہی بھجوایا۔ بہر حال یہ طے شدہ بات ہے کہ اگر نجم الثاقب نے اس دن مجھے برٹش ہائی کمیشن کے لئے Verbale Noteنہ دیا ہوتا تو یہ بات طے شدہ ہے کہ میں برطانیہ مشاعرہ پڑھنے نہ گیا ہوتا۔ مجھے باہر کی ہوا نہ لگتی، میں ابھی تک میانوالی میں ہی رہ رہا ہوتا۔
یہ تقریب گورنر ہائوس لاہور کے دربار ہال میں ہوئی، گورنر پنجاب چوہدری سرور تقریب کے صدر بھی تھے اور میزبان بھی۔ بہرحال اخوت کے زیر اہتمام یہ تقریب کئی حوالوں سے میرے لئے یادگار تقریب تھی۔ مجھے اس بات کی بھی بہت خوشی ہے کہ جس طرح ڈاکٹر امجد ثاقب کا دل غریبوں کے لئے دھڑکتا ہے، اسی طرح ادیبوں اور شاعروں کےلئے بھی ان کے قلب و جاں میں بڑی جگہ ہے۔ انہوں نے مجلس ترقی ادب کے ساتھ یہ معاہدہ کیا کہ غریب قلمکاروں کو گھروں کی تعمیر کے لئے مجلس کے توسط سےوہ 20لاکھ تک بغیر سود قرض دیں گے اور ایسے قلمکار جو اپنی کتابیں نہیں چھپوا سکتے ان کے لئے ایک لاکھ روپے تک قرضہ حسنہ دیا جائے گا۔ انہوں نے مجلس ترقی ادب کے فکشن ایوارڈ کےلئے بھی 5لاکھ روپے کا اعلان کیا۔ شاعری کے ایوارڈز کے لئے سیالکوٹ چیمبر آف کامرس کے صدر قیصر بریار 10لاکھ روپے کا اعلان کر چکے ہیں۔ ادب کی ترویج میں دل کھول کر حصہ لینے پر میں اہلِ دل کا مشکور ہوں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا بھی شکریہ کہ وہ ستمبر کے آخری ہفتے میں مجلس ترقی ادب کی نئی بلڈنگ کا سنگ بنیاد رکھ رہے ہیں۔