• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا کے نوے فیصد طالب علموں کی تعلیمی سرگرمیاں کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے متاثر ہوئی ہیں۔ اِن 90 فیصد میں بھی 75 فیصد ایسے ہیں جن کے تعلیمی سفر میں شدید رکاوٹیں حائل ہو چکی ہیں اور بہتر تعلیم حاصل کرنے کے بیشتر مواقع اُن کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں۔ پھر وہ طالب علم جو ابھی اپنی گریجوایشن کر رہے ہیں وہ بھی اِن خدشات کا شکار ہیں کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد پتا نہیں وہ نوکری حاصل کر پائیں گے یا نہیں کیونکہ معیشت کا پہیہ بھی اُس طرح نہیں چل رہا جس طرح کورونا وبا پھیلنے سے پہلے چل رہا تھا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق جو تعلیمی سفر میں کورونا کی وجہ سے متاثر ہوا ہے اُس نقصان کو پورا کرنے کے لئے تین سے چار سال لگ جائیں گے۔ یہ مسئلہ صرف بڑی جماعتوں کا نہیں ہے بلکہ چھوٹی جماعتوں کا بھی ہے۔ پچھلے دِنوں ایک اسٹڈی آئی تھی کہ چونکہ اب زیادہ تر لوگوں نے ماسک پہنے ہوتے ہیں اِس لئے چھوٹے بچے گفتگو کے دوران اُن کے ہونٹوں کو نہیں دیکھ سکتے جس کی وجہ اُنہیں زبان سیکھنے اور بولنے میں دشواری ہوتی ہے۔ اِس لئے چاہے کوئی پرائمری کا بچہ ہو یا یونیورسٹی جانے والا طالب علم، سب ہی اِس وبا کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں اور پاکستان میں تو شاید زیادہ ہی متاثر ہوئے ہیں۔

پاکستان میں آن لائن تدریس کا نظام اور معیار زیادہ تر خراب ہی رہا ہے۔ اِس میں طالب علموں کی بھی غلطی ہو گی لیکن اساتذہ کی عدم دلچسپی ، ٹیکنالوجی اور انٹر نیٹ کا اپنی جگہ مسئلہ رہا ہے۔ میں پچھلے دِنوں پاکستان کی ایک بہترین یونیورسٹی، جو کہ لاہور میں واقع ہے، کے کچھ طالب علموں سے ملا۔ کچھ انجینئرنگ کر رہے تھے اور کچھ فنانس پڑھ رہے تھے، ایک دو قانون کے طالب علم بھی تھے۔ سب کا یہی کہنا تھا کہ اگر سچ پوچھیں تو پچھلے ڈیڑھ سال میں ہم نے کچھ بھی نہیں سیکھا۔ بہت بھی سیکھا ہو تو 10فیصد سیکھا ہو گا لیکن اِس سے زیادہ قطعاً نہیں۔ آن لائن پڑھائی کا نظام بھی ٹھیک نہیں، کچھ ہم نے بھی دلچسپی نہیں لی۔ اب جبکہ وہ گریجوایٹ ہونے والے ہیں تو پریشان ہیں کہ آگے کیا ہو گا، اُنہوں نے آگے کیا کرنا ہے۔ امتحانات بھی اُس معیار کے نہیں ہیں اِس لئے ہم پاس بھی آسانی سے ہو جاتے ہیں، جہاں امتحانات مشکل ہیں وہاں خوب نقل چلتی ہے۔ اِس لئے غیر سنجیدگی ہی چلتی رہتی ہے۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ آن لائن کلاس چھوٹے بچوں کے لئے آسان کام نہیں ہے اور اِس طرح وہ سماجی میل جول بھی نہیں کر پاتے۔

یہ ایک بہت بڑا نقصان ہونے جا رہا ہے جس کی نوعیت کو ہم ابھی سمجھ نہیں پا رہے۔ اگر ہم بروقت اقدام نہ کیا تو نہ صرف ہمارے طالب علم دیگر ممالک کے طالب علموں سے تعلیم کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے بلکہ اُن کے مستقبل اور فنی کیریئر بھی بری طرح متاثر ہوں گے۔ جب اُن کے پاس وہ قابلیت ہی نہیں ہو گی جس کی مارکیٹ میں ضرورت ہے، اُس کے علاوہ جب وہ سماجی اور ذہنی لحاظ سے بھی اُن طلبا سے پیچھے ہوں گے تو یہ اُن کے لئے ایک سنگین مسئلہ بن سکتا ہے۔ جن ممالک میں کورونا قابو میں ہے اور وہاں زندگی معمول پر آ چکی ہے اُن ممالک کے طلبا ہمارے طلبا سے ہر میدان میں آگے نکل جائیں گے۔

کسی بھی مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ پہلے اُس مسئلے کو سنجیدگی سے سمجھا جائے اور اُس حوالے سے ٹھوس لائحہ عمل تشکیل دیا جائے۔ ابھی تو ہم اِسے سرے سے مسئلہ ہی نہیں سمجھ رہے اِس لئے ہمیں سنجیدگی سے اِس مسئلے کے سنگین نتائج کے بارے میں سوچنا ہوگا۔اُس کے بعد ہمیں ایک ایسا لائحہ عمل بنانا ہو گا جس میں بچوں کے لئے آسانیاں بھی پیدا کی جائیں اور اُن کو تمام سہولتیں فراہم کی جائیں۔ ہمارے ہاں کا مسئلہ یہ ہے کہ تعلیمی پالیسیوں کی ناکامیوں کا ملبہ بھی طلبہ پر ڈال دیا جاتا ہے کہ اُنہوں نے ہی محنت نہیں کی، ایسا بالکل نہیں ہے کہ طلبا کا کوئی قصور نہیں ہوتا، اُن کا بھی قصور ہوگا لیکن صرف طلبا کو ہی قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا کیونکہ ایسا کر کے بھی مسئلے کا کوئی حل نہیں نکلتا۔

طلبا کو ایک تو اضافی پڑھانا چاہئے تاکہ اُن کی تعلیمی کمی کو پورا کیا جا سکے۔ اِس کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی اور اُس تک رسائی کو بھی آسان بنانے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ طلبا اِس وجہ سے مار نہ کھا سکیں اور گلگت یا کسی اور ایسے علاقے میں کسی بھی طالب علم کو پہاڑ چڑھ کر سگنلز نہ تلاش کرنا پڑیں۔ بہت محدود کورونا کیسوں کی وجہ سے تعلیمی اداروں کو بند کرنے کی بجائے ایس او پیز پر مکمل عملددرآمد اور بر وقت ویکسی نیشن کو یقینی بنایا جائے۔ تعلیمی اداروں سے ہٹ کر بھی طلبا کی فنی تربیت کے منصوبے شروع کئے جائیں۔ ہم پہلے ہی خطے میں سب سے کم شرح تعلیم رکھنے والے ممالک میں شامل ہوتے ہیں اِس لئے ہمیں تعلیمی میدان میں طلبا کے اِس نوے فیصد نقصان کو بھی پورا کرنا ہوگا اور شرح تعلیم میں اضافے کے لئے بھی اقدامات کرنا ہوں گے۔

کورونا وبا اور اُس کی وجہ سے ہونے والے لاک ڈائون نے غریب گھرانوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ جن کے پاس پیسہ تھا اُس کا انٹر نیت کنکشن بھی اچھا تھا، اُنہیں اچھا کمپیوٹر اور اچھا فون بھی دستیاب تھا اور اُنہوں نے پرائیویٹ ٹیوشن بھی لی۔ دوسری طرف غریب گھرانوں کے بچوں کو نہ تو انٹر نیٹ کی سہولت حاصل تھی اور نہ ہو وہ ٹیوشن لے سکتے تھے۔اِس نا انصافی کو ٹھیک کرنا بھی بہت ضروری ہے۔

اگر ہم نے ابھی اِس مسئلے کے لئے ٹھوس اقدام نہ کئے تو یہ معاملہ مزید بگڑتا جائے گا۔ اِس کے تمام اثرات ہمیں فوراً نظر نہیں آئیں گے بلکہ آنے والے کچھ برسوں میں واضح ہوں گے اور تب ہم کچھ بھی نہیں کر سکیں گے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین