• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈسکوز میں ایم بی اے ڈگری ہولڈرز انجنیئرز کا پروموشن کوٹہ نظر انداز

ج۔م

پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں بزنس مینجمنٹ ڈگری ہولڈز انجینئرز کاپروموشن پالیسی میں 20 فیصد کوٹہ التوا کا شکار ہے سابقہ بورڈ آف ڈائریکٹرز نے مستقبل کی مالی لیڈر شپ تیار کرنے کی خاطر انجینئرز کو ایک مقامی پرائیویٹ یونیورسٹی سے ایم بی اے ڈگری حاصل کرنے پر 20 فیصدکوٹہ پروموشن میں مختص کیا تھا جو کہ برسوں سے التوا کا شکار ہے۔

جبکہ ایم ایس سی کرنے پر پچھلے 40 سال سے یہ کوٹہ دیا جا رہا ہے۔ ملک کے عام کالجز سے حاصل کردہ ایم بی اے کی ڈگریوں کے حامل اہلکاروں کوایک مقامی پرائیویٹ یونیورسٹی کی ڈگریوں کے مساوی سمجھ کر، اعلیٰ تعلیم یافتہ انجینئرز کو پروموشن نہ دے کر حق تلفی کی جا رہی ہے۔

پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں بزنس مینجمنٹ ڈگری ہولڈز انجینئرز کا 20 فیصد کوٹہ تیز رفتار پروموشن کوٹہ پالیسی میں ہونے کے باوجود نظر انداز ہونا انتہائی مایوس کن ہے ۔

آج کل ماڈرن ٹیکنالوجی اور جدید بزنس مینجمنٹ کے دور میں بھی ہماری بیمار پارو ڈسٹری بیوشن کمپنیاں اپنی فرسودہ اصولوں پر قائم مینجمنٹ کے طریقہ ٔ کار، متعین سمیت اور جذبہ کے فقدان اور جدید کارپوریٹ گورنس و مینجمنٹ نہ ہونے کے باعث مالی اور انتظامی بحران کا شکار نظر آتی ہیں۔

2008ء میں عالمی مالیاتی ڈونر ایجنسیوں کی توجہ دلانے پر پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اپنے قابل انجینئرز کو عالمی شہریت کے حامل اور ملک کے سب سے بڑے بزنس مینجمنٹ کے 4تعلیمی اداروں سے ایم بی اے کی ڈگری کروانے والے کیلئے ایک پالیسی مرتب کی، جس میں سلیکٹڈ امیدواروں کے تعلیمی اخراجات کے ساتھ تیز رفتار پروموشن پالیسی میں 20فیصد کوٹہ بھی متعین کیا گیا تاکہ یہ انجینئر اعلیٰ مینجمنٹ عہدوں پر ترقی پا کر کمپنیوں میں جدید کارپوریٹ گورنس کے طریقہ کار کو مروج کر کے ان اداروں کو منافع بخش بہترین کسٹمر سروس اور انتظامی کارکردگی کی زند ہ مثال بنا سکیں۔

لیکن لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی سمیت تمام ڈسکوز کی اعلیٰ قیادت نے ان اداروں کی ترقی و بہتری میں عدم دلچسپی کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ صرف ایم ایس سی کی ڈگری کی بنیاد پر تیز رفتار پروموشن کوٹہ دیا جا رہا ہے لیکن وہ انجینئر جنہوں نے اعلی ادارے سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی ان کو پالیسی کے باوجود تیز رفتار پروموشن میں کوٹہ نہ دے کر نہ صرف حق تلفی کی جا رہی ہے بلکہ اداروں کی ڈویلپمنٹ کے عمل کو روک دیا گیا ہے۔

ایم ایس ای ڈگری پر تیز رفتار پروموشن کوٹہ تو پچھلے 40 سال سے دیا جا رہا ہے کیا اس سے کمپنیوں کی مینجمنٹ میں خاطر خواہ تبدیلی آئی، زمانہ تبدیل ہو رہا ہے ، ان اداروں کو جدید مینجمنٹ کی ضرورت ہے۔ لیکن وہ مافیا جو ان اداروں کا خون نچوڑنے پر گامزن ہے ، انہوں نےایم بی اے ڈگری ہولڈرز ڈسکوز انجینئر افسران کی منفردیت، قابلیت اور پروموشن کو پس پرد ہ ڈالنے، ہر عام کالج کے ڈگری ہولڈر کو بھی ایک منصوبے کے تحت ان کے برابر کی مراعات حاصل کرنے کیلئے استعمال کرنا شروع کردیا ہے جس کے باعث مفاد پرستوں نے ایک سوچی سمجھی ترکیب سے نہ تو کبھی ایم بی اے انجینئرز کی تیز رفتار پروموشن کوٹہ کو عمل میں لانے دیا تاکہ گورننس سسٹم میں کوئی خاطر خواہ بہتری نہ لائی جاسکے۔

انجنیئرز نے اس بارے میں وفاقی وزیر برائے توانائی، وفاقی وزیر برائے خزانہ، وفاقی سیکرٹری کو خط لکھا ہے کہ بورڈز کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو ز اگر کارپوریٹ گورننس اور سسٹم میں بہتری لانا چاہتے ہیں تو پہلے پرائیویٹ سیکٹر کی بجائے اداروں کے اپنے اعلیٰ تعلیم یافتہ انجینئرز جو کہ مینجمنٹ اور کارپوریٹ گورننس کی اعلیٰ ڈگری ہولڈر ہیں ان کی حو صلہ افزائی کر کے ٹاپ مینجمنٹ میں کردار ادا کرنے کا موقع دیا جائے اور تیز رفتار پروموشن کوٹہ پر عمل کرتے ہوئے حوصلہ افزائی کی جائے ۔وگرنہ لیسکو سمیت تمام اداروں میں صورتحال میں بہتر ی نہیں آسکتی کیونکہ سالوں سے ہم ان کمپنیوں میں روایتی طریقہ کار سے کام سرانجام دے رہے ہیں۔

نہ کوئی جد ت لائی گئی اور نہ کوئی ٹیکنالوجی کا ستعمال کیا جا سکا کیونکہ ہمارے ہاں انجنیئرز جو روایتی تعلیم لے کر آتے ہیں ان کا ویژن وہ نہیں جو اعلی تعلیم یافتہ اداروں میں پڑھایا جاتا ہے ۔ عام کالجز یونیورسٹیوں میں بھی صرف مکھی پر مکھی ماری جاتی ہے نوٹس شئیرز کئے جاتے ہیں اور لوگ انجنیئرنگ کر کے ڈسکوز اور دیگر اداروں میں بھرتی ہوجاتے ہیں اور ا نجنئیرز نوکری برائے نوکری کرتے ہیں ان کو غرض ہوتی ہے کہ انکی پوسٹنگ اچھی ہوجائے ۔اچھی سب ڈویژن اور ڈویژنوں میں تعیناتی کروا کے گاڑی اور ماہانہ پیسے کما کر سمجھتے ہیں کہ یہ حاصل حصول ہے حالانکہ جس مقصد کے تحت وہ انجنیئر بنے اور کمپنیوں میںآئے وہ مقصد پس پشت ڈال دیا جاتا ہے سالوں سے دیکھ لیں لیسکو میں کیا حال ہے۔

ہر طرف وہی روایتی انجنیئرز اور افسران ہیومن ریسورس اور ایڈمن میں بیٹھے ہیں جو واپڈا میں بھرتی ہوئے اور اب ایڈمن میں بیٹھ کر فائلوں پر اپنی پرانی روایات کو چلا رہے ہیں ایسے افسران سے لیسکو سمیت کسی کمپنی کا مستقبل بدلنےو الا نہیں اعلی تعلیم یافتہ کو یہی منسٹری بورڈ اور چیف ایگزیکٹو باہر سے لاکھوں روپے پر بھرتی کر کے ایچ آر، ایڈمن اور فنانس شعبےمیں لے آتے ہیں اور آگے بھی ایجنڈا یہی ہے کہ اس انجنیئرنگ ادارے کی نجکاری کی جائے باہر سے اپنے من پسند افراد کو بھرتی کیا جائےاور انجنیئزر کا حق مارا جائے اس سے کمپنی اور صارفین مارے جائیں گے سب سے بڑا مسئلہ ہی مہنگی ترین بجلی ہے جو ان سے سستی نہیں ہو پارہی کتنے وزیر آئے بورڈ کے ممبران آئے چیف ایگزیکٹوز آئے انھوں نے آکر صارفین کا گلہ دبایا چھاپے ریکوری بڑھائی لیکن کو ئی بھی کمپنی کا ڈھانچہ فرسودہ نظام ،فرسودہ خراب میٹریل بدلنے کی طرف نہیں گئے ،بلکہ سب سے آسان حل بجلی مہنگی کرتےجائوبس عوام پر بوجھ لادتے جائو کیا یہ ظلم نہیں ہے اب معاشی دور ہے ایم بی اے انجنیئرز کو ان کا حق دیا جائے پروموشن کوٹہ بحال کیا جائے اور انھی محکمے کے اچھے انجنیئرز سے فائدہ اٹھایا جائے۔

چیف ایگزیکٹو لیسکو سمیت تمام چیف ایگزیکٹو دن گزار کر چلے جاتے ہیں ان کو فکر ہوتی ہے کہ ان کا تبادلہ نہ ہوجائے منسٹری سے جو فون آجائے جائز ناجائز اس پر ایسے عمل کرتے ہیں جیسے آخری فون ہے لیکن عوامی مسائل کے لئے لیسکو ہیڈ کوارٹر کے دروازے عام آدمی کے لئے بند ہیں اسے کرونا کے نام پر اندر جانے نہیں دیا جاتا اسکے مسائل کا حل کیسے ممکن ہو سکتا ہے یہی حال دیگر دفاتر کا ہے تاہم نئے سی ایس ڈی رائے اصغر نے تمام ایس ایز اور ایس ڈی اوز کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ اپنے دفاتر اور گاڑیوں سے اے سی ہٹوائیں اپنےدفاتر کھولیں اور عوام کو رسائی دیں تاکہ ان کے بلوں کےاور دیگر ایشوز حل ہو سکیں اپنے دفاتر میں کھلی کچہریاں لگائیں یہی عوام کی خدمت ہے پیسے کے علاوہ بھی لوگوں کے کام خدمت سمجھ کر کریں ۔ لیسکو کا امیج اس وقت کچھ اچھا نہیں بہتر ی کی بہت ضرورت ہے سی ایس ڈی کے اس فیصلے کو عوامی حلقوں نےسراہا ہے کم آمدنی والے افراد کو قسط میں سہولت دیں افسران ورکر رہیں ۔