• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عائشہ اکرم سے دست درازی، تمام 98 ملزمان کی رہائی کا حکم


مینارِ پاکستان لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں خاتون ٹاک ٹاکر عائشہ اکرم سے دست درازی کے کیس میں لاہور کی عدالت نے شناخت نہ ہونے پر تمام 98 ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

لاہور کی عدالت میں مجسٹریٹ نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا کہ رہائی کا تحریری حکم ابھی جاری کر دیا جائے گا۔

عدالت میں پیشی کے بعد تمام ملزمان کو دوبارہ گاڑیوں میں بٹھا دیا گیا۔

لاہور پولیس کے مطابق ملزمان کو جیل سے رہا کیا جائے گا۔

لاہور کی ایک اور عدالت نے اسی مقدمے میں 2 ملزمان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے دونوں ملزمان کی عبوری ضمانت میں 14 ستمبر تک توسیع کر دی۔

ایڈیشنل سیشن جج محمد سعید نے ملزمان کی درخواستِ ضمانت پر سماعت کی۔

ملزمان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان شاملِ تفتیش ہونا چاہتے ہیں، ڈر ہے کہ پولیس ملزمان کو گرفتار کر لے گی۔

عدالت نے پولیس سے مقدمے کا ریکارڈ طلب کر لیا اور کیس کی سماعت 14 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

مینارِ پاکستان میں آگ لگانے اور جنگلہ توڑنے کے معاملے میں پکڑے جانے والے 53 افراد کو بھی ضلع کچہری میں پیش کیا گیا۔

عدالتی وقت ختم ہونے کی وجہ سے ملزمان کی مجسٹریٹ کے روبرو پیشی کھٹائی میں پڑ گئی، وقت ختم ہونے کی وجہ سے تمام جج صاحبان عدالت سے جا چکے تھے۔

پولیس نے مذکورہ 53 ملزمان کو ڈسچارج کرنے کی رپورٹ تیار کر رکھی تھی۔

واضح رہے کہ لاہور میں مینارِ پاکستان کے گریٹر اقبال پارک میں خاتون ٹک ٹاکر عائشہ اکرم کو ہراسگی اور بدتمیزی کا نشانہ بنانے کا واقعہ 14 اگست کے روز پیش آیا تھا۔

یومِ آزادی کے موقع پر خاتون ٹک ٹاکر عائشہ اکرم سے ہوئی دست درازی کا خوفناک واقعہ 3 روز بعد سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آیا۔

سیکڑوں نوجوانوں نے ٹک ٹاکر عائشہ اکرم اور اس کے ساتھیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور کپڑے پھاڑ دیئے جبکہ پولیس واقعے سے بے خبر رہی۔

فوٹیجز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے پر پولیس نے 400 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

قومی خبریں سے مزید