• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آرٹ میں دلچسپی رکھنے والے اورآرٹسٹ لوگ ہر شعبۂ زندگی میں ہوتے ہیں۔ لکھنا اور انتظامی معاملات کو منتظم کرنا دونوں آرٹ ہی کے زمرے میں آتے ہیں۔ نیب والوں کا یہ آرٹ ہے کہ خورشید شاہ کو دو سال سے جیل میں رکھا ہوا تھا، ایک آرٹ خورشید شاہ کا بھی ہے کہ وہ جیل سے اسپتال پہنچ گئے۔ لوگ کہتے ہیں آرٹ کی طرف موجودہ حکومت نے توجہ کم دی ہے۔ میں سمجھتا ہوں توازن، تناسب اور خوبصورتی سے حکومت کرنا بھی ایک آرٹ ہے۔ خاص طور پر پنجاب نے جو رنگ جنوبی پنجاب کے کینوس پر بکھیرے ہیں، ان کی بصری فرہنگ لاجواب ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے کئے جانے والے سب سے بڑے وعدے کی تصویر مکمل ہونے والی ہے، وزیراعلیٰ نے پنجاب کابینہ کے 47ویں اجلاس میں جنوبی پنجاب کے عوام کو اس خوشخبری کے خدو خال دکھا دیے جس کو دیکھنے کیلئے مظلوم عوام نے دہائیوں کا سفر کیا، متعدد حکومتیں دیکھیں، حکمرانوں کے وعدوں کے رنگ اترتے دیکھے اور اپنے خوابوں کے برش ٹوٹتے دیکھے۔ اجلاس میں پنجاب گورنمنٹ رولز آف بزنس میں ترامیم کی منظوری دی گئی جس کے تحت ایڈیشنل چیف سیکرٹیری، سیکرٹریز اور محکموں کے اختیارات واضح کئے گئے ہیں۔ 3ڈویژنز پر مشتمل 11پسماندہ ترین اضلاع کا یہ جنوبی پنجاب آخر کار اپنا جائز حق جس پر پچھلی حکومتیں قابض رہیں، پانے کیلئے تیار ہے۔ جنوبی پنجاب کی علیحدہ اے ڈی پی بک بنائی گئی ہے اور یہاں کیلئے 33فیصد بجٹ مختص کردیا گیا ہے، یہ تقریباً 2سو ارب روپے بنتا ہے۔ یعنی تصویر مکمل کر دی گئی۔ اس کے علاوہ وزیراعلیٰ نے ایک اور تصویر کی جھلک بھی دکھائی جس میں وزیراعظم عمران خان بہاولپور میں جنوبی پنجاب سیکرٹیریٹ کا سنگِ بنیاد رکھتے ہوئےدکھائی دے رہے ہیں۔ جنوب میں 17محکمے ہوں گے اور 17گریڈ کے افسروں کے تبادلوں اور اسسٹنٹ کمشنرز کے تبادلوں کا اختیار بھی ایڈیشنل چیف سیکریٹری کے پاس ہی ہوگا۔ عثمان بزدار نے بےشک اپنے آپ کو ایک آرٹسٹ ثابت کیا ہے۔ انہوں نے جہاں جنوبی پنجاب کیلئے ترقی کے نئے منظر تخلیق کئے ہیں۔ روشنی اور خوشبو بھری راہیں ہموار کی ہیں وہیں سارے صوبہ بھر کی ترقی کیلئے عملی اقدامات کے نقش و نگار بھی بنائے ہیں۔ جیسے پنجاب میں اسپیشل اکنامک زونز کی تعداد میں نمایاں اضافہ کیا گیاہے، ویسے اب یہاں بھی ا سپیشل ٹیکنالوجی زونز کا آغاز کیا جارہا ہے۔ وزیراعلیٰ کی جانب سے لاہور میں یہ زون بنانے کا اصولی فیصلہ ہوا ہے، اس کے بعد، ملتان، بہاولپور، رحیم یار خان اور ڈیرہ غازی خان سمیت مزید شہروں میں مختلف فیزز میں یہ زونز قائم کئے جائینگے۔ اس منصوبے سے بیرونی سرمایہ کاری کے مواقع بھی پیدا ہونگے، معاشی استحکام ممکن ہوسکے گا اور نوجوان نسل کیلئے نوکریاں بھی پیدا ہوں گی۔ نئے رنگ بکھیریں گے۔ نئی تصویریں تخلیق ہوں گی۔

مجھے وزیراعظم صاحب کی تقریر یاد آرہی ہے جس میں انہوں نے رائے عامہ کی طرف اشارہ کیا ہے کہ سڑکوں اور موٹر ویز کی نمائش کا کریڈٹ نون لیگ کو دیا جاتا ہے مگر دراصل تحریک انصاف کی حکومت 3برسوں میں نون لیگ سے زیادہ سڑکیں اور وہ بھی کم لاگت میں بنا چکی ہے۔ پنجاب کو ہی لے لیں یہاں منزلیں آسان پروگرام کے تحت پہلے فیز میں 174ترقیاتی اسکیموں کے ذریعے 1236کلومیٹر طویل سڑکوں کی تعمیر مکمل ہوئی جبکہ دوسرے فیز میں 152اسکیموں کے ذریعے 1078کلومیٹر طویل سڑکیں بنائی جارہی ہے۔ یہ صرف وہ منصوبہ ہے جو دیہی اور مضافاتی علاقوں کو شہروں سے جوڑنے کیلئے ہے۔

خواتین کے حوالے سے بھی وزیر اعلی پنجاب نے بے پناہ کام کیا ہے۔ وہ ہمیشہ ان کے حقوق کے علمبردار رہے ہیں۔ بے شک دنیا کی تاریخ میں عورتوں کے حقوق کیلئے سب سے زیادہ آوازآرٹ کےشعبہ میں اٹھائی گئی۔ تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ہر دور کے آرٹسٹ نے عورتوں کو جو خراج تحسین پیش کیا ہے وہ شاید اکثر تنظیموں کے گروپس بھی آج تک نہ کر سکے ہوں گے۔ شاعری سے لے کر پینٹنگز تک، فنکاروں نے کبھی قلم کے ذریعے تو کبھی برش کے ذریعے ان پر ہوئے مظالم، ان کی ہمت و بہادری اور سوسائٹی میں موجود رنگوں کی داستان لکھی۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آرٹ جس قدر تحمل و برداشت سکھاتا ہے، اس کی مدد سے اٹھائی گئی آواز میں اتنی ہی جان، اتنا ہی زیادہ وزن پایا جاتا ہے۔ عثمان بزدار نے معاشرے میں بگاڑ کے خاتمے کیلئے اپنی تخلیقی سوچ، گورننس کے فن اور انسانی برابری کے آرٹ کا استعمال کیاہے۔ جہاں قیام پاکستان سے آج تک عورتوں نے کھیتوں سے لے کر دفاتر تک اپنی ذہانت اور قابلیت کے جوہر دکھائے، پچھلی دو دہائیوں میں عورتوں کا کردار مزید واضح ہوکر سامنے آیا ہے۔ اس کردار کو مزید نکھارنے اور ایک انکلوزیو سوسائٹی کو تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے پہلی چیف منسٹر نیشنل ویمن ہاکی چیمپئن شپ کا آغاز کیا ہے۔ یہ وزیراعلیٰ کا فن ہے کہ ایسے موقع پر جب عورت ظلم کا نشانہ بن رہی ہے مگر پھر بھی بہتر سے بہتر انداز میں معاشرے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرنے کیلئے مضبوط کھڑی ہے، ایسی صورتحال میں حکومتی سطح پر عورتوں کے سپورٹس کا فروغ ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔ اس چیمپئن شپ میں پاکستان بھر سے 140کھلاڑی اور 10ٹیمیں شرکت کریں گی۔ پنجاب میں اینٹی ویمن ہراسمنٹ اینڈ وائلنس سیل کا قیام بھی ایک احسن اقدام ہے۔ اس کے لئے آئی جی پنجاب اور وزیراعلیٰ پنجاب دونوں کو مبارک باد۔

تازہ ترین