• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا ہم چوتھے صنعتی انقلاب کیلئے تیار ہیں ؟

گزشتہ صدی کے اوائل میں زندگی بہت سادہ تھی۔ اس وقت کے جدید اور خوش حال گھرانوں میں مرفی یا فلپس کا گراموفون ہوا کرتا تھا، جس پر ماسٹرز وائس (ایچ ایم وی) کے ریکارڈ سُنے جاتے تھے۔ بھاپ کے انجن سے چلنے والی ٹرینیں سفر کا عام ذریعہ ہوا کرتی تھیں۔ بستیاں بجلی سے محروم تھیں۔ نصف صدی قبل تک سڑکوں پر اِکّا دُکّا کاریں اور موٹر سائیکلیں نظر آتی تھیں۔ تار، تیز ترین ذریعۂ پیغام رسانی ہوا کرتا تھا۔

21ویں صدی شروع ہوتے ہی ٹیکنالوجی میں تیزی سے ترقی دیکھنے میں آئی۔ کمپیوٹر نے دنیا بھر میں دھوم مچا دی اور انسانی زندگی کے ہر شعبے پر چھا گیا۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس وقت ہم ٹیکنالوجی کے ایک نئے انقلاب کے دہانے پر کھڑے ہیں، جو ہمارے معیارِ زندگی، تصورِ خودی، ثقافت، معیشت اور سیاست سمیت زندگی کے ہر پہلو کو بدل رہا ہے۔ معیشت کی زبان میں ہم چوتھے صنعتی انقلاب میں داخل ہوچکے ہیں۔

پہلا صنعتی انقلاب اَٹھارویں صدی کے آخر میں اس وقت برپا ہوا، جب انسان نے پانی اور بھاپ کی توانائی سے مشینیں چلانا سیکھیں۔ اس وقت پیداواری قوت انتہائی کم تھی۔ جب انسان نے بجلی (الیکٹرک پاور) پیدا کر لی، تب ہم بڑی بڑی مشینوں سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے قابل ہوئے، یوں ہماری معیشت میں یکدم بہت زیادہ اضافہ ہوا۔ اسے دوسرا صنعتی انقلاب کہتے ہیں، جس کا دورانیہ مؤرخین کے نزدیک انیسویں صدی کی آخری تہائی سے بیسویں صدی کی ابتدا تک تھا۔ بجلی، برقی مواصلات یعنی ٹیلی فون اور ٹیلی گراف دوسرے صنعتی انقلاب کی نمایاں ایجادات تھیں، جبکہ پیٹرولیم مصنوعات سے صنعت کی پیداوار میں اضافہ کیا گیا۔ 

تیسرے صنعتی انقلاب نے الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (ورلڈ وائیڈ ویب اور موبائل فون) کی مدد سے بیسویں صدی میں جنم لیا۔ اس سے جہاں معیشت زیادہ سے زیادہ گلوبلائزڈ ہوئی، وہیں پیداوار میں بھی مزید اضافہ ہوا، جس نے تمام ممالک بالخصوص ترقی یافتہ ممالک میں معیارِ زندگی کو بدل کر رکھ دیا۔ جہاز کے آنے سے نقل و حمل کی ساری مشکلات ختم ہوگئیں۔ سب سے اہم بات یہ کہ درحقیقت، چوتھا صنعتی انقلاب بھی تیسرے صنعتی انقلاب کا مرہونِ منت ہے۔ 

چوتھا صنعتی انقلاب بائیولاجیکل، فزیکل اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ملاپ سے نئی کارآمد صنعتی ٹیکنالوجی کی شکل میں سامنے آ رہا ہے۔ اس دور میں انٹرنیٹ اور جدید آلات صنعتی ترقی میں مدد دے رہے ہیں، اور مشینیں بھی انسانوں کی جگہ لے رہی ہیں۔

نئی ٹیکنالوجی، پیداوار کے تمام روایتی طریقوں کو بدل رہی ہے۔ اس کا جنم پہلے والے صنعتی انقلابوں کی طرح اپنی بنیاد میں نہ خام سرمایہ پر ہے اور نہ ہی خام محنت پر بلکہ اس کا جنم، اپنی اساس میں علم بالخصوص سائنس و ٹیکنالوجی پر ہے، جس میں سرمایہ و محنت نے ایک ناگزیر مددگار کا کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آنے والے عہد میں وہ ممالک، جن کی معیشت، علم و تخلیق پر منتقل ہو چکی ہے، وہ اس سے زیادہ فائدہ اُٹھائیں گے اور اگر ترقی پذیر ممالک نے اس کے لیے خود کو تیار نہ کیا تو اس مرتبہ بھی وہ پیچھے رہ جائیں گے، جو ابھی تک تخلیقی سرمایہ اور تخلیقی محنت سے مجموعی طور پر محروم ہیں۔

مصنوعی ذہانت (AI)،روبوٹکس، انٹرنیٹ، خودکار گاڑیاں، 3D پرنٹنگ، بائیو ٹیکنالوجی، نینو ٹیکنالوجی، مٹیریل فزکس، کوانٹم میکینکس اور کوانٹم کمپیوٹرز وغیرہ ایسے علوم ہیں جو چوتھے صنعتی انقلاب کا مؤجد بن رہے ہیں۔ چوتھے صنعتی انقلاب کے نتیجے میں گلوبلائزیشن میں مزید جدت آئے گی، ٹرانسپورٹ اور کمیونیکیشن کی لاگت میں مجموعی طور پر کمی آئے گی، عالمی تجارت میں رکاوٹیں کمزور پڑ جائیں گی، لاجسٹکس اور ’گلوبل سپلائی چین‘ سستی اور آسان ہو جائے گی۔

اس وقت دنیا کی آبادی کا ایک قابلِ ذکر حصہ پہلے ہی سوشل میڈیا استعمال کر رہا ہے، جس سے حکومتی پالیسیوں پر عوامی اثرورسوخ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سے ہمیں ایک دوسرے کے نقطۂ نظر اور ثقافت کو سمجھنے کا موقع مل رہا ہے۔ یوں ماہرین کے بقول انٹرنیٹ کی ٹیکنالوجی میں مزید اضافہ اور بہتری سے تمام ممالک میں جہاں ٹھوس جمہوری اقدار فروغ پائیں گی، وہیں اس کا بھی زیادہ امکان ہے کہ ریاستی ادارے ٹیکنالوجی کے استعمال سے شہریوں کی آزادی پر زیادہ سے زیادہ اثر انداز ہوں گے، جیسے سیکیورٹی کے نام پر شہریوں کی ذاتی زندگی کی نگرانی وغیرہ۔ انسانی آزادی، مساوات اور انصاف کے جہاں اَن گنت زاویے ترقی پائیں گے، وہیں نئے مسائل بھی جنم لیں گے۔ 

ماہرین کا کہنا ہے کہ، اس سے نا صرف ہماری روزمرہ کی سرگرمیاں بدل جائیں گی بلکہ اس سے ہمارے یہ تصورات بھی بدل جائیں گے کہ ہم کون ہیں؟ ہماری شناخت، نجی زندگی، تصورِ ملکیت، ہمارے اخراجات، محنت اور فرصت کے اوقات، ہماری مہارتیں، روزگار، شہری زندگی، حلقۂ احباب، خاندانی تعلقات اور اقدار سمیت ہر چیز بدل جائے گی، جس کا مشاہدہ ہم نے ہر گزرتے صنعتی انقلاب کے دوران کیا۔

شاید سب سے زیادہ حیران کُن ترقی، طِب کے شعبے میں رونما ہو گی۔ جراحی میں روبوٹس کا استعمال پہلے ہی شروع ہو چکا ہے اور انتہائی ترقی یافتہ ہسپتال نازک جراحی کے لیے کمپیوٹر سے چلنے والے روبوٹس استعمال کر رہے ہیں۔

ہم مسلسل تبدیلی کی صورتِ حال میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اعلیٰ کارکردگی کے آفاق اور حدود کا تعین ہر لمحہ ازسرِنو ہو رہا ہے۔ پاکستان کے لیے اچھی بات یہ ہے کہ ان مواقع سے فائدہ اُٹھانے کے لیے ہمارے پاس افرادی قوت اور فروغ پذیر منڈی بھی ہے، تاہم ہمیں اس کے لیے ہنرمند اور تربیت یافتہ افرادی قوت درکار ہوگی، جس میں ہم ابھی بہت پیچھے ہیں۔ ہمیں چوتھے صنعتی انقلاب سے بھرپور انداز میں مستفید ہونے کے لیے اپنی افرادی قوت کو اس کے لیے مطلوب ضروری صلاحیتیں اور ہنر سکھانا ہوگا۔