• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کمپنی کو ترقی کی راہ پر کیسے گامزن کیا جائے؟

کئی لوگ تخلیقی اور جدت آمیز صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ انہیں آزادی سے اپنی سوچ کے تحت کام کرنے میں لطف آتا ہے۔ کسی بھی کاروبار میں جب آپ لوگوں پر اعتماد کرتے ہیں اور انہیں فرائض کی انجام دہی کے دوران بہت حد تک آزادی سے کام کرنے کی اجازت دیتے ہیں تووہ ادارے کو اپنا سمجھ کر ذمہ داریاں پوری کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہ کسی بھی کاروبار کی ترقی کا راز اور کوئی بھی نیا کاروبار شروع کرنے اور اسے کامیاب بنانے کی کنجی ہے۔ 

لوگ اس وقت ہی کمپنی میں جانفشانی اور لگن سے کام کریں گے جب وہ اسے اپنا سمجھیں گے۔ لہٰذا اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک بااختیار ٹیم تشکیل دی جائے اور انہیں ملکیت (اونرشپ) کا احساس دلایا جایا۔ کمپنی میں کام کرنے والے منیجرز کو فعال کیا جائے، انہیں اختیارات دیے جائیں اور انہیں وہ کام کرنے دیا جائے، جس کا انہیں اشتیاق ہے اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے وہ پُرعزم ہوں تاکہ کمپنی ترقی کی منازل طے کرے۔ اس کا فائدہ کمپنی مالکان کے ساتھ ساتھ وہاں کام کرنے والوں کو بھی ہوگا۔

اچھی ٹیم کی تشکیل

انٹرپرینیورز اپنے منیجرز کو ذمہ داریاں سونپ کر اپنے ذہن کو دیگر تصورات اور نئے منصوبوں کی جانب متوجہ کرسکتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ دوسرے لوگوں کی باتوں کو کھلے ذہن کے ساتھ سنیں، اگر ان کی تجویز اور تجزیہ بہتر معلوم ہو تو اس پر عمل کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ جب انہیں کسی قسم کے چیلنج کا سامنا ہو تو ان کی حوصلہ افزائی کی جائے اور کام کرنے کے لیے خوشگوار ماحول فراہم کیا جائے، اس طرح وہ زیادہ محنت، جانفشانی اور لگن سے کام کریں گے۔ یہ بات یاد رکھیں کہ آپ صرف اعدادوشمار اور رپورٹس کی بنیاد پر فیصلے نہیں کرسکتے۔

کسی نئے منصوبے کو شروع کرنے کے لیے بہرحال حوصلہ درکار ہوتا ہے۔ اس کے لیے آپ کو پیش بینی کی صلاحیت بھی چاہیے، تاہم رسک لینے سے خائف نہ ہوں۔ نئے تصورات پر جامع تحقیق اور دوسروں سے اس ضمن میں ان کا خیال جاننا یا اگر وہ ماضی میں ایسی کسی صورت ِحال کا تجربہ رکھتے ہوں تو اس بارے میں معلوم کرنا، ادارے کے لیے بہتر ہوتا ہے۔ 

اگر آپ کی کمپنی میں مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگ کام کرتے ہیں تو یہ بھی ایک مثبت پہلو ہے کیونکہ اس طرح متنوع خیالات کا حصول ممکن ہوتا ہے۔ آپ روایتی اور لگے بندھے اصولوں سے ہٹ کر کام کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں، جو کہ ہمیں ہر شعبے میں مسابقت کے قابل بنا دیتا ہے ۔

اگر لوگ کام کا جذبہ رکھتے ہیں اور وہ کام انہیں لطف دیتا ہے تو وہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ آپ جب ایک اچھی ٹیم تشکیل دیتے ہیں تو آپ کو بہت عمدہ انسانوں سے ملنے اور اُن کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملتا ہے۔ آپ کو بہت سے مسائل درپیش آتے ہیں، جیسا کہ ماحولیاتی تبدیلی، امن و امان کی صورتحال، معاشی سست روی وغیرہ۔ لیکن اگر آپ اور آپ کی ٹیم محنت و لگن سے اپنا کام جاری رکھتی ہے تو اس کا نتیجہ ادارے کے ویژن اور مشن کے حصول کی صورت میں نکلتا ہے۔ مقصدیت ہی زندہ انسانوں کو زندگی کے جذبے سے آشنا کرتی ہے ۔

مشاورت کی اہمیت

انسان جب کسی کاروباری میدان میں قدم رکھنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے خوف وخدشات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جوکہ ایک قدرتی بات ہے۔ وہ کسی بھی شعبے میں سرمایہ کاری کرتے وقت کئی مرتبہ ہچکچاہٹ کا شکار ہوتا ہے، ایسے میں اپنی ٹیم، مشیروں اور دوستوں کے سامنے اپنے خیالات رکھیں اور پھر ان کی رائے حاصل کرکے کسی بہتر نتیجے پر پہنچیں۔ ایک سے زیادہ امکانات کے بارے میں جانے بغیر کوئی فیصلہ کرنا بالکل بھی درست نہیں ہوتا۔

مشاورت کی اہمیت ایک طرف لیکن اپنے دل کی آواز بھی سنیں، اگر آپ کسی میدان میں قدم رکھنے کا فیصلہ کرچکے ہیں تو مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔ زیادہ تر کاروباری افراد پہلی کوشش میں ناکام ہوجاتے ہیں۔ وہ مارکیٹ میں اپنا یا اپنی کمپنی کا کوئی اثر نہیں چھوڑ پاتے۔ بعض افراد بمشکل ہی اپنا بچاؤ کرپاتے ہیں۔ 

تاہم، یہ تمام خدشات اپنی جگہ ہمیشہ موجود رہیں گے۔ اگر آپ کام کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں تو ان خدشات کو ایک طرف رکھیں اور قدم اٹھائیں۔ کسی بھی کاروبار کی شروعات میں رسک موجود ہوتا ہے لیکن جو لوگ رسک کے ساتھ محنت و لگن سے کام کرتے ہیں تو کامیابی ان کے قدم چومتی ہے۔

ملازمین پر سرمایہ کاری

کوئی بھی کاروبار اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک ملازمین، ماحول اور گاہکوں پر توجہ نہ دی جائے۔ ہوسکتا ہے کہ کوئی کاروبار ان لوازمات کے بغیربھی منافع دے، لیکن غالب امکان یہی ہے کہ یہ مختصر وقت کے لیے ہو۔ مسابقت کی مارکیٹ میں فعال، مؤثر اور منافع بخش ہونا ہر کمپنی کا ہدف ہوتاہے ، لیکن ذمہ داری اور احسن طریقے سے کاروبار کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا اس سے نفع حاصل کرنا۔ 

یہ وہ مرحلہ ہے جہاں اس میں کام کرنے والے ملازمین کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کرجاتا ہے ۔ کمپنی کا بنیادی ہدف اسی وقت حاصل کیا جاسکتا ہے جب اس میں کام کرنے والے فعال رہتے ہوئے بھرپور صلاحیتوں کے مطابق اپنے اپنے فرائض انجام دیں۔ اگر کمپنی ان پر رقم خرچ کرکے ان کی صلاحیتوں میں اضافہ کرے تو یہ سرمایہ کاری ضائع نہیں جائے گی۔ ان کی زیادہ محنت اور توجہ کے نتیجے میں آپ کا کاروبار ترقی کرے گا اور آپ زیادہ منافع کمائیں گے۔

کام کی اخلاقیات

کاروبار میں ہر کسی کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔ ملازمین کو اپنی محنت، مستقل مزاجی اور واضح اہداف کے حصول سے اپنے مالکان یا مینجمنٹ کا اعتماد حاصل کرنا چاہیے۔ اگر آپ نہیں جانتے کہ آپ کس کے لئے کام کر رہے ہیں تو آپ کبھی بھی اپنے کام کی اخلاقی اصلاح نہیں کرسکتے۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے واضح مقاصد یا اہداف ہوں۔ اس طرح آپ زیادہ پرعزم اور محنتی ہوجائیں گے۔ 

یہ طرز عمل آئندہ درپیش مسائل سے نمٹنے میں بھی مدد کرتا ہے۔ بعض اوقات لوگ خود کو آگے بڑھانے کے بجائے محدود کرلیتے ہیں۔ اگر آپ زیادہ متحرک نہیں ہیں تو بس اپنے آس پاس کے لوگوں پر نگاہ ڈالیں ،ممکن ہے کہ متحرک ہونے سے انھیں ملنے والی کامیابیاں آپ کو بھی ترغیب دیں۔

آج کے کاموں کو آج ہی ختم ہونا چاہئے۔ اگر آپ ایسا کرسکتے ہیں تو پھر کام کو کبھی نامکمل نہ چھوڑیں۔ تاخیری حربے آپ کے بدترین دشمن ہیں۔ سوشل میڈیا پر کم سے کم وقت صرف کریں اور ٹی وی سے دور رہیں، اس طرح آپ اپنی ملازمت پر بہتر طریقے سے توجہ مرکوز کرسکتے ہیں۔ دن کے ہر سیکنڈ کو ایک عظیم مقصد کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ایک بھرپور شیڈول بنائیں اور اس پر سختی سے کاربند رہیں۔ 

کام کرنے والے اوقات میں خاص طور پر توجہ مرکوز کریں۔ وقت پرہر کام کرنا آپ کی سب سے بڑی خوبی ہونی چاہیے۔ اگر آپ کام کرنے میں دیر کرتے ہیں تو یہ روش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آپ ذمہ داراور قابل اعتماد کارکن نہیں ہیں۔ ہر کمپنی کام کے عمدہ اخلاقیات کی تعریف (Work Ethics) کرتی ہے۔ لہٰذا بہتر یہ ہے کہ کوئی بھی کام مقررہ مدت سے پہلے کرنے کی کوشش کریں۔ آپ زندگی بھر اس پر عمل کرسکتے ہیں اور بالآخر ایسے انسان بن سکتے ہیں جو ہمیشہ وقت کی پابندی کرتا ہے۔ وقت کی پابندی کسی بھی شخص کی زندگی میں نظم و ضبط لاتی ہے۔

انسان خطا کا پتلا ہے اور اس سے غلطیاں سرزد ہوتی رہتی ہیں۔ سب سے پہلے تو غلطی ہوجانے پر اسے تسلیم کریں اور آئندہ وہی غلطی نہ دہرانے کا وعدہ یا ارادہ کریں، ساتھ ہی غلطیوں سے سیکھیں اور کوشش کریں کہ وہ آپ کے جوش و جذبے کو کم نہ پڑنے دیں۔ پیشہ ورانہ زندگی میں ہر کسی کو بے شمار چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ ان پر قابو پانے کے دوران غلطیاں بھی کرتے ہیں۔ اگر آپ اپنے کام کی اخلاقیات کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو آپ کو ہر چیز میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ غلطیاں کم سے کم ہوں اور ان کا آپ کی کارکردگی پر منفی اثر نہ پڑے۔