• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بندرگاہ کسی بھی ملک کی تجارتی اور معاشی ترقی اور استحکام میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ پاکستان کو بھی اللہ تعالیٰ نے سمندری ساحلوں سے نوازا ہے جہاں پر تین بندرگاہیں ، کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر کی بندرگاہیں موجود ہیں۔ ان میں سے دو صوبہ سندھ اور ایک بلوچستان میں واقع ہے۔ لیکن کیا جانتے ہیں کہ صدیوں قبل جب کراچی کے نام سے کسی شہر کا سندھ میں وجود نہیں تھا اور نہ ہی آج کی طرح پاکستان میں جدید بندرگاہیں تھیں، اس وقت یہاں تین ایسی بندرگاہیں موجود تھیں جو آج قصہ پارینہ بن چکی ہیں۔ ذیل کی سطور میں ہم ان کے بارے میں مختصراً ملاحظہ کریں:

’’ستکاگن دڑو‘‘

ستکاگن دڑو ساحل سمندر سے تیس میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ سندھ سویلائزیشن کے زمانہ عروج میں جب یہ شہر آباد تھا تو اس وقت یہ سمندر کے کنارے واقع تھا، جس کی وجہ سے جہاز رانی اور سمندری راستے سے تجارت اور سفری ذریعے کے طور پر یہ نہایت موزوں تھا۔ اس زمانے میں اس کا شمار سندھ میں نقل و حمل کے بڑے ذریعے میں ہوتا تھا۔

ستکاگن دڑو کا اصل شہر ایک مضبوط قلعے کے اندرواقع تھا، جو 190 گز لمبا اور 113 گز چوڑا تھا جب کہ اس کی بنیادیں تیس فٹ موٹی تھیں، جو ’’ادھ گھڑ ‘‘ پتھروں کو گارے میں جماکر بنائی گئی تھیں۔ دیوار اندر سے ڈھلوان تھی اور اس میں جگہ جگہ حفاظتی برج بنے ہوئے تھے، دیوار کی بلندی کم از کم پچیس فٹ تھی۔ 

داخلی دروازہ نہایت تنگ تھا اور اس کے دونوں اطراف حفاظتی چوکیاں بنی ہوئی تھیں۔ اس میں پختہ عمارتیں تھیں، جو یقیناً ً محافظوں کی رہائش گاہیں ہوں گی جب کہ قلعے سے باہر بھی ایک بستی آباد تھی۔ ستکاگن دڑو کی کھدائی کے دوران جو ظروف برآمد ہوئے وہ سندھ کی قدیم تہذیب و ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں ۔

’’بالاکوٹ‘‘

خیبر پختون خوا میں واقع بالاکوٹ شہر سے تو آپ واقف ہی ہوں گے جو سکھوں کے خلاف سید احمد شہید اور ان کے بھائی اسماعیل شہید کی جدوجہد کے حوالے سے معروف ہے لیکن یہاں ہم جس بالاکوٹ شہر کے بارے میں بتارہے ہیں وہ چند صدی قبل کراچی سے 45 میل دور شمال مغرب میں سون میانی کے قریب واقع تھا۔ اس مدفون شہر کے صرف کھنڈرات ہی باقی رہ گئے ہیں۔ مگر جب یہ شہر آباد تھا تو ساحل سمندر کے قریب تھا مگر ارضیاتی تغیرات کی وجہ سے سمندر دور ہٹتا گیا۔ اس کا شمار سندھ کی مصروف بندرگاہوں میں ہوتا تھا۔ کھنڈرات کی کھدائی کے دوران قدیم قلعہ اور شہر کی باقیات بازیاب ہوئی ہیں۔

’’سوتکا کوہ’’

پسنی سے آٹھ میل شمال کی جانب سمندر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ’’سوتکا کوہ ‘‘ شہر کے آثار دریافت ہوئے ہیں۔ اس دور میں سمندر کے کنارے ایک بندر گاہ بھی واقع تھی۔ یہ بھی ایک قلعہ بند شہر تھا، اس کی کھدائی کے دوران جو نوادرات دریافت ہوئے ہیں، وہ قدیم سندھی تہذیب کی عکاسی کرتے ہیں جب کہ چند میں بلوچستان کی ثقافت کی جھلکیاں ہیں۔